پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیڈر محمد شہبازشریف نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں سے حساب لیا جائے گا یہ بات محمد شہبازشریف پہلے بھی کہتے رہے ہیں لیکن اب حالات دوسرے ہیں۔ اب وہ جو کہیں گے وہ کر کے بھی دکھا دیں گے۔ بدقسمتی سے گزشتہ پانچ سال میں پاکستانی خزانے کو جس طرح سے لوٹا گیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ لوٹا ہوا پاکستانی عوام کا قیمتی سرمایہ واپس لایا جائے اور دوبارہ قوم کے سپرد کیا جائے۔
دنیا کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں پہلے سوئس بینکوں سے زیادہ محفوظ ٹھکانہ کوئی نہیں تھا اور دنیا بھر کے لٹیرے حکمران اپنی دولت وہیں رکھتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے سوئٹزر لینڈ کی حکومت کو ایک پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک افریقی ملک کی نئی حکومت نے ایک سوئس عدالت میں کیس کر دیا کہ سابقہ حکمران نے جو رقم سوئس بینک میں جمع کرائی ہے وہ دراصل عوام کی کمائی ہے جسے اس حکمران نے لوٹ کر سوئٹزرلینڈ میں جمع کرایا ہے۔ سوئس عدالت نے فیصلہ افریقی ملک کے نئے حکمران کے حق میں دیا لیکن اپنے بینکنگ سسٹم کو محفوظ بنانے اور آئندہ کسی بھی بین الاقوامی شرمندگی سے بچنے کے لئے قوانین بنا دیئے کہ اگر کسی حکمران کے جانے کے بعد کوئی بھی نئی حکومت دعویٰ کرے کہ جانے والے حکمران کی سوئس بینکوں میں جمع شدہ دولت دراصل عوام کے وسائل پر ڈاکہ ڈال کر حاصل کی گئی تھی تو سوئس حکومت خود اس حکومت کی قانونی معاونت کر کے لوٹی ہوئی دولت واپس کر دے گی۔ اس لئے اُمید ہے کہ اگر نئی حکومت عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دے کہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت رضا کارانہ طور پر قومی خزانے میں جمع کرا دی جائے تو اربوں ڈالر رضا کارانہ طور پر جمع کرا دیئے جائیں گے ورنہ اس وقت عالمی قوانین اتنے زبردست بن چکے ہیں کہ انٹرپول کے تعاون سے نیپ واپڈا کے سابق چیئرمین کو برسینیا سے پکڑ لیتی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی سمیت چند افراد نے اپنی دولت سوئس بینکوں سے آسٹریلیا اور دوسرے شہروں میں ٹرانسفر کی تھی جس کے قصے ان دنوں بڑے اخباروں میں بھی شائع ہوئے تھے۔ اس لئے رضا کارانہ طور پر قومی دولت واپس کرنے کی پالیسی اپنا کر قومی خزانے کو بھرا جا سکتا ہے۔
نئی کابینہ کے لئے قیاس آرائیاں جاری ہیں اور دوسری طرف امریکہ میں مقیم شیریں رحمان نے اپنا استعفیٰ نگران وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ نئی حکومت نہ صرف پرانے سفیر تبدیل کرے گی بلکہ کمرشل قونصلر اور پریس اتاشی بھی تبدیل کرے گی جنہیں آخری دنوں جوق در جوق مختلف ممالک روانہ کیا گیا تھا۔ خارجہ تعلقات پر نظرثانی کی خاص ضرورت ہے خصوصاً اسلامی ممالک اور یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے خارجہ تعلقات کمتر سطح پر ہیں۔ متوازن تعلقات بنانے کے لئے فوری طور پر نئی پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً یورپی یونین میں کنسیشن لینے کے لئے جو کاغذی کارروائی کرنی ہے وہ سابقہ حکومت ابھی تک نہیں کر سکی ہے جسے ترجیحی بنیاد پر کیا جائے تاکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس سے فائدہ اٹھا سکے ویسے موجودہ سیکرٹری خارجہ بہت ذہین اور محنتی ہیں اس لئے انہیں عہدے پر قائم رکھنا چاہیے۔