چیف جسٹس صاحب میری بہن کو واپس لے آئیے، ڈاکٹرفوزیہ صدیقی کی اپیل
عالم اور عالم میں ڈاکٹرعامر لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے دستبردارہونے کااعلان


کراچی(اسٹاف رپورٹر)امریکی عقوبت خانے میں قیدڈاکٹرعافیہ صدیقی کی بہن اورعافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے جیو کے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اور عالم میں ڈاکٹرعامر لیاقت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 250سے دستبردارہونے کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اِس حلقے سے سابق صدر مشرف کی نااہلی کے بعد وہ بلامقابلہ ہی منتخب ہوگئی ہیں لہٰذا انتخابات میں حصہ لینے کا جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سیاست کا کوئی شوق نہیں ہے صرف عافیہ کی رہائی کے پیغام اور اہل وطن کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ تھا۔ کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے سے الیکشن میں کھڑے ہونے کے فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ سابق آمر مشرف یہاں سے انتخاب لڑ رہا ہے تو اُن کے مدمقابل کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہر فورم پر ان کا تعاقب کرنا چاہتی تھی حتیٰ کہ چترال تک سے الیکشن لڑنے پر آمادہ تھیں جہاں سے وہ الیکشن لڑرہے تھے مگر جب قدرت کی لاٹھی حرکت میں آئی اور انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تو اب میرے الیکشن لڑنے کا جواز باقی نہیں رہا لہٰذا میں دستبردار ہورہی ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کا لالچ نہیں اوربیشتر مواقع پر ا نہیں پرکشش عہدوں کی پیشکش کی گئی، ہر بڑی سیاسی جماعت نے شمولیت کی دعوت دی مگر انہوں نے رد کردی۔ڈاکٹر عامر لیاقت سے گفتگو کے دوران عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے چشم کشاانکشاف کرتے ہوئے انہوں نے بتا یاکہ امریکا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کرنا چاہتا تھااور یہ پیشکش بھی کی تھی کہ وہ باقی سزا پاکستان میں کاٹ لیں، امریکی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ضروری کاغذی کارروائی بھی مکمل کرلی تھی ،پاکستانی وزیر قانون نے میمورینڈم بھی تیار کیا تھا،اور عافیہ نے اس پر دستخط بھی کردےئے تھے مگر پھر پاکستانی حکام نے ساری کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے اسے قانونی موشگافیوں کی نذر کردیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ عالم اور عالم میں حقائق اور انکشافات پر مبنی ان کی گفتگو کو جواز بنا کر ازخود نوٹس لیں کہ امریکی حکام کی عافیہ کو باقی سزا پاکستان کاٹنے کی پیشکش کے باوجود آخر وہ کون سی ایسی رکاوٹ تھی کہ پاکستانی حکومت نے سارے معاملے کو عدم دلچسپی کی نذر کردیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مشن میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق صدر مشرف نے اپنی سوانح حیات اِن دی لائن آف فائر میں بھی عافیہ صدیقی کے حوالے سے اپنی غفلتوں کے اعترافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ پاکستانی حمیت کی علامت ہے۔ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا اور جس طرح سبز پاسپورٹ کی تذلیل کی گئی وہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ شہریوں کی بے توقیری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد سے دنیا کو یکہ پیغام ملے گا کہ اب کوئی اور عافیہ فروخت نہیں کی جائے گی۔ انتخابات سے ان کی دستبرداری پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ کی کردار کشی کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے جوالزام لگاتے ہیں کہ وہ اقتدار کی خواہاں ہیں، انہیں عہدے کا لالچ نہیں بلکہ وہ مظلوم کے کیمپ سے ظالم کے خلاف کھڑی تھیں، جب وہ ظالم ہی نہ رہا تو وہ دستبردار ہوگئیں۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat