شریعت کورٹ کے جج، جسٹس شہزاد و شیخ پر مشتمل۔ لال مسجد کمیشن۔ کی رپورٹ میں، اسلام آباد کی لال مسجد میں کئے جانے والے ۔"Operation Sunrise"۔ کا ذمہ دار، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ، سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز اور اُس وقت برسراقتدار (مسلم لیگ ق سمیت) اقتدار میں شریک اتحادی جماعتوں کو ٹھہراتے ہُوئے، فوج کو آپریشن سے بری اُلذّمہ قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ۔ لال مسجد آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف، قتل کے مقدمات قائم کئے جائیں اور سابق حکمرانوں پر زور دیا جائے کہ وہ آپریشن میں جاں بحق ہونے والے،103افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ۔ ہتھیاروں کے کم از کم استعمال کے نتیجے میں ،فوج کو جانی نقصان بھی اٹھا نا پڑ ا،کیونکہ عسکریت پسند بلا اشتعال فائرنگ اور خود کُش حملوں کے لئے مکمل طور پر تربیت یافتہ تھے ۔ فوج صِرف اُس وقت فائرنگ کرتی تھی، جب لال مسجد کے اندر سے فائر ہوتا ۔ اِس آپریشن میں 11سیکورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ۔ رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ۔ مُلک میں آبادی کے تناسب سے، مدارس ، مساجداورمساجد میں قائم مدرسوں کی تعداد میں اضافہ کِیا جائے اور اگر ہو سکے تو مدرسوں کے نصاب میں جدید علُوم بھی شامل کئے جائیں ۔جسٹس شہزادو شیخ کا تعلق بنیادی طور پر، انفارمیشن گروپ سے ہے ، لیکن وہ مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ مذاہب ِ عالم پر اُن کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ میرے دو دوستوں ، لندن میں 1983ءسے مقیم ،پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رُکن اور نامورصحافی سیّد علی جعفر زیدی اور سابق وفاقی سیکرٹری انفارمیشن سلیم گُل شیخ کی وجہ سے ،گذشتہ کئی سالوں سے، جسٹس شہزاد و شیخ سے میرے سماجی تعلقات ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی کتابیں بھی پڑھنے کو دی تھیں اور مَیں اُن کا بے حداحترام بھی کرتا ہوں ، لیکن میرے خیال میں لال مسجد آپریشن کے بارے میں اُن کی رپورٹ میںبہت سی باتیں وضاحت طلب ہیں ۔ سب سے پہلے ہمیں اِس بات کا پتہ چلانا ہوگا کہ آخر 3جولائی 2007ءکو لال مسجد کے مکینوں کے خلاف، فوج کو آپریشن کیوں کرنا پڑا ؟۔ یہ بات تو، جسٹس شہزادو شیخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ۔ لال مسجد پر قابض عسکریت پسند۔ بلا اشتعال فائرنگ اور خودکُش حملوں کے لئے، مکمل طور پر تربیت یافتہ تھے اورفوج نے اُس وقت فائرنگ کی جب، لال مسجد کے اندر سے، اُس پر فائرنگ ہوتی تھی۔ آپریشن سن رائز ۔ کا پس منظر یہ ہے کہ ۔ اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز اور نائب خطیب (اُن کے بھائی) مولاناعبد الرشید غازی مسجد میں ،حکومت کے ملازم تھے ۔ اُن سے پہلے، اُن کے والد مولانا عبد اللہ لال مسجد کے خطیب تھے ، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا ۔ ( قومی اخبارات اور مختلف نیوز چینلوں کی رپورٹیں شاہد ہیںکہ) ۔ مولانا عبدالعزیز نے ۔6اپریل 2007ءکو ۔ نظام ِ اسلام اور شرعی عدالت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو وارننگ دی تھی کہ ۔اگر اُس نے ایک ماہ کے دوران ،نفاذشریعت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور لال مسجد اور اُس سے ملحقہ جامعہءحفصہ کی انتظامیہ، طلبہ ا ور طالبات کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو ،اُس کے جواب میں فدائی حملے ہوںگے۔انہی دِنوں ( اُس دور کے) ۔ وفاقی وزیرِ مذہبی امور، جناب اعجاز الحق کا یہ بیان کئی بار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آیا جِس میں انہوں نے کہا تھا کہ ۔ مولاناعبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی۔ 2004ءمیں دہشت گردی میں ملّوث تھے ، لیکن میں نے صدر جنرل پرویز مشرّف سے درخواست کر کے انہیں معافی لے دی تھی۔ دونوں بھائیوں نے تو بہ کر کے حکومتِ پاکستان کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ آئندہ کوئی قابلِ اعتراض حرکت نہیں کریں گے۔15اپریل 2007ءکو روزنامہ۔ جنگ۔ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ۔ خُفیہ اداروں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ۔ اگر لال مسجد اور جامعہءحفصہ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو، خودکُش حملے ہو سکتے ہیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ۔ لال مسجد والوں کے بیت اللہ محسود سے روابط ہیں اور اسلام آباد ائر پورٹ اور اسلام آباد ہوٹل میں خود کُش حملے کرنے والوں کا تعلق، لال مسجد سے ملحقہ مدرسے سے تھا ۔خُفیہ اداروں کی اِس رپورٹ کی اشاعت کے بعد۔ 17اپریل 2007ءکو پشاور میں وفاق اُلمدارس ، جمعیتِ عُلماءاسلام کے دونوں گروپوں اور دیگر مذہبی تنظیموں کے ایک کنونشن کے اختتام پر، ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ۔ فاٹا سے لال مسجد تک ،نفاذِ شریعت کے تمام اعلانات اور خودکُش حملے غیر شرعی ہیں اور حجاموں ، ویڈیو کیسٹوںاور سی ڈیزفروخت کرنے والی دُکانوں کو تباہ کرنا اور تعلیمی اداروں کو دھمکی آمیز خطوط لِکھنا خانہ جنگی کی کوشش ہے۔اِس سے قبل12اپریل 2007ءکو، مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کا یہ بیان قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر آیا تھا کہ ۔ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی سے کئی بار مذاکرات ہُوئے ۔ اُن کا اِصرار ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرّف فوری طور پر پاکستان میں شریعت نافذ کر دیں۔ لال مسجد کے مکینوں کے خلاف آپریشن پر۔( اُن دنوں فعال اور متحرک)۔متحدہ مجلس عمل کے صدر ،قاضی حسین احمد ( مرحوم) سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن اور رُکن مولانا عبدالغفور حیدری نے 12 جولائی 2007ءکو، اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ۔ لال مسجد اور جامعہءحفصہ پر بمباری ، امریکی مفادات کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو ۔شہید۔ نہیں کہا جا سکتا۔ جسٹس شہزادو شیخ نے متذکرہ بالا مذہبی لیڈروں سے اختلاف کرتے ہُوئے ،لال مسجد میں آپریشن کرنے والے، فوجی افسروں اور جوانوں کو شہید تسلیم کرتے ہیں۔یہ درست ہے کہ پاکستان ۔ اسلام ۔ کے نام پر قائم ہُوا تھا ،لیکن مصّورِ پاکستان نے ۔ اجتہاد، کا حق مسلمان مُلک کی منتخب قومی اسمبلی کو دیا تھا ۔ اجتہاد کے اِسی حق کو استعمال کرتے ہوئے اتا تُرک مصطفےٰ کمال پاشا کی قیادت میں ،تُرکیہ کی گرینڈ اسمبلی نے ۔ خلافت کا نظام ۔ختم کر دیا تھا اور 1974ءمیں پاکستان کی منتخب قومی ا سمبلی نے ( جِن میں عُلماءکی تعداد بہت کم تھی ) قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا ۔ا ِس لحاظ سے، کسی بھی مسجد کے خطیب یا مدرسے کے منتظم کو طاقت کے زور پر، اپنی مرضی کے مطابق، نفاذ ِ شریعت کا اختیار نہیں دیا جا سکتا ۔ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی کا از خود نفاذِ شریعت کا اعلان صحیح نہیں تھا ۔ جسٹس شہزادو شیخ کی سفارش پر ،بے شک مسجدوں اور مدرسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، اور اُن میں جدید علوم بھی پڑھائے جائیں ،لیکن تمام مدرسوں میں ۔ مطالعہ پاکستان۔ کا مضمون بھی لازمی قرار دیا جائے ۔ طلبہ اور طالبات کو دو قومی نظریہ کے علمبرداروں ،سر سیّد احمد خانؒ ، علامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کی قومی خدمات کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا جائے ۔ پاکستان۔ ایک شخص ایک ووٹ۔ کی بنیاد پر قائم ہُوا تھا ۔ جمہوریت اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں ۔اس لحاظ سے نفاذ ِ شریعت کا اختیار صِرف اور صِرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔ لال مسجد آپریشن کے ذمہ داروں کو جُرم ثابت ہونے پر سزا ضرور دیں ،لیکن اِس بات کی گارنٹی بھی ہو کہ آئندہ کسی مسجد کا خطیب یا اُس سے مُلحقہ مدرسے کا منتظم ، عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل کر کے ، پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لئے، حکومت کو الٹی میٹم نہ دے سکے تاکہ پاکستان کی بنیاد ۔ جمہوریت ۔ کی صف نہ لپیٹی جا سکے۔