افسوس کہ مقدس مہینوں کی حرمت پامال ہورہی ہے، کوکب نورانی
عارضی حکمرانی کے احترام کا درس دیا جاتا ہے اور دائمی حکمرانی کا لحاظ نہیں، عامر لیاقت کا تبصرہ


کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ رجب کے مقدس مہینے کا احترام پامال کیا جارہا ہے، انسانی جان کو ارزاں سمجھ لیا گیا ہے۔ ذاتی مفادات کے لئے دینی اقدار کو فراموش کیا جارہا ہے جو کہ نہایت خوفناک رجحان ہے۔ جیو کے شہرہ آفاق پروگرام عالم اور عالِم میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سواداعظم اہل سنت حقیقی کے سربراہ نے کہا کہ ماہ رجب کے بعد شعبان اور رمضان کی برکتیں سمیٹنے کے بجائے ہم الزام اور جوابی الزامات کی سیاست میں الجھ گئے ہیں۔ ملکی منظرنامے پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سچ بولنا اور اختلاف رائے ناقابل معافی جرم بنا دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے میں ہمیں لطف آتا ہے۔ انتخابات کے بعد تبدیلی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تبدیلی محض ذاتی خواہشات کے بل پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے خلوص نیت اور عملیت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی کے لئے ہر شخص کو اپنے حصے کا فرض ادا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمت اقوام تمام تر نامساعد حالات کے باوجود تبدیلی کے عمل میں شریک رہتی ہیں۔ انسانی رویوں میں شدت کے ذکر پر ان کا کہنا تھا کہ ہم اسلام پسند تو ہیں لیکن اسلام پابند نہیں ہیں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے، ہم اپنے لئے معافی اور دوسروں کے لئے سخت سزا کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے لئے معافی اور دوسرے کے لئے سخت سزا کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے مفادات کے لئے تو جدوجہد کرتے ہیں مگر اجتماعی مفادات پر چپ سادھ لیتے ہیں یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کی حقائق پر مبنی گفتگو کے دوران ناظرین نے ٹیلی فون کالز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور موجودہ حالات کے تناظر میں ان سے سوالوں کے جوابات بھی دریافت کئے۔ پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے مخصوص انداز میں ملک کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رجب جاری ہے، شعبان اور رمضان کی آمد آمد ہے مگر ان مقدس مہینوں کی برکتوں میں حصے دار بننے کے بجائے ہم ان کی حرمت اور ایک دوسرے کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ ملک کے موجودہ منظر نامے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمت ہے وہ قوم جسے رجب، شعبان اور رمضان ملے اور وہ اس کی تقدیس سے محروم رہے اور تفریحات و تعیشات میں الجھ کر آخرت کو فراموش کردے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد سے مظاہروں اور احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مقدس مہینوں کا کوئی لحاظ نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ جن قوموں کے دلوں سے خوف خدا اٹھ جائے اور جوابدہی کا احساس باقی نہ رہے وہاں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر محتاط بیانات نے قوم کو دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے اور ہم مصلحت و مفاہمت میں گم ہو کر جرأت و ہمت سے محروم ہوگئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کوئی انسان تقدیر بدلنے پر قادر نہیں یہ صرف اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عارضی حکمرانی کے احترام کا درس دیا تو جاتا ہے مگر دائمی حکمرانی کا کوئی لحاظ نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے انبار نے لوگوں کے مزاج میں تلخی پیدا کردی ہے اور بحیثیت مجموعی پوری قوم چڑچڑے پن کا شکار ہے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat