داغدہلوی نے کہا تھا....
ہوش و حواس ، تاب و تواں، داغ جا چُکے۔۔۔ اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا
لیکن یہ شعر، سابق صدر، جنرل (ر) پرویز مشرّف پر، صادق نہیں آتا۔ اِس لئے نہیں کہ، میری نظر میں، موصُوف صادق نہیں ہیں بلکہ اِس لئے کہ وہ بقائمی ہوش و حوا س اور صاحبِ تاب و تواں ہیں۔ البتہ خبر کے مطابق، انہوں نے، اسلام آباد میں اپنی آل پاکستان مسلم لیگ کا مر کزی سیکرٹریٹ خالی کر کے وہاں سے سارا ریکارڈ، فرنیچر اوردوسرا سامان اپنے فارم ہاﺅس میںمنگوا لیا ہے۔ یہ کارروائی عام انتخابات کے دِن (11مئی کو) ہُوئی اور اِس طرح، اڑھائی لاکھ روپے ماہوار کی، بچت کر لی گئی جو جنرل صاحب بطور کرایہ، مالک مکان ،کو کئی سال سے ادا کر رہے تھے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکر ٹری جنرل، ڈاکٹر امجد کی مِیڈیا سے کافی دوستی ہے۔ میں حیران ہُوں کہ انہوں نے....
عاشق کا جنازہ ہے، ذرا دُھوم سے نِکلے
کا سا ماحول کیوں پیدا ہونے نہیں دِیا۔ بہر حال ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ، جنرل پرویز مشرّف نے تقریباً ۹ سال اقتدار میںرہنے کے باوجود، اسلام آباد میں، اپنے لئے، ایک فارم ہاﺅس کے سِوا، اضافی گھر یا دفتر کے لئے کوئی پلاٹ نہیں لِیا۔ سابق وزیرِاعظم چودھری شجاعت حسین اور پڑھا لِکھا پنجاب کے سابق وزیرِاعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ تو، خیر سیاستدان ہیں لیکن کیا اسلام آباد میں جناب پرویز مشرّف کا کوئی ایسا عقیدت مند یا دوست نہیں، جو آل پاکستان مسلم لیگ کو ، سیکرٹریٹ بنانے کے لئے، ایک بڑا سا گھر یا دفتر خرید کر، اُن کی نذر کر دیتا؟ اسلام آباد میں، جناب پرویز مشرّف کا فارم ہاوس سب جیل ہے جہاں وہ نظر بند ہیں۔ سب جیل میں، جیل حُکام اور سیکورٹی اہلکار و افسران تعینات ہیں۔ جب تک جنرل صاحب کی ضمانت نہ ہو جائے اور جیل حُکام، وہاں سے چلے نہ جائیں فارم ہاﺅس میں آل پاکستان مسلم لیگ کا سیکرٹریٹ قائم نہیں کِیا جا سکتا۔ اِس لئے یقینی طور پر، اُس کا سارا ریکارڈ ،فرنیچر اور دوسرا سامان، وہاں امانت کے طور پر محفوظ رہے گا۔ جناب پرویز مشرّف نے، قومی اسمبلی کی چار نشستوں سے، کاغذات ِ نامزدگی داخل کئے تھے لیکن وہ انتخاب لڑنے کے لئے نااہل ٹھہرے۔ پشاور ہائی کورٹ نے تو، اُن کے تاحیات انتخاب لڑنے پر پابندی لگا دی۔ انتخاب لڑنے کے لئے تو، سیّد یوسف رضا گیلانی کو بھی نااہل قرار دیا گیا تھا، لیکن صِرف پانچ سال کے لئے اور پانچ سال تو پلک جھپکنے میں گُزر جاتے ہیں۔ 11مئی کو ہونے والے انتخابات کے لئے، آل پاکستان مسلم لیگ ،نے قومی اسمبلی کے لئے، 184 اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے 296 امیدوار، میدان میں اُتارے تھے لیکن جب مِیر کارواں۔ کو ہی نااہل قرار دے دیا گیا تو کارواں کے دوسرے لوگ کیا کرتے؟ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری اور ڈاکٹر امجد، اسلام آباد میں، قومی اسمبلی کی دونوں نشستوںسے امیدوار تھے۔ انہوں نے بھی اپنی سیاست، اپنے قائدِ محترم پر نچھاور کر دی....
ابھی، اگلی شرافت کے، نمونے، پائے جاتے ہیں!
انتخابات کابائیکاٹ تو علّامہ طاہر القادری اور ان کی پاکستان عوامی تحریک نے بھی کِیا تھا لیکن علّامہ صاحب سیانے نِکلے۔ انہوں نے اپنے امیدواروں سے پارٹی ٹِکٹ فِیس تو وصول کر لی لیکن اُنہیں ریٹرننگ افسروں کے پاس زرِضمانت جمع نہیں کرانے دی۔ علّامہ طاہر القادری نے ایک اور سیانپت یہ کی کہ نہ صِرف لاہور میں، بلکہ دُنیا کے 90ملکوں میں، اپنی سربراہی میں چلنے والے، ادارہ منہاج اُلقرآن کے ملکیتی دفاتر قائم کر رکھے ہیں۔ کسی مُلک میں علّامہ القادری کو کرایہ نہیں دینا پڑتا۔ سیاست کے ساتھ ساتھ، دِین کی خدمت کرنے سے، ثوابِ دارین۔ مِلتا ہے۔ جو لوگ صِرف سیاست کرتے ہیں، خسارے میں رہتے ہیں۔ اگر ایک مشہور شعر میں محبت کی جگہ سیاست جڑ دیا جائے تو صُورت یہ بنتی ہے....
کروں گا کیا ؟ جو سیاست میں، ہو گیا ناکام۔۔۔۔ مجھے تو، اور کوئی، کام بھی ، نہیں آتا!
23 اپریل2006ءکو، پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام فرسٹ فیملی کے ساتھ ایک مارننگ میں جنرل (ر) پرویز مشرّف نے کہا تھا کہ مَیں قائدِاعظمؒ اور اتاتُرک مصطفےٰ کمال پاشا کا فَین اور رومن جرنیلوں سے متاثر ہُوں اور مَیں چاہتا ہوں کہ، مجھے پاکستان کے نجات دہندہ کی حیثیت سے یاد رکھا جائے۔ خواہش اچھی تھی، لیکن کیا کِیا جائے کہ عوام، جناب پرویز مشرّف میں، قائدِاعظمؒ اور اتاتُرک کی سی خوبیاں تلاش کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی اُنہوںنے، جناب پرویز مشرف کو پاکستان کو "Empire" بناتے دیکھا۔ صدر پرویز مشرّف کے بعد، قوم نے جنابِ زرداری کو Lesser Evil سمجھ کر قبول کر لیا تھا اور بزعمِ خود نجات دہندہ سے نجات کا دِن بھی منایا تھا۔ قائدِاعظمؒ اور اتاتُرک کے نام تو، اب بھی عِزت سے لئے جاتے ہیں لیکن رومن جرنیلوں میں سے تو، اکثر نے خُودکُشی کر لی تھی، یا وہ اپنے بااعتماد دوستوں کی سازش سے مارے گئے۔ دراصل جناب پرویز مشرّف اپنے سوانح In The Line Of Fire کا دوسرا حِصّہ لِکھنے کے لئے وطن واپس آئے تھے لیکن اِن کا سودا فروخت نہیں ہُوا۔ لوگ اُن کی سیاسی دُکان پر "Windowshopping" کے لئے بھی نہیں گئے۔ اُن کے پَروردہ لوگ بھی اُن کے دائیں بائیں نظر نہیں آئے۔ چشمِ فلک نے ایسا منظرکہاں دیکھا ہو گا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے گھروں میں محبوس کرنے والے، جناب پرویز مشرّف، ا ب اُنہی کے رحم و کرم پر، اپنے گھر میں نظر بند ہیں اور 12 اکتوبر1999ءکو برطرف، قید اور پھِر جلا وطن کئے جانے والے، میاں نواز شریف ایک بار پھر، وزارتِ عُظمیٰ کا حلف اٹھانے والے ہیں۔ مُلک بھر میں پاکستان مسلم لیگ ن زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ کا ریکارڈ، فرنیچر اور دوسرا سامان پاکستان کا نجات دہندہ کہلانے کے خواہشمند ، عالمی شہرت یافتہ جرنیل کے فارم ہاﺅس میں، منتقل ہو گیا ہے....
وہ جو بیچتے تھے، د وائے دِل۔۔۔ وہ دُکان اپنی بڑھا گئے!
حالانکہ جناب پرویز مشرف دوا ئے دِل تو بیچتے ہی نہیں تھے۔ نہ جانے کیا بیچنے آئے تھے؟