اکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے پرویز رشید نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ آج لاہور میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں عوامی مسائل اور سماجی شعبے میں موجود مسائل کا تعین اور ان کا ممکنہ حل زیربحث لایا جائے گا۔ اس سے پہلے محمد نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ عوام کو نئی حکومت کے آنے سے ریلیف ملے گا۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ آج ہی سے لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی کے امکانات موجود ہیں۔ کیونکہ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر مصدق ملک نے بیان دیا ہے کہ عوام کو پیر سے لوڈ شیڈنگ کے بارے میں خوشخبری ملے گا۔ دلچسپ بات ہے کہ وزارت خزانہ اور وزارت بجلی اور پانی نے ایک دن ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور عوام کو 11 مئی کے پورے چوبیس گھنٹے بجلی تسلسل کے ساتھ ملی۔ اب صاف ظاہر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے سب سے پہلے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہی حل کرنا ہے جس کی وجہ سے نگران حکومت اپنے نمبر بنا رہی ہے۔ بھلا نگران حکومت سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں جو اضافہ کیا ہے اس میں کراچی الیکٹرک سپلائی کے علاقے کو اس اضافہ سے مستثنیٰ کیوں قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے ان کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ملک میں مساوی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بجلی کے بلوں میں اضافے کا بوجھ بھی پنجاب پر ڈالا گیا ہے۔ اسی طرح پنجاب کو قربانی کا بکرا بنائے ہوئے اس کے حصے کی بجلی سندھ کو دی جا رہی ہے۔
بات شروع ہوئی تھی پاکستان مسلم لیگ ن کے آج ہونے والے اہم اجلاس سے۔ سچ تو یہ ہے کہ گذشتہ پانچ سال میں پاکستان کے معصوم عوام کو جس بری طرح سے لوٹا گیا ہے اور مہنگائی جس طرح سے مسلط کی گئی ہے اس کی ماضی میں مثال کوئی نہیں ملتی۔ اسی وجہ سے نئی حکومت کو پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور گذشتہ حکومت کے بچھائے ہوئے کانٹے احتیاط سے نکالنے کے لئے آج کے اجلاس میں اہم فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپنیوں کی مہنگائی کو سرکاری مشینری کے ذریعہ سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کافی ہے۔ بیوریجز کمپنیوں نے کسی اتھارٹی کی اجازت کے بغیر 250ملی لیٹر بوتل کی قیمت 9 روپے سے بڑھا کر 15 روپے کر دی گئی۔ دلچسپ بات ہے کہ کمپنی فارمولے کے مطابق مشروب تیار نہیں کیا جاتا بلکہ زیادہ چینی، پانی اور ناقص بھارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کر کے عوام کو غیرمعیاری مشروب مہنگے داموں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ بھارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال سے لاہوری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس لئے کسی بین الاقوامی معیار کی لیبارٹری سے بھارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے معیار کی تصدیق کی جائے۔
ہر چھوٹے بڑے شہر میں قیمتوں پر کنٹرول رکھنے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو صوبائی پرائس کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اس وقت دواﺅں سے لے کر تمام مصنوعات عالمی معیار سے کمتر ہیں۔ صارفین کی جیبوں پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے اور ناقص مصنوعات کے خاتمے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ ملاوٹ کے خلاف میڈیا اور عوام کے تعاون سے زبردست مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً عوام کے تعاون سے زبردست مہم چلانے کی ضرورت ہے خصوصاً مصالحوں، چائے اور جوس کے نام پر ناقص مشروب پہلی فرصت میں ختم کئے جائیں اور جوس کی بڑی کمپنیاں عوام کو چورا پتی کیوں سپلائی کر رہی ہیں کیونکہ اس میں ملاوٹ بہت آسان ہے۔ چائے کی پوری پتی ڈبوں میں ملنی چاہئے۔ تلنے والے گھی کی کوالٹی اور گاڑیوں موٹر سائیکلوں کے لئے دستیاب موبائل آئل کی ناقص کوالٹی انسانوں اور گاڑیوں کی صحت خراب کر رہی ہے۔