س وقت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قائم کیا گیا تھا اس وقت بھی اس نام کے خلاف کافی آواز بلند ہوئی تھی کیونکہ اس فنڈ کے لئے پیسہ پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ میں شامل افراد سے لیا گیا تھا۔ اور یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ پنجاب کے عوام ٹیکس کی شکل میں ہر سال بہت بڑی رقم ادا کرتے ہیں لیکن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں قصداً جو تین تین لاکھ روپے قرعہ اندازیوں کے ذریعہ سے تقسیم کئے گئے ان کے لئے بار بار سندھ کا رخ کیا گیا، اب مسلم لیگ (ن) کی نئی آنے والی حکومت دن رات پیپر ورک کر رہی ہے کہ تین یا چار جون کو حلف اٹھانے کے بعد ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں بھی پیپر تیار کیا جا رہا ہے جس میں بہت سی تجاویز شامل ہیں۔ سب سے اہم تبدیلی نام کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ قائداعظم اور علامہ اقبال کے وژن کے مطابق پاکستان کو ایک ویلفیئر سٹیٹ بنانے کا عزم رکھتی ہے اس لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نیا نام فاطمہ جناح سپورٹ پروگرام رکھا جائے اور اس کی انچارج کے طور پر مریم نواز شریف سے بہتر کوئی نام نہیں ہے لیکن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تھوڑی سی زحمت کر کے غربت شماری سروے نئے سرے سے کرایا جائے گا۔ جب اس فنڈ کا آڈٹ ہو گا تو بے شمار ایسے حقائق سامنے آئیں گے کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔
اب یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئی حکومت میں فقیروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتی ہے یا بلاول کی طرح فنڈ کی رقم میں اضافے کی خواہشمند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں ایک ہزار روپے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ سب سے اہم کام روزگار کی فراہمی ہے۔ موجودہ زمانے میں تھائی لینڈ، فلپائن، سنگا پور اور بے شمار ممالک میں کاٹیج سٹی کے ذریعہ سے عام لوگوں کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ بہت اہم ہے اور حکومت کسی طرح سے بھی بے روزگاروں کو روائتی انداز میں روزگار فراہم نہیں کر سکتی۔ کیونکہ جانے والی حکومت نے پہلے ہی ہر شعبہ کو ضرورت سے زیادہ بے روزگاروں سے بھر دیا تھا۔ اب تو وقف املاک کے زبانی کلامی بھرتی ملازمین کی طرح بہت سے افراد تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
کاٹیج سٹی کا آئیڈیا سادہ بھی ہے اور اس ماڈل کو استعمال کر کے بے شمار ممالک نے بے روزگاری کا مسئلہ کامیابی سے حل کیا۔ کاٹیج سٹی میں ہر شہر کے قریب ایک معقول رقبے پر حکومت مکمل انفراسٹرکچر قائم کر کے کاٹیج انڈسٹری لگانے والوں کو دعوت دے گی کہ وہ اپنے چھوٹے بڑے پیداواری یونٹ یہاں قائم کر سکتے ہیں۔ حکومت نہ صرف پانچ سال ایک زمین اور انفراسٹرکچر کا کوئی معاوضہ نہیں لے گی۔ بلکہ بینکوں کے مائیکرو ڈیپارٹمنٹ اور مائیکرو بینکس کے ذریعے سے قرضہ کی سہولت بھی فراہم کرے گی جو پانچ ماہ کے بعد حکومت قسطوں میں وصول کرنا شروع کر دے گی۔ ساتھ ہی ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اگر حکومت کارخانے داروں کو سوشل سکیورٹی اور اس نوعیت کے اخراجات میں رعایت دے تو ہر پیداواری یونٹ بجلی ملنے کے بعد کم از کم پچیس فیصد بے روزگاروں کو اپنے پیداواری یونٹوں میں کھپا سکتا ہے۔ امید ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بے روزگاری ختم کرنے کے لئے بھی ضروری انقلابی قدم اٹھائے گی۔