آج 11مئی کو، پونے 9کروڑ مرد وخواتین اپنے اپنے پسندیدہ امیدواروں کا ،انتخاب کر رہے ہیں ۔الیکشن کمِشن نے ، یقین دہانی کرائی ہے کہ ۔ اِس بار صاف اور شفاف انتخابات کرانے کے ۔"Fool Proof " ۔ انتظامات کئے گئے ہیں ۔یعنی سادہ اور آسان ۔یہاں تک کہ کوئی۔ "Fool"۔یعنی بے وقوف ووٹر بھی دھوکا نہ کھا سکے ، حالانکہ کوئی بھی ووٹر، پیدائشی طور پر بے وقوف نہیں ہوتا ، اُسے تو بے وقوف بنایا جاتا ہے یعنی جب وہ ،کسی سیاسی جماعت کے لیڈر کے وعدوں پر یقین کر لیتا ہے تو وہ ۔"Fool's Paradise"۔ یعنی بے وقوفوں کی جنت میں رہنے لگتا ہے ۔یہ جنت حقیقی نہیں بلکہ خیالی ہوتی ہے ۔علّامہ اقبالؒ نے اپنی نظم ۔شِکوہ۔ میں کسی اور حوالے سے اللہ تعالیٰ سے شِکوہ کِیاتھا ،جب کہا کہ ۔۔۔
رہ گئی اپنے لئے ، ایک خیالی دُنیا
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ووٹروں کو ، انتخابات کے موسم میں ۔ خیالی دُنیا کی سیر کرائی جاتی ہے ،لیکن حقیقی دُنیا میں( انتخابات کے بعد) کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ،حکومت گزیدہ لوگ ایک دوسرے کو بتارہے ہوتے ہیں کہ ۔۔۔
میری دُنیا لُٹ رہی ہے ، اور میں خاموش ہوں
بہرحال غنیمت ہے کہ، دہشت گردی کے ہوتے ہوئے، انتخابات ہو رہے ہیں ۔2008ءکے انتخابات کے بعد پتہ چلا تھا کہ، ساڑھے تین کروڑ ووٹ جعلی تھے اورعُلماءسمیت ، بی۔اے کی۔ جعلی ڈگری یافتہ۔ یعنی۔ڈگری باختہ۔لوگ بھی منتخب ہو گئے تھے۔ پاکستان کی اساس اسلامی جمہوریت ہے ۔مسلمانانِ ہند نے، علّامہ اقبالؒ کے تصّور اور قائدِاعظمؒ کی بصیرت اور قیادت میں۔ ایک فرد۔ ( مرد /عورت)۔ایک ووٹ ۔ کے اصول کے تحت ۔پاکستان حاصل کِیا تھا ۔ بعض مذہبی سیاستدانوں نے ،قائدِاعظم ؒ کی جدوجہد کو ۔ مغربی جمہوریت۔کے قیام کی کوشش قرار دے کر ،اُن کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے ۔لیکن 2013ءکے انتخابات میں حِصّہ لینے والی، دائیں بازو اور بائیں بازو ، کی ساری جماعتیں اب ۔ جمہوریت پسند ۔ ہیں ۔وہ جماعتیں بھی جِن کے دِلوں میںجمہوریت کو ۔ کافرانہ نظام ۔ (قرار دینے والی ) تحریکِ طالبان کے لئے، نرم گوشہ ہے ۔صدر زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بعد راجا پرویز اشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ،سنجیدگی سے نہیں لِیا اور نہ ہی ڈرون حملوں اور طالبان سے نمٹنے کے لئے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر ہی عملدرآمد ہونے دِیا ۔ صوبہ سندھ ( خاص طور پر کراچی) ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، بلا واسطہ اور بالواسطہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ۔حکمران طبقہ اپنی ہی سیکورٹی میں مصروف رہا۔ عوام جائیں بھاڑ میں ۔ صدر زرداری جان کے خوف سے ،پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین کے عُہدے سے مستعفی ہو کر ،انتخابی مُہم میں حِصّہ لینے کے قابل نہیں رہے ۔ بلاول بھٹو کو بھی جان کا خوف ہے ۔ یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف اور سارے سابق وُزراءکو اپنی اپنی پڑی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے 5سال بعد ،یہ کیسا پاکستان چھوڑا؟۔کہ جناب یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کو دِن دہاڑے اغواءکر لیا گیا ۔
یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ، پاک فوج انتخابات کے پُر امن انعقاد کی ضمانت دینے کے لئے میدان میں ہے ۔ گذشتہ 5سال میں کئی بار ایسے حالات ہُوئے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے ،لیکن انہوں نے اجتناب کِیا ۔نگران حکومت یا الیکشن کمِشن کسی خاص سیاسی پارٹی کو کامیاب کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اِس بار سیاسی/مذہبی لیڈروں نے ایک دوسرے پر الزامات بہت زیادہ لگائے ہیں ۔عام ووٹروں کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ووٹرز تو انتخابات سے بہت پہلے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ووٹ کِسے دینا ہے ؟۔
سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دینے یا دِلوانے میں، صدر زرداری نے بہت پھُرتی دِکھائی ۔انتخابات سے 2دِن پہلے ( 9 مئی کو) ۔انتخابی قوانین ترمیمی آرڈیننس 2013ءپر دستخط کر دئیے۔سُپریم کورٹ نے کئی ماہ پہلے الیکشن کمِشن آف پاکستان کو حُکم دِیا تھا کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کو یقینی بنائے ،لیکن اُس نے سُست روی کا مظاہرہ کِیا۔آرڈیننس کی رُو سے، سمندر پار پاکستانی5سال بعد 2018ءکے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے ۔انڈیا کی ایک پرانی فِلم ۔ہلاکو۔ میں آنجہانی ۔ پران۔ نے ہلاکو خان کا کردار ادا کیا تھا ۔ فِلم میں ہلاکو خان کا تکِیہ کلام تھا ۔ خدا نے ہمیں غُصّے کی حالت میں پیدا کِیا ہے ۔اگر علّامہ طاہر اُلقادری ،غّصّے کی سیاست نہ کرتے تو، انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا یہ بہانہ تلاش کرتے کہ۔ اگرسمندر پار پاکستانیوں کو 2013ءکے انتخابات میں، ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی گئی ،تومَیں اور میرے 40 لاکھ مُریدین بھی ووٹ نہیں ڈالیں گے ۔ اِس طرح القادری صاحب کی بلّے بلّے ہو جاتی ،لیکن موصوف تو کسی سے عقل اُدھار بھی لینے کو تیار نہیں ہیں۔
سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرّف قیدی کی حیثیت سے ووٹ ڈال سکتے تھے ،لیکن اُن کی آل پاکستان مسلم لیگ نے تو ،انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ۔ عِمران خان زخمی ہونے کی وجہ اور ڈاکٹروں کے مشورے سے، اور نگران وزیرِاعظم جسٹس (ر) مِیر ہزار خان کھوسو اپنی سرکاری مصروفیات کے باعث، اپنے اپنے حلقے میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے ،لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اُن کی جان کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے دادا ۔جناب حاکم علی زرداری ۔جب انتقال سے قبل ۔"PIMS"۔ ( اسلام آباد) میں زیرِ علاج تھے تو، دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے، صدر آصف زرداری بھی، اپنے والدِ محترم کی عیادت کے لئے ۔پِمز۔ تشریف نہیں لے جا سکے تھے ۔اِس کے باوجود جناب ِ زرداری مختلف تقاریب میں ،جنابِ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی ۔ شہادت۔ کا ذِکر کرتے ہُوئے ،فیض احمد فیض کا یہ مصرع ضرور پڑھتے ہیںکہ ۔۔۔
جِس دھج سے کوئی ، مقتل کو گیا
وہ شان ، سلامت رہتی ہے
شاید صدر زرداری بھی بوجُوہ ،خود ووٹ نہ ڈال سکیں ،لیکن 70/60لاکھ سمندر پار پاکستانی تو ووٹ ڈالنے کے لئے تیار تھے ۔ اُن کے جذبات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا؟۔کِس کی نِیّت سب سے زیادہ خراب تھی ؟۔ جِس کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرنے والوں ، اور اپنے پیاروں کو اربوں روپے کا زرِ مبادلہ بھیجنے والوں کو ۔وعدہءفردا۔ پر ٹرخا دِیاگیا ۔کہیں5 سال بعد، علّامہ اقبالؒ کا یہ خیال صحیح ثابت نہ ہو جائے کہ ۔۔۔
آئے عُشّاق ، گئے وعدہ ء فردا ، لے کر
اب انہیں ، ڈُھونڈھ ، چراغ ِ رُخِ زیبا ،لے کر