عام انتخابات سے تین دِن قبل، جب پوری قوم اپنے مستقبل کے بارے میں ، سُنہرے خواب دیکھ رہی ہے، پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عِمران خان، لاہور میں، جلسہ گاہ کے سٹیج پر جاتے ہُوئے، 15فُٹ کی بلندی سے گِر کر سنبھل گئے ۔اندرون اور بیرونِ مُلک عِمران خان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں، جِن کے دِل اپنے ہِیرو کے گِرنے سے سنبھلنے تک دھڑکتے رہے اور وہ اپنے قائد کے لئے دُعائیں بھی کرتے رہے ۔خوشگوار خبر یہ ہے کہ، سب سے پہلے ،مسلم لیگ ن کے سربراہ، میاں نواز شریف نے ،فوری طور پر اپنی انتخابی مُہم منسوخ کردی اور میاں شہباز شریف ، عِمران خان کی عیادت کے لئے، شوکت خانم ہسپتال پہنچ گئے۔صدر زرداری ، وزیرِاعظم مِیر ہزار خان کھوسو اور دیگر سیاسی قائدین نے بھی عِمران خان کی صحت یابی کے لئے دُعائیں کیں ۔اِسے کہتے ہیں ۔ ”Sportsmanship“ ۔
سپورٹس مین شِپ ۔کھیل کے میدان میں، دو مخالف ٹیموں میں سے، میچ ہارنے والی ٹیم کی طرف سے، فراخدِلی سے اپنی ہار کو تسلیم کرنے کے روّیے کو کہتے ہیں۔ سیاست میں بھی کبھی کبھی، انتخابات میں ہارنے والی جماعتوں کی طرف سے، جیتنے والی ٹیم کی کامیابی کو تسلیم کر کے ، سپورٹس مین شِپ کا مظاہرہ کِیا جاتا ہے ،لیکن عام طور پر انتخابات میں ہارنے والے، جیتنے والوں پر دھاندلی کے الزامات ہی لگاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ۔” انتخابات چوری کر لئے گئے ہیں“۔ اِس بار ۔پہلی بار ۔ایسا انتظام ہُوا کہ۔”بظاہر“۔غیر جانبدار نگران حکومت انتخابات کرا رہی ہے ۔الیکشن کمِشن بھی پہلی بار ۔آزاد اور خود مُختار ہے اور اُسے۔آزاد اور خود مختار سُپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہے اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاک فوج نے، اپنی نگرانی اور حفاظت میں، صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا تہیّہ کر رکھا ہے ۔
انتخابی مُہم کے دوران ۔عِمران خان ،شریف برادران ، مولانا فضل الرحمٰن ،الطاف حسین، اسفند یار خان ولی، پاکستان پیپلز پارٹی اوردوسری جماعتوں کے قائدین نے اپنے اپنے جلسوں سے خطاب کرتے ہُوئے ،ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے تِیر خوب برسائے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ، اگر عام جلسوںمیں، سیاسی قائدین اپنے مخالفوں کی ۔”حیثیتِ عُرفی“۔ پر حملے نہ کریں تو،ووٹروںکی ۔”دِل پشوری “۔نہیں ہو سکتی ۔انتخابات کے بعد ، حکومت سازی کے لئے جب مختلف اُلخیال سیاسی جماعتیں آپس میں اتحاد کرتی ہیں اور اُن کے قائدین ایک دوسرے سے ۔” جپھّیاں“۔ ڈالتے ہیں تو وہ پرانی گالم گلوچ کو بھول جاتے ہیں۔ سب سے بڑا کمال اُس وقت ہُوا جب، مختلف فِرقوں کی شناخت والی مذہبی جماعتیں ایک تنظیم۔ متحدہ مجلسِ عمل (ایم۔ایم۔اے)میں ڈھل گئیں ،حالانکہ اُن جماعتوں کے اکابرین کے ایک دوسرے کے خلاف، کُفر کے فتوے ابھی تک ریکارڈ پرہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف میں۔’ میثاقِ جمہوریت “۔اور صدرزرداری اور میاں نواز شریف میں دوستی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ ن کی حکومت میں شرکت اور صدر زرداری کا مسلم لیگ ق کو ۔” قاتل لیگ “ ۔قرار دے کر اُسے گلے لگانا۔ یہ بھی تو ایک طرح کی ۔” سپورٹس مین شِپ “۔ ہی تھی۔کیا خبر انتخابات کے بعد،شریف برادران کو عمران خان کی ضرورت پڑ جائے یا عمران خان کو صدر زرداری اور مولانا فضل الرحمن کی۔مولانا فضل الرحمٰن تو۔”قوم کے وسیع تر مفاد میں“۔ہر حکومت سے تعاون کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
عمران خان کے ساتھیوں اور کارکنوں نے ،اتنا اونچا سٹیج بنایا تھا کہ اُس پر کپتان صاحب کو ، سیڑھیوں کے بجائے۔ "Lifter"۔کے ذریعے پہنچنا تھا۔ دوسری جماعتوں کے قائدین کے لئے بھی، اِسی طرح کے اونچے اور وسیع و عریض سٹیج تیار کئے جاتے ہیں اور سٹیج پر، پارٹی کے قائد کے ساتھ، دیگر اہم شخصیات کو بٹھایا جاتا ہے، مقصد یہ ہوتا ہے کہ جلسہ گاہ میںدُور بیٹھے حاضرین بھی اپنے قائدین کی، تقریریںسُن اوراُن کی حرکات کو آسانی سے دیکھ سکیں۔ قدیم یونان اور قدیم ہندوستان میں، دیو مالائی کہانیوں پر مبنی ڈراموں کے اداکاروں کے لئے بھی، اونچے اور وسیع و عریض سٹیج بنائے جاتے تھے۔ عوامی سطح پر ذوالفقار علی بھٹو پہلے لیڈر تھے، جِن کے جلسوں کے لئے اونچے اور وسیع و عریض سٹیج بنانے کا رواج ہُوا۔ بھٹو صاحب کے بعض مخالفوں نے کہا تھا کہ۔”لوگ بھٹو صاحب کو سُننے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں دیکھنے کے لئے آتے ہیں“۔ دراصل بھٹو صاحب اُس دور کے خوُبصورت ترین سیاستدان تھے۔ 8مارچ 1970ءکو باغ بیرون موچی دروازہ (لاہور) میں، جلسہءعام سے خطاب کرتے ہُوئے بھٹو صاحب نے کہا تھا ۔” کیا میں دلیپ کُمار ہوںکہ لوگ مجھے دیکھنے کے لئے آتے ہیں؟“۔یہ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ، عمران خان کو بھی دیکھنے کے لئے ہی آتے ہیں۔ اُن کی مردانہ وجاہت اُن کا پلس پوائنٹ ہے۔
یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ زخمی عمران خان کے سر پر، ڈاکٹر صاحبان نے 11ٹانکے لگائے ۔کیا یہ ووٹروں کے لئے پیغام ہے کہ۔11مئی کو ہونے والے انتخابات کے دِن وہ، عمران خان اور اُن کے انتخابی نشان بلّے کو یاد رکھیں؟۔ شاید اِسی لئے ، عمران خان نے کہا کہ۔ ”میں نے جو کرنا تھا کر دیا۔ اب قوم اپنا فرض ادا کرے!“۔کرکٹ میں بھی11۔11کھلاڑیوں کی دوٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ،میدان میں اُترتی ہیں، لیکن کھلاڑیوں کو ٹانکے، کبھی کبھی لگتے ہیں۔عِمران خان با وسائل شخص ہیں کہ اُن کے زخمی سر پر ٹانکے لگانے کا بندوبست فوراً ہو گیا ۔اُن کا اپنا ہسپتال بھی ہے۔عام لوگوں کو ،اِس طرح کی سہولت حاصل نہیں ہوتی ۔ ہمارے مفلوک اُلحال لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ، حضرت ِ آتش بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ ۔۔۔
” خون ہو جاتا ہے دِل ، کیا دِیدہءتر خُشک ہو؟
روز ٹانکے ٹُوٹتے ہیں،زخم کیوں کر ،خُشک ہو؟“
انگلستان کی ملکہ ءالزبتھ اوّل (1558ئ۔ 1603ء) نے ایک اونچا مینار بنوایا اور اُسے دیکھنے کے لئے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپرگئیں۔ پھِر ملکہ نے Visitor's Book پر لِکھا کہ۔” مَیں اتنی اونچائی پر آگئی ہوں کہ میرا سر چکرانے لگا ہے“۔اُس دور کا شاعر ، ڈرامہ نگار اور اداکار ولیم شکیسپئر بھی ملکہ کے ساتھ تھا ،اُس نے وزیٹرز بُک میں لِکھا ۔” اگر آپ اتنی ہی کمزور دِل ہیں تو اتنی اونچائی پرتشریف کیوں لائیں؟“۔بہرحال عِمران خان بڑے حوصلے سے، گِر کر سنبھل گئے ،لیکن اِس میں اُن کی خوش قسمتی کو زیادہ دخل ہے۔عام طور پر سیاست میں لوگ گِرنے کے بعد بہت کم سنبھلتے ہیں۔وہ اقتدار کے اونچے اور وسیع و عریض سٹیج پر چڑھ تو جاتے ہیں ،لیکن وہ خود نہیں اُترتے بلکہ انہیں اُتارا جاتا ہے ۔عِمران خان 17سال سے سیاست میں ہیں ۔اگر عوام یا مقتدر قوّتیں، اُن کے دائیں ہاتھ پروزارتِ عُظمیٰ کی لکیر کھینچ دیں تو وہ اقتدار کے اونچے سٹیج پر بھی براجمان ہوسکتے ہیں۔ فی الحال نیک شگون ہے کہ عِمران خان کی صحت یابی کے لئے نہ صِرف اُن کے مدّاح بلکہ سیاسی مخالفین بھی دُعائیں مانگ رہے ہیں۔۔۔۔” عِمران خان !تَینوں ربّ دِیا رکھّاں !“۔