Khooni Inqalab Pakistan - Wasi SHah - 19th April 2013

برسوں پہلے بھٹو صاحب کو قتل کے ایک مقدمے میں پھنسا کر ان کا عدالتی قتل کر دیا گیا پھر ان کے صاحبزادے مرتضیٰ بھی قتل ہو گئے پھر بے نظیر بھی قتل ہو گئیں۔ میاں نواز شریف موت کے چنگل میں پھنس گئے تھے مگر تاجرانہ وکاروباری صلاحیتیں کام آئیں اور کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر جان بچا کر برسوں ملکوں ملکوں مارے مارے پھرتے رہے ۔
بشیر بلور صاحب کچھ عرصہ قبل ہلاک کر دیے گئے غلام احمد بلور صاحب قاتلانہ حملے میں بال بال بچے ثناء اللہ زہری صاحب خود تو محفوظ رہے مگر اپنے بھائی بیٹے اور بھتیجے کو کھو بیٹھے۔
یہ میں نے چند بالکل سامنے کی اور بیشتر حال وماضی قریب کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کیں جن سے اس ملک کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔
مسلم لیگ ن ہو ، پاکستان پیپلز پارٹی ، MQMیا ANP یا پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتیں یا کچھ اہم ادارے ان میں سے بیشتر کی تاریخ مشکلات اور خون سے عبارت ہے۔ وہ پارٹیاں یا اہم سیاسی خاندان جن کے افراد، جن کے پیارے پاکستان میں قتل ہوئے یقیناًان کے دل دکھوں سے لبریز ہوں گے بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گردی کی جنگ میں جاں بحق ہونے والے تقریباً پچاس ہزار کے قریب پاکستانیوں کے عزیزوں کے دل دکھوں سے غموں سے بھرے ہوئے ہیں۔ موت چاہے ذوالفقار عل بھٹو کو آئے یا ذوالفقار علی مکینک کوسب سے ایک جیسا سلوک کیا کرتی ہے اور لواحقین ایک جیسے کرب سے گزرا کرتے ہیں۔
شاید یہی وہ مواقع ہوا کرتے ہیں جب اشرافیہ چند لمحوں کے لیے پاکستانیوں پر بیتتے ہوئے اس دکھ کو محسوس کرتی ہو گی جو اپنے پیاروں سے بچھڑنے پر کسی کو جھیلنا پڑتا ہے۔ ورنہ عام آدمی بھوک افلاس غربت کے باعث روز جس طرح سو بار جیتا ہے سو بار مرتا ہے پاکستان کی سیاسیہ واشرافیہ کو اس کا ایک فیصد بھی نہ ادراک ہوتا ہے نہ احساس ۔ لیکن افسوس صد افسوس چاہے نواز شریف فیملی ہو جو نواز شریف کو موت کے چنگل سے نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئی تھی یا بھٹو اور بے نظیر کو کھونے والے ان کے ورثاء یا انہی دونوں کے مانند اپنے اپنے علاقوں کے دیگر طاقتور سیاسی خاندان، یا مختلف طاقتور اداروں کے وہ لوگ جنہوں نے اس سارے عرصے میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے ان میں سے کسی کے بھی رویے ، بود وباش ،رہن سہن، طرزِ عمل، ٹیکس چوری، بنک اکاؤنٹس ، بڑھتی ہوئی پراپرٹیوں کی تفصیلات سے نہیں لگتا کہ اتنا کچھ کھونے کے باوجود مشکلات سے گزرنے کے باوجود بھی ان میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زرداری صاحب پر بے نظیر کو کھونے کے بعد ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہ لگتا۔ میاں برادران جس مشکل سے بچ نکلے تھے اس کے بعد درویشوں کا ساطرز عمل سامنے آتا۔ اسی طرح دیگر سیاسی خاندان یا وہ ادارے جنہوں نے اپنے اہم افراد کو کھویا ان سب کے رویوں میں تبدیلی آتی اور یہ سب جان پاتے کہ یہ جو آگ اب ان کے گھروں کو جلانے لگی ہے یہ ان کی اپنی کرپشن، اقرباء پروری، موروثی سیاست کی وجہ سے معاشرے میں پھیلی ہے۔ پہلے یہ عام پاکستانیوں کو نگل رہی تھی اب محلات میں رہنے والوں، سینکڑوں گاڑیوں اور گارڈز کے قافلے میں خود کو محفوظ سمجھنے والوں کو جلا رہی ہے کیونکہ یہ آگ معاشرے میں پھیلی ہی اس لیے ہے کہ اشرافیہ، بڑے سیاسی خاندانوں اہم اداروں کے عہدیداروں میں سے کسی نے کبھی پاکستان اور عام پاکستانی کا نہیں سوچا۔ کرپشن کی، لوٹ مار کی، اقرباء پروری کی ، میرٹ کی دھجیاں اڑائیں، اہل لوگوں کا حق غصب کر کے اپنے عزیزوں رشتے داروں، بھائیوں، بیٹوں، بیویوں، بہنوں، کزنز اور احباب کو ان عہدوں پر بٹھایا جس کے وہ قابل نہیں تھے۔ نتیجتاً بھوک افلاس بڑھی، ، جرم بڑھا، جہالت، ناخواندگی بڑھی اور ان سب محرومیوں نے برسوں میں اس آگ کو اب ایک ایسے لاؤ ایسے بھانبھڑ میں تبدل کر دیا ہے جس کا سینک پاکستان کے اہم ادارے بھی محسوس کر رہے ہیں اور نام نہاد اہم خاندان، اہم لوگ، اہم خانوادے سبھی اس میں جُھلسے جا رہے ہیں۔
مگر اس الیکشن میں خیبر سے گوادر تک، نائن زیرو سے رائے ونڈ تک کسی ایک کے بھی رویے سے نہیں لگتا کہ وہ یہ سمجھ پایا ہے کہ یہ جو آگ اس ملک میں عام آدمی کو جلا دینے کے بعد اب اشرافیہ کی طرف بڑھ رہی ہے یہ ان کی اپنی ہی لگائی ہوئی ہے۔ افسوس پاکستان کے سیاستدانوں، بیوروکریٹوں، اسٹیبلشمنٹ کے اہم لوگوں نے اپنی مال وجاہ وطاقت کی ہوس کی آگ بجھانے کیلئے اس ملک کے لوگوں کو اس آگ میں نہ دھکیلا ہوتا جس میں پاکستان پاکستانی اور آج خود ان کے اپنے ہی گھر جل رہے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ وہ پرائیویٹ محافظوں کے ذریعے یا محلات کے گرد حفاظتی حصار کھڑ ے کر کے اس سے محفوظ رہ لیں گے وہ جان لیں کہ جب تک پاکستان میں عام آدمی مستری، مزدور، کسان محفوظ نہیں ہو گا۔۔۔ خوشحال نہیں ہو گا، اسے تعلیم، روزگار امن، زندگی کی بنیادی سہولیات نہیں ملیں گی ، انصاف نہیں ملے گا میرٹ نہیں ملے گا اور جب تک اس کے دل اور گھر میں لگنے والی بھوک افلاس بے روزگاری جہالت کی آگ ٹھنڈی نہیں پڑے گی،جمعیت علماء اسلام سے لے کر جماعت اسلامی تک ایم کیو ایم سے لے کر مسلم لیگ ن تک ۔۔۔ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف تک مسلم لیگ ف سے مسلم لیگ ق تک اور جج بیوروکریٹ سے فوجی عہدیدران تک صنعت کاروں سے لے کر طاقتور صحافیوں تک سب کو یہ آگ جلاتی رہے گی۔ عام پاکستانی مرے گا تو اب نام نہاد اہم پاکستانی بھی مریں گے۔ اگر اہم پاکستانیوں کو مرنے سے اور اس آگ میں جلنے سے بچنا ہے تو اہم پاکستانیوں!!! عام پاکستانیوں کو غربت، افلاس، بھوک بے روز گاری جہالت کی آگ سے بچاؤاقرباء پروری کے بجائے عدل ، انصاف اور میرٹ کو رائج کرو ورنہ ۔۔۔لوگ انقلاب فرانس، لیبیا اور تیونس کو بھول کر آئندہ انقلابِ پاکستان کی مثالیں دیا کریں گے۔۔۔خونی انقلابِ پاکستان کی مثالیں۔۔۔