کراچی(اسٹاف رپورٹر)جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اور عالم میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے جید علمائے کرام نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی صادق و امین نہیں، عام انسان اس معیار پر پورا نہیں اتر سکتا،یہ اصطلاحات صرف اور صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر صادق آتی ہیں۔ ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اورممتازعالم دین مفتی ابراہیم قادری اورجامعہ دارالخیرکے مہتمم مفتی عثمان یار خان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں ظاہر کا مکلف بنایا ہے اور تجسس و ٹوہ لینے سے منع فرمایا ہے، جو شخص بری شہرت کا حامل ہو اسے انتخابی عمل سے خارج کردینا چاہیے تاہم کوئی شخص امانت ودیانت کے اُس پیمانے کو نہیں چھوسکتا جورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم فرمایاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خراب کارکردگی کی حامل جماعتوں کے امیدوار بھی صداقت ودیانت کی کسوٹی پر کھرے نہیں اترتے لہٰذا ان کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔بعدازاں اسٹوڈیومیں موجود جید علمائے کرام نے ناظرین کے سوالات کے براہ راست جوابات بھی دےئے۔فرقہ واریت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مفتی ابراہیم قادری نے کہا کہ اپنے فرقے کو دیگر فرقوں سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسے بزور مسلط کرنے کی کوشش فرقہ واریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کی وجہ سے سانحات جنم لیتے ہیں جبکہ اس حوالے سے مفتی عثمان یار خان کاکہنا تھا کہ جہاں دلائل ختم ہوجاتے ہیں وہاں ہتھیار سامنے آتے ہیں۔ اتحاد کے دائرے میں رہ کر اختلاف کرنا برا نہیں تاہم شدت پسندی سے گریز کرنا چاہیے۔ معاشرے میں جعلی عاملوں کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوز پر انہوں نے کہاکہ جعلی عامل معاشرے کا ناسور ہیں، دیواریں سیاہ کرنے والوں کا دل بھی سیاہ ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں ٹونہ ٹوٹکا کرنے والوں کی سزا موت ہے۔دریں اثناء پروگرام کے آغاز میں قرآن و احادیث کے مستند حوالہ جات کے ساتھ اپنے پراثر اور مدلل ابتدائیے میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ ہمیں ایسے جملوں کی ادائیگی سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے شان الوہیت میں تنقیص کا کوئی پہلو نکلے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیامیں بھی آج کل غیر محتاط گفتگو فروغ پارہی ہے اوربعض افراد کا لب و لہجہ بے ادبی کی حدوں کو چھونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشست و برخاست کے آداب فراموش کردیے گئے ہیں اور سبقت لسان کی وجہ سے ایسے جملے ادا ہوتے ہیں جو گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat





رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی صادق و امین نہیں ،علمائے کرام

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اور عالم میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے جید علمائے کرام نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی صادق و امین نہیں، عام انسان اس معیار پر پورا نہیں اتر سکتا،یہ اصطلاحات صرف اور صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر صادق آتی ہیں۔ ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اورممتازعالم دین مفتی ابراہیم قادری اورجامعہ دارالخیرکے مہتمم مفتی عثمان یار خان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں ظاہر کا مکلف بنایا ہے اور تجسس و ٹوہ لینے سے منع فرمایا ہے، جو شخص بری شہرت کا حامل ہو اسے انتخابی عمل سے خارج کردینا چاہیے تاہم کوئی شخص امانت ودیانت کے اُس پیمانے کو نہیں چھوسکتا جورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم فرمایاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خراب کارکردگی کی حامل جماعتوں کے امیدوار بھی صداقت ودیانت کی کسوٹی پر کھرے نہیں اترتے لہٰذا ان کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔بعدازاں اسٹوڈیومیں موجود جید علمائے کرام نے ناظرین کے سوالات کے براہ راست جوابات بھی دےئے۔فرقہ واریت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مفتی ابراہیم قادری نے کہا کہ اپنے فرقے کو دیگر فرقوں سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسے بزور مسلط کرنے کی کوشش فرقہ واریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کی وجہ سے سانحات جنم لیتے ہیں جبکہ اس حوالے سے مفتی عثمان یار خان کاکہنا تھا کہ جہاں دلائل ختم ہوجاتے ہیں وہاں ہتھیار سامنے آتے ہیں۔ اتحاد کے دائرے میں رہ کر اختلاف کرنا برا نہیں تاہم شدت پسندی سے گریز کرنا چاہیے۔ معاشرے میں جعلی عاملوں کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوز پر انہوں نے کہاکہ جعلی عامل معاشرے کا ناسور ہیں، دیواریں سیاہ کرنے والوں کا دل بھی سیاہ ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں ٹونہ ٹوٹکا کرنے والوں کی سزا موت ہے۔دریں اثناء پروگرام کے آغاز میں قرآن و احادیث کے مستند حوالہ جات کے ساتھ اپنے پراثر اور مدلل ابتدائیے میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ ہمیں ایسے جملوں کی ادائیگی سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے شان الوہیت میں تنقیص کا کوئی پہلو نکلے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیامیں بھی آج کل غیر محتاط گفتگو فروغ پارہی ہے اوربعض افراد کا لب و لہجہ بے ادبی کی حدوں کو چھونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشست و برخاست کے آداب فراموش کردیے گئے ہیں اور سبقت لسان کی وجہ سے ایسے جملے ادا ہوتے ہیں جو گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat