نئی دہلی (آن لائن) ممبئی *ملوں کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی *کومت نے دعویٰ کیاہے کہ افغان طالبان کا ان *ملوں سے تعلق تھا اور انکشاف کیا گیا ہے کہ *ملوں کی منصوبہ بندی کےلئے قائم کردہ تین تربیتی کیمپوں میں سے ایک کیمپ افغان طالبان چلا رہے ہیں۔ جبکہ لشکر طیبہ اور طالبان کے درمیان تعلقات اب واض* طور پر سامنے آچکے ہیں۔ *کومتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بھوٹان میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات ناگزیر نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق *کومتی ذرائع نے بتایاکہ افغانستان میں بھارت کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس *والے سے خدشات ہیں کہ وہاں طالبان کے کنٹرول *اصل کرنے کی صورت میں بھارت کی سیکورٹی پر براہ راست اثر پڑسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے بھارت کے افغانستان میں وسیع تر مفادات ہیں اور بھارت صورت*ال اور اپنی صلا*یتوں کے مطابق افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ دریں اثناءایک بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے مزید انکشاف کیاہے کہ پاک بھارت تعلقات پر غیر یقینی صورت*ال کے بادل منڈلا رہے ہیں جس کی وجہ سے شاید بھوٹان میں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات ناگزیر نہ ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف سے ممبئی *ملوں کے ملزمان کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کا واض* اشارہ چاہتا ہے۔



[bv1:to5ba8q4][/bv1:to5ba8q4]