عالم اور عالم میں 2سالہ بچی کے قاتل جعلی عامل کے روح فرسا انکشافات
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جیو کے شہرہ آفاق پروگرام عالم اور عالم کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ اپنے پروگرام کے توسط سے لوگوں کو فقہی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنے کے علاوہ معاشرے کی بے رحمی اور درندگی پر مبنی روح فرسا واقعات کو بھی منظر عام پر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کا شعور بیدار ہو اور اور وہ معاشرے کے تلخ حقائق سے آشنا ہوسکیں۔ اس سلسلے میں دو سالہ بچی منتشا نور کے بہیمانہ قتل میں ملوث سفاک جعلی عامل کے انکشافات اور مقتولہ کے والدین کے تاثرات پر مبنی عالم اور عالم کا خصوصی پروگرام گزشتہ روز سرجانی ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے نشر کیا گیا جسے دیکھ کر ناظرین آبدیدہ ہوگئے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے قید غلام مصطفی نامی جعلی عامل نے اپنے سیاہ کرتوتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کالا علم کرتا ہے اور کئی موکل اس کے قبضے میں ہیں تاہم وہ میزبان کے کسی بھی سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ اس دوران پولیس نے جعلی عامل کی تحویل سے برآمد ہونے والا سامان بھی دکھایا جس میں پتلے، سوئیاں، کیلیں، کافور اور اسی نوع کی دیگر اشیاء شامل تھیں۔ میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے دو ہفتے قبل جعلی عامل کی سفاکیت کا نشانہ بننے والی معصوم بچی کے والدین نے بتایا کہ وہ اپنی بچی کو تفریح کی غرض سے جھولا جھلانے لے گئے تھے جہاں مذکورہ عامل نے بتایا کہ ان کی بچی پر برے اثرات ہیں اور وہ اس کا علاج کرسکتا ہے بعدازاں اس نے بچی کو سیندور اور کافور ملا پانی پلایا جسے پی کر بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ انہوں نے اپیل کی کہ جعلی عامل کو ایسی عبرتناک سزادی جائے کہ جسے دیکھ کر دوسرے عبرت پکڑیں اور آئندہ کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے۔ اس دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور بچی کے والدین کی اشکباری نے وہاں موجود لوگوں کو بھی آبدیدہ کردیا۔ پروگرام کے دوران ڈی ایس پی جاوید عباس نے روح فرسا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جعلی عامل اس سے پہلے بھی دو تین بچیوں کو اپنے سیاہ علم کی بھینٹ چڑھا چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جعلی عاملوں کے ساتھ ضعیب الاعتقاد افراد بھی ایسے واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ اس المناک واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم شعبدے بازیوں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں، جب کوئی اللہ کو چھوڑ کر نام نہاد عاملوں سے رجوع کرتا ہے تو ایسے روح فرسا واقعات سامنے آتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے جان وایمان سے کھیلنے والے اس دنیا کے قانون سے اگر بچ بھی جائیں تو اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے ایسے جعلی عاملوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کی بھی اپیل کی۔ ضعیف الاعتقادی پر مبنی تصورات پر روشنی ڈالتے ہوئے ممتاز عالم دین مفتی عمران الحق کلیانوی نے کہا کہ ضعیف الاعتقادی کمزور ایمان کی علامت ہے، ان کا کہنا تھا کہ جہالت کی وجہ سے جعلی عاملوں کے کاروبار پھل پھول رہے ہیں جو عزتوں کو پامال کرتے ہیں اور معصوم لوگوں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سورة الفلق اور سورة الناس جادو کا بہترین توڑ ہے، ان خوبصورت آیات کی موجودگی میں لوگوں کو کسی اور سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے دکھی والدین کو دلاسہ دیتے ہوئے انہیں محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن میں مستقل ملازمت کی نوید بھی سنائی۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat