ایک ایکشن ری پلے ہر الیکشن کے بعد نظر آتا ہے۔ خیال تھا اس مرتبہ جس قسم کے اہتمام کئے گئے ہیں ایسی آواز نہیں اٹھے گی۔ مگر تواتر سے، دھاندلی، جعلی ووٹ، گڑبڑ اور ری پولنگ کی آوازیں اب تک اٹھ رہی ہیں۔ جس حلقے میں دوبارہ گنتی کرائی گئی، رزلٹ میں فرق نکل آیا۔ جب کوئی جیت جاتا ہے جیسے بھی جیت جاتا ہے۔ اسے ہارا ہوا ثابت کرنا کتنا مشکل ہے۔ اور اگر ثابت کر بھی دیا جائے تو اس کا صبر کرنا کتنا تکلیف دہ ہے۔کبھی آپ نے غور کیا کہ انتخابات کے نتائج آتے ہی پرنٹ میڈیا پر اور الیکٹرانک میڈیا پر تصویر بدل جاتی ہے۔ تصویر کے بدلتے ہی لکھنے والوں کی تحریر بدل جاتی ہے۔ تحریر کے بدلتے ہی بہت سے لوگوں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ قوم کے خوابوں کی تعبیر بدل جاتی ہے۔ سالکوں اور صدیقوں کی تعزیز بدل جاتی ہے۔ تعزیز کے ساتھ ہی زنجیر بدل جاتی ہے۔لوگ باگ مفت مشوروں کی گٹھڑیاں باندھ باندھ کر اہل اقتدار کے صنم کدے میں پہنچنے لگتے ہیں۔ مگر انہیں یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ اہل اقتدار باہر سے مشورہ قبول نہیں کرتے۔ خواہ وہ اپنے انتخابی جلسوں میں بڑے بڑے عوامی دعوے کیوں نہ کرتے رہے ہوں۔ جو ان کے قریب ہوتے ہیں۔ وہی ان کے حبیب ہوتے ہیں۔ اقتدار کے ایوان میں عوام کی آواز نہیں پہنچ پاتی۔وہ ایک گنبد بے در ہوتا ہے۔ اس میں انہیں بس اپنی ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ یا پھر ان لوگوں کی جو ان کی پسند کی بات کرتے ہیں اور ان کے دل کی بات سنتے ہیں۔وہ تمام لیڈران کرام جو انتخابات میں مینڈیٹ لے کر آئے ہیں کیا ان کو نہیں معلوم کہ اس ملک کے بڑے مسائل کیا ہیں۔ فوقیت کس بڑے مسئلے کو دینی چاہئے۔ عوام ان سے فوری توقع کیا رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنا منشور بھی پیش کیا ہے۔اور ان کو معلوم ہے کہ وہ اسمبلی کے اندر آتے ہی نیا قومی و صوبائی بجٹ پیش کرنے والے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ موجودہ بجٹ کے اندر ووٹ دینے والے ان کے دلدادہ ان سے کیا چاہتے ہیں۔ وہ جنہوں نے جلسوں میں رات رات بھر جاگ کر انہیں جتایا ہے وہ پوچھ رہے ہیںیہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطرابیہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو!!پہلا تحفہ محبت غریب اور بے بس عوام اور متوسط طبقے کو کیا ملتا ہے۔یا وہ تخت پر آتے ہی مجبوریوں کی مالا پرو کر اور گزشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی کا رونا رو کر گلوخلاصی کی کوشش شروع کر دیں گے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ عوام اور خواص جانتے ہیں جو بداعمالیاں اور بے اعتدالیاں گزشتہ حکومتوں میں ہوئیں اب کیا ہو گا یا ہو سکتا ہے۔ عوام بجٹ سیشن میں جاننے کو بے قرار ہیں:باقی مراحل جو آج کل طے ہو رہے ہیں۔ان کی حقیقت یہ ہے کہ جمہوری سسٹم کے اندر آزاد جیت کر آنے والے ارکان ہمیشہ حکومت کا حصہ بن جانا چاہتے ہیں۔ پہلی حکومتوں میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ آزاد جیت کر آنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ وزارتیں مانگ لیں۔ فنڈ مانگ لیں یا کوئی اور مطالبہ کیونکہ حالات کہتے ہیںآ اور دو عالم کی کسی چیز پہ رکھ ہاتھرندوں کو بھی کچھ عادتِ خیرات ہے ساقییہی حال ضمنی سیٹوں کا ہوتا ہے۔ عام طور پر ضمنی انتخابات میں بھی نشستیں حکومتی پارٹی کے نمائندے حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے عوام کا مزاج بھی اقتدار کا ساتھ دینے کا ہے۔گزشتہ دو ادوار میں یہی دیکھا گیا ہے۔ جب ق لیگ کی حکومت تھی اپنی پارٹی کی سیٹ چھوڑ کر رکن ان کے ٹکٹ پر جیت کر دوبارہ اسمبلی میں آ جاتے تھے۔ جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ضمنی سیٹ پر ان کے ٹکٹ ہولڈر آ رہے تھے۔جیتنے والے ہمیشہ کیوں حکومتِ وقت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک بڑی وجہ وزارت حاصل کرنا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رفتہ رفتہ لیڈر ان کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیبنٹ کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایک ایک وزارت کے دو حصے کرکے دو لوگوں میں بانٹ دی جاتی ہے۔عوام یہ بھی تو کبھی پوچھیں کہ پارٹی کے اندر وزیروں کی کارکردگی کیا ہے۔یا پانچ سالہ دور ختم کرکے جب وزرائے کرام جاتے ہیں تو اپنی کارکردگی کا پیپر چھاپ کر دے جایا کریں چونکہ ان کی کارکردگی کچھ نہیں ہوتی۔ اس لئے اگلی حکومت بننے تک عوام ان کا نام بھی بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزرائے کرام آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتے۔ وزارتیں دے کر ان کی زبان بندی کر دی جاتی ہے۔یہ دوسری بڑی حقیقت ہے کہ ہر پولیٹیکل پارٹی کے اندر ون مین رول ہوتا ہے۔ حکم صرف اوپر سے ہی آتا ہے اور حکم عدولی برداشت نہیں کی جاتی۔تیسری دنیا کے ملکوں میں جمہوریت بادشاہی دوشالا اوڑھ کر آتی ہے۔ آپ پروٹوکول اور رہائش سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔اس کے باوجود الیکشن کا مرحلہ بخیر و خوبی طے ہو گیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے۔ ن لیگ کو دوسری بار بھاری مینڈیٹ سے نوازا گیا ہے۔1997ءمیں بھی اسے بھاری مینڈیٹ دیا گیا تھا جس کے بوجھ تلے یہ خود دب گئی تھی۔ اب خدا کرے یہ ان کی توقعات پر پورا اترے جنہوں نے اسے دوبارہ مینڈیٹ دیا ہے۔ اصولاً حکومت کرنے کا حق اسی پارٹی کو ہوتا ہے جسے مینڈیٹ مل جاتا ہے۔ دوسرے صوبوں میں جس پارٹی کی بھی حکومتیں بنیں انہیں قبول کرنا چاہئے اور مرکزی حکومت کو چاہئے کہ رسہ کشی کے بغیر اپنا عرصہ پورا کریں اور عوام کو ریلیف دیں۔