ضامنوں نے پرویزمشرف کو بہت جلد محفوظ راستہ فراہم کرنے کا یقین دلادیا،بیماری کا بہانہ بناکر باہر بھیج دیاجائے گا...تجزیہ: ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

کراچی: طاقت ورممالک کی یقین دہانیوں کے بعد اچانک پاکستان آدھمکنے والے پرویز مشرف کیلئے گو کہ اِس وقت فضا ہموار نہیں ہے لیکنضامنوں نے اُنہیں یقین دلادیا ہے کہ بہت جلد اُنہیں محفوظ راستہ فراہم کردیا جائے گا جس کے بعد وہ بیماری کا بہانہ بنا کر پاکستان سے فی الفور روانہ ہوجائیں گے اور یوں عدالت سے بھاگنے والا ملک سے بھی سیکیوریٹی حصار میں عملاً بھاگ جائے گا۔اپنے ہی گھر کے آرام دہ کمرے میں ایئرکنڈیشن ،ٹی وی اور من پسند کھانوں کے مزے لوٹنے والے اِس انوکھے قیدی پر جیل مینوئل کی سختیاں اس لئے بھی اثر انداز نہیں ہوسکتیں کیونکہ مداخلت کار بار بار انتظامیہ کو یہ یاد دہانیاں کراتے رہتے ہیں کہ فی الحال زیر عتاب شخص ماضی میں صرف دو بڑے عہدوں پرہی فائز نہیں تھا بلکہ آج انتظامیہ میں موجود متعدد افسران اِسی شخص کی مرہونِ منت کاندھوں پر ستاروں کی چمک لیے تمتماتے پھرتے ہیںمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کی یہ کوشش ہے کہ ملزم کے میڈیکل چیک اپ کے ذریعے وہ کسی بھی طرح من پسند رپورٹس حاصل کرلیں تاکہ 70سالہ ضعیف ملزم کو طبی بنیادوں پر ملک سے بآسانی روانہ کیا جاسکے ۔اسلام آباد کے انتہائی مؤثق حلقوں کے مطابق گذشتہ دنوں جنرل اشفاق پرویز کیانی کا یہ بیان کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے دراصل اُن شاکی افراد کو یہ بآور کرانے کی کوشش تھی کہ فوج ،مشرف کے معاملے میں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کے ساتھ ہے اوروہ قانون و انصاف سے ماورا کسی بھی اقدام کی حمایت کرنے سے گریز کرے گی لہٰذا اِن چہ میگوئیوں کی اب کوئی جگہ نہیں رہنی چاہیے کہ مسلح افواج اپنے سابق سربراہ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے دوسری جانب بعض سیاست دانوں کی جانب سے پنڈورا بکس کھل جانے کے خدشات دراصل خود اُن کا اپنے گناہوں سے اظہارِ خوف ہے جو اُنہوں نے مشرف دور میں کھل کر کیے اور اب سابق آمر کی پکڑ کی گرفت وہ اپنی گردن پر بھی محسوس کررہے ہیں۔نگراں حکومت کی جانب سے مشرف کے خلاف آرٹیکل6 کے تحت کارروائی سے یہ کہہ کر انکار کہ یہ نگراں حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے اُن نظر رکھنے والوں کے لیے یہ سوال اُٹھانے کو کافی ہے کہ کیا پھر نگراں حکومت کا مینڈیٹ اپنے بیٹے کو کینیڈا سے بلا کر قواعد کے برخلاف ترقی دلوانا رہ گیا ہے بہرحال نگراں حکومت کی حد تک فیصلے کچھ بھی کیے جائیں مگر یہ فیصلے دراصل اُن کے نہیں ہیں اور انتخابات سے پہلے پہلے مشرف کی بحفاظت روانگی کا ریڈ کارپٹسجائے جانے کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں،اِس وقت کوئی بھی اسٹیک ہولڈرسابق ڈکٹیٹر کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ تقریباسب ہی نے ماضی میں ملزم کی ذات سے بھرپور فائدے اُٹھائے ہیں، چاہے وہ این آر او زدہ سابقہ حکومت اور اُس کے اتحادی ہوں یااِس وقت الیکشن میں حصہ لینے والے وہ بیشتر اُمیدوار جو مختلف جماعتوں کی چھتر چھایا میں اپنی مشرف سے وابستگی چھپاکر اجلے بنے ہوئے ہیں،سب ہی کی یہ دعا ہے کہ مشرف پاکستان سے چلے جائیں تاکہ اُن کی عزتیں محفوظ رہیں اور اب یہ ممکن ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے ،آئندہ چند دنوں میں عوام دیکھیں گے کہ ایک بار پھر طاقت،دباؤ،مصلحت اور قومی مفاد جیسے آزمودہ لفظوں کا سہارا لے کر چپ چاپ پرویز مشرف کو اُن کے ضامنوں کی طرف روانہ کردیا جائے گااور احتساب کے خواب کی کرچیاں عوام اور منصفین اپنی روح پر چبھتی محسوس کریں گے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat