Aalam Aur Aalim 55th Episode of 2013 with Aamir Liaquat Husain 15-5-2013


حکمران رعایا کو جوابدہ ہے اوریہاں کسی کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں، عامر لیاقت حسین سے گفتگو
کراچی(اسٹاف رپورٹر)تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ اور مرکزی رویت ہلا ل کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ سیاسی رہنما اپنے الفاظ کو حدیث قرار نہ دیں ،گفتگو کے دوران قرآن وحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے محتاط روی کا مظاہرہ کریں کیونکہ زبان کی معمولی لغزش زوال کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حدیث کے مطابق تین دن سے زائد کسی مسلمان سے قطع تعلق رکھنے کی ممانعت ہے اسے تین دن تک غصہ نہ کرنے سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی،اگر حدیث کے الفاظ ٹھیک طرح یاد نہ ہوں تو پھر اسے حدیث کا مفہوم کہہ کر وضاحت کرنا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے،یہ اللہ کی امانت ہے جس میں خیانت کرنے والے سے بروز حشر سخت باز پرس کی جائے گی۔جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالَم اور عالِم میں ایک اچھے حکمران کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حکمران رعایا کو جوابدہ ہے اوریہاں کسی کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔قرآن واحادیث اور تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ایک مثالی حکمران کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے جامعہ نعیمیہ کے مہتمم نے کہا کہ اچھا حکمران وہ ہوتاہے جو غیرت وحمیت کا سودانہ کرے، عدل وانصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور رعایا کے حقوق کا خیال رکھے۔ان کا کہناتھا کہ نیک اور عادل حکمران پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے اوربروزقیامت اُس کا حساب وکتاب صالحین کے ساتھ ہوگا۔پروگرام کے آغازمیں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے مدلل انداز میں ملک میں حالیہ طرزحکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم پر ایسے حکمران مسلط رہے ہیں جنہیں عوام کی تکالیف کا کوئی اندازہ نہیں،انہوں نے کہا کہ اسلام میں تو میدان جنگ میں بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کیے جاتے اور ہمارے ہاں ایمرجنسی کے نام پر بنیادی حقوق معطل کیے جاتے ہیں اور ہر ایک استثنیٰ کی خواہش لے کر اعلیٰ منصبوں پرفائز ہوتا ہے حالانکہ اسلام حکمرانوں کی جوابدہی کا درس دیتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں ہرایک منصب کا آرزومند ہے مگر اُس منصب کے ساتھ جوابدہی کا جو پہلو ہے اُس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔احادیث نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ رعایا کی نگہبانی سپرد کرے اور وہ بھلائی اور خیر خواہی کے ساتھ نگہبانی نہ کرے تو وہ جنت کی بُوسے بھی محروم رہے گا۔نامزد وزیراعظم کی جانب سے عجزوانکساری کے مظاہرے کو خوش آئنداقدام قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کا تسلسل جاری رہے تو یہ ملک کے لیے نیک شگون ہوگا ۔بعدازاں مسائل آپ کے ،حل وظائف سے میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کے دوران ممتاز روحانی شخصیت مولانا بشیر احمد فاروق قادری نے کہا کہ بخار اور امراض انسانی گناہوں میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ حدیث نبوی کی روشنی میں بخار کی شدت کی کمی کا روحانی علاج بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۰۴ مرتبہ سورہٴ فاتحہ پڑھا ہوا پانی مریض کو پلانے اور اس کے جسم پرچھڑکنے سے اسے افاقہ ہوتا ہے اور بخار کی شدت کم ہوجاتی ہے۔سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے سر براہ نے ناظرین کو اُن کے مختلف مسائل کے حل کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں وظائف بھی بتائے۔