سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و محبت ، ایمان کا لازمی اور بنیادی تقاضا
بشریٰ عامر
گزشتہ سے پیوستہ
حب رسول ﷺ، مومن کی پہچان: حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس رب کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے لیے اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائوں۔۔ صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور ان کی جانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائوں۔ اب ذرا سوچئے کہ کیا ہم مومن ہونے کی اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں؟ یا ہمیں ہمارا مال، ہماری اولاد، دنیا اور ہمارا رتبہ زیادہ محبوب ہیں؟ اگر ہاں تو پھر ہم کیسے اللہ کے ہاں مومن ٹھہرائے جائیں گے اور کیوں کر فلاح پائیں گے؟ حب رسول ﷺ یہ محض دو الفاظ نہیں، بلکہ وہ وعدہ اور دعویٰ ہے جس کے پورا کرنے پر رب ذو الجلال کی طرف سے بشارتیں ہی بشارتیں اور انعامات ہی انعامات ہیں ۔جس کے مستحق وہ تمام اہل بیتؓ، صحابہ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صحابیات ٹھہرے ہیں، جنہوں نے اپنی جان، مال ، اولاد اور اپنی ہر عزیز ترین چیز سے زیادہ اپنے آقا و مولا ﷺ کے فرمان کو عزیز جانا اور اپنی ساری زندگی فداک ابی و امی یا رسول اللہ ﷺ کہتے ہی گزار دی۔ آج اگر ہم حب رسول ﷺ کے دعوے دار ہیں تو ہمیں اپنی پوری زندگی نبی ﷺ کی اتباع اور سنت کی اقتدا میں گزارنی ہوگی اور اپنے ہر عمل کو اطاعتِ رسول ﷺ کے آئینے میں ڈھالنا ہوگا ورنہ حال کچھ یوں ہوگا:۔ خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا! یقیناََ ہم امت محمدی ﷺ کے وہ گل ہیں جن میں خووبوئے اطاعت رسول ﷺ سے ہی مہک ہے، ورنہ کہنے کو اک رنگ، جسے دیکھ کر گل کا گماں ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد کہ تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلو گے۔
آج معاشرے کی بگڑی ہوئی جو تصویر ہمارے سامنے ہے، اس کی وجہ رحمۃ اللعالمین ﷺ کے اس ارشادِ مقدس سے صاف ظاہر ہے جو شافعِ محشر ﷺ نے پہلے ہی بیان فرمادی اور جو ہمیں اپنے آپ کو جانچنے کا بہترین پیمانہ بھی ہے۔
حضرت ابو سعید خُدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلو گے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے برابر ہے اور ایک گز دوسرے گز کے برابر ہے، یہاں تک کہ اگر وہ گوھ کے بل میں گھسیں گے تو تم بھی ان کے پیچھے چلے جائو گے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا وہ یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور کون؟ (مسند احمد)
افسوس کہ آج بیش تر مسلمان ان پر چلنا فخر کا باعث جانتے ہیں، بڑے ذوق اور شوق سے ان کا لباس، ان کا انداز، ان کے تہوار اور ان کی تہذیب کو اپنی زندگیوں میں ڈھال کر اپنی نسلوں کو تباہ کرنے کا سامان کر بیٹھے ہیں، حالاں کہ ہمارے پاس وہ دین مکمل آچکا ہے کہ جس پر چل کر ہم اپنی دنیا و آخرت دونوں کو سنوار سکتے ہیں، مگر کیا کیجیے کہ اس دین حنیف پر چلنا، اب ہمیں مشکل لگتا ہے اور اپنے نبی ﷺ کی اطاعت میں گویا سرور نہیں ملتا۔ حالاں کہ ہم تو وہ خوش نصیب امت ہیں، جسے امت مرحومہ کہا گیا اور یہ اعزاز بھی ہمیں پیارے نبی ﷺ کی بدولت ملا، جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ ہم نے محض اپنی خواہشات کو اپنا سب کچھ سمجھ لیا جس نے ہمیں آخرت تو کیا دنیا کا بھی نہ چھوڑا اور آج جس کے نتیجے میں امتِ محمدی ﷺ کے دشمنوں کو سر اٹھانے کا موقع مل رہا ہے جس کا جی چاہتا ہے، دینی احکام پر تنقید اور نبی پاک ﷺ کی ذات ارفع و اعلیٰ پر اعتراض کرتا ہے اور ہم ایمان و محبت کی کمی اور علم سے دور ہونے کے سبب ان اعتراضات کو جوابات دینے سے معذور ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول برحق، شافع محشرﷺ نے فرمایا: میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی، مگر جو انکار کرے گا صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ وہ کون ہے؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ تو جنت میں جائے گا اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے انکار کیا۔ جب کہ اس دنیا کی حقیقت کیا ہے یہ بھی ہمیں واضح انداز میں فرمادیا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لذتوں کو مٹادینے والی موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرو۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ فرماتے ہیں: دو نعمتیں ایسی ہیں جس کی بابت لوگ خسارے میں ہیں۔ ایک تن درستی اور دوسری فراغت۔ آج ہر قسم کی عیش و عشرت حاصل ہوجانے کے بعد بھی جو انتشار ہے، اس کا سبب ہی نافرمانی ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود اپنے فرصت کے تمام لمحات اغیار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزار رہے ہیں، جو ایک دن ہمیں ایسی راہ پر لاکھڑا کرے گا کہ سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ یاد رکھیے کہ دل کی تاریکی کا علاج روشنی ہے اور یہ روشنی صرف اور صرف میرے اور آپ کے آقا و مولیٰ رسول کریم ﷺ ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اندھیروں میں بھٹکنا پسند کرتے ہیں یا اجالوں میں سستانا۔ بہتر ہے کہ اب یہ فیصلہ ہم خود ہی کرلیں کہ ہم کس طریق پر ہیں اور ہماری پہچان کیا ہے، آیا کہ ہم سنت رسول ﷺ کی پیروی کرنے والے اطاعت گذار ہیں یا پھر پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلنے والے؟ آج کے دور کے مسلمانوں کی تنزلی کا ایک اور سبب رحمۃ اللعالمینﷺ کی خوب صورت تعلیمات کو یکسر بھلا دینا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آج پھر اپنا کھویا ہوا وقار پا سکتے ہیں، ہم پھر سے اپنے اندر اس قوت کو بیدار کرسکتے ہیں جو پچھلی زندہ قوموں کا خاصہ رہی ہے اور اس کے لیے ہمیں وہ تمام چیزیں چھوڑنا ہوں گی جن سے نبی آخر الزماں ﷺ نے منع فرمایا اور وہ تمام باتیں ماننا ہوں گی جنہیں اختیار کرنے کا حکم ہمارے سرکار دو عالم ﷺ نے ہمیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ایک یہی سیدھا سا نسخہ ہے اور اسی کی بناء پر ہم دنیا اور اخرت میں سرخرو ہوسکتے ہیں، ورنہ تو ہمارے دامن میں روز آخرت شرمندگی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اللہ ہم سب کو اپنا سچا بندہ اور اپنے نبی ﷺ کا پکا عاشق اور اطاعت گذار بنائے۔ آمین۔
www.aamirliaquat.com, Follow Bushra Aamir on Twitter: @BushraAamir