روتا ہوا باپ ،استاد یا لیڈر آپ کو کیسا لگتا ہے؟
ممکن ہے ،آپ یہ سوال سنیں لیکن نظر انداز کردیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ نظر انداز نہ کریں لیکن بات کی تہہ تک ہی نہ پہنچ پائیں۔ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ کوئی یک لفظی یا ایک آدھ جملے پر مشتمل تبصرہ کریں آگے بڑھ جائیں لیکن اس سے بات بنے گی نہیں۔یہ ٹھیک26 برس پہلے کی بات ہے جب میں برادرم اقبال پاریکھ کے ساتھ سسپنس ڈائجسٹ کے دفتر میں داخل ہوا۔ اس ڈائجسٹ میں چھپنے والی جاسوسی کہانیوں،ترجموں اور سلسلے وار تحریروں کا میں ایک زمانے میں شیدائی تھا۔ میٹرک اور انٹر کے زمانے میں میرے جیسے طالب علموں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے کہ وہ ہر ماہ ڈائجسٹ خرید سکیں ۔اس لیے میں یہ ڈائجسٹ محلے کی لائبریری سے کرائے پر لاتا ، عشا ء کی نمازکے بعد اسے پڑھنا شروع کرتا اور صبح کاذب کے دھندلکوں میں اس کا آخری ورق پلٹا کر ڈائجسٹ کو تکیے کے نیچے رکھتا اور سوجاتا لیکن سونا بھی کہاں نصیب ہوتا ۔آنکھیں بند کرنے کے بعد ٹیلی پیتھی کا دیوتا فرہاد علی تیمور دل کے دروازے پر دستک دیتاجس کی انگلی پکڑ کر میں اس کی انوکھی دنیا کی سیرکو نکل جاتا۔ یہ سیر اس وقت ختم ہوتی جب گھر کا کوئی بڑا دروازہ کھٹکھٹا تے ہوئے ڈانٹ پلاتا کہ آج کالج نہیں جانا کیا؟سسپنس ڈائجسٹ میں ؛میں اسی فرہادعلی تیمور اور بے قیمت اشیاء چرانے والے نک ویلوٹ کی تلاش میں گیا تھا لیکن وہاں نہ تو کوئی فرہادعلی تیمور تھا اور نہ کوئی نک ویلوٹ۔وہاں تو الطاف حسین براجمان تھے ۔استقبالیہ کلرک سے لے کر ایڈیٹر تک ، جس کسی سے بھی بات ہوئی، اسے الطاف حسین کا کلمہ پڑھتے ہوئے پایا۔وہ اس جادوئی ڈائجسٹ کے ایڈیٹر تھے، کوئی قلم کار یا انتظامی افسر، اب یاد نہیں لیکن ان کا جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔ان صاحب نے کہا تھا:
الطاف حسین کی شکل میں بھٹو کا دوسرا جنم ہوا ہے
کسی دوسرے صاحب نے یہ بیان سنا اور ترنت ہی ان کی تصحیح کی: نہیں صاحب!الطاف حسین ایک جادو گر ہے۔۔۔ الطاف حسین کی شکل میں بھٹو کا دوسرا جنم ہوا تھا یا یہ شخص ایک جادو گر تھا؟ میں نے جب بھی اس شخص کی شخصیت میں جھانکنے کی کوشش کی ، ان دوجملوں کی گرفت سے نکل نہ پایا۔کبھی بھٹو والے جملے کی کشش نے اپنی جانب کھینچااور کبھی الطاف حسین کے جادو نے مسحور کیا ۔بس یہی کشمکش تھی کہ میں یہ راز پا ہی نہ سکا کہ الطاف حسین کیا ہیں؟اب اتنا زمانہ گزرنے کے بعد الطاف حسین کے آنسوؤں اور ہچکیوں نے مجھے پھرسے بے چین کردیا ہے اوریہ سوال توانا شکل میں سامنے آکھڑا ہوا ہے کہ یہ شخص آخر ہے کیا؟ایسا لگتا ہے جیسے میں حاتم طائی کے حمامِ گرد باد کے سامنے کھڑاہوں جس کی پیشانی پر یہی سوال کندہ ہے ۔اب میرے سامنے دو ہی راستے ہیں ۔ایک یہ کہ اس سوال کا جواب تلاش کرکے بحفاظت واپسی کا راستہ پکڑوں یا پھر عمر بھر ان ہی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہوں۔
الطاف حسین اور مجھ میں ایک قدر مشترک ہے۔ الطاف حسین جامعہ کراچی کے فرزند ہیں۔ خوش قسمتی سے میں نے بھی پاکستان کی اسی قابل فخر جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔یہ میری بدقسمتی ہے کہ مجھے الطاف حسین کا زمانہ نہ مل سکا ۔ میرے جامعہ میں آنے سے پہلے ہی وہ یہاں سے فارغ ہو کر بدیس سدھار چکے تھے لیکن میں ان دنوں جامعہ میں ہی تھا جب الطاف حسین کی وطن واپسی ہوئی۔ وطن واپسی اور معاً بعد جلسہ۔نشتر پارک میں ہونے والا یہ وہی جلسہ تھا جس کی بازگشت آج بھی کبھی کبھی سنائی دیتی ہے اور الطاف حسین کے مخالفین الفاظ چپا چبا کر بتایا کرتے کہ دوران تقریر پنڈال کے اوپر سے ایک مسافر طیارہ گزرا تو الطاف حسین نے طیارے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
یہ پنجاب ائیر لائینز کا طیارہ ہے
یہ عین وہی زمانہ ہے جب ملک میں وی سی آر کلچر عروج پر تھا اور لڑکے بالے اسکول کالج کی کتابوں میں چھپا کربھارتی فلموں کے کیسٹ گھر لاتے اور ساری ساری رات انھیں دیکھا کرتے ۔نوجوانوں کی طرح ان کے بڑوں کا شوق بھی ان سے مختلف نہ تھا۔الطاف حسین نے اپنے پیرو کاروں کا مخاطب کر تے ہوئے کہا: مہاجرو!ٹیلی ویژن اور وی سی آر بیچو اور اسلحہ خریدو
الطاف حسین نے ایسا کیوں کہا؟یہ سوال بہت اہم بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ایسا لگتا ہے کہ یہی سوال الطاف حسین کے پیرو کاروں کی تیسری نسل نے بھی اپنے رہنماؤں سے دریافت کیا ہوگا ۔انھیں اس سوال کا جو جواب ملا ،وہ دلچسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔جواب تھا: تحریکوں میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں جب ٹیلی ویژن اور وی سی آر بیچ کر اسلحہ خریدنا لازم ہو جاتا ہے۔مہاجروں کی قومی تحریک پرجسے بعد میں پاکستان کی متحدہ قومی تحریک کی شکل اختیار کرنی تھی، یہ موقع کیوں آیا؟کیا یہ سوال بھی اس تحریک کی نئی نسل نے اپنی قیادت سے دریافت کیا اور اگر دریافت کیا تو اس سوال کا کوئی جواب بھی ملا؟
یہ ظاہر ہونا ابھی باقی ہے۔کیا الطاف حسین کے پیرو کاروں نے ٹیلی ویژن اور وی سی آر بیچ کر اسلحہ خریدا؟ اس بارے میں کہی سنی باتیں تو بہت ہیں لیکن کوئی ایسا الزام کسی پر ہرگز نہیں لگانا چاہئے جس کا ثبوت دستیاب نہ ہو۔البتہ ایک بات ایم کیوایم کے اس زمانے کے چیئرمین سے منسوب ہے جس کی تردید آج تک نہیں کی گئی۔جون 1992ء میں جب اس جماعت کے خلاف آپریشن شروع ہواتو عظیم احمد طارق نے کہا: سب زیر زمین چلے جائیں۔ خبردار! کوئی ایک گولی بھی نہ چلے۔۔۔عظیم احمد طارق اس بیان کے بعد خود زیر زمین چلے گئے ۔کچھ عرصے کے بعد منظر عام پر آئے ۔اس کے بعد ہمیشہ کے لیے منظر سے ہٹا دیے گئے۔ان کے خون سے ہاتھ رنگنے والا کون بدبخت تھا ؟ یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔ ایم کیوایم کو اپنے چیئر مین کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بے چین ہونا چاہئے تھا۔وہ کچھ عرصے تک بے چین بھی رہی لیکن بعد کی ہنگامہ خیز سیاست اس کے قائدین کومصروف کرتی چلی گئی ۔الطاف حسین اپنے ابتدائی زمانے کے ایک قیمتی ساتھی سے محروم ہوئے تھے۔ یہ ان کے لیے کتنا بڑا نقصان تھا؟ اس کا اندازہ بعدمیں ان کے کئی تقریروں سے ہوا جس میں خود انھوں نے بھی آنسو بہائے اور سننے والوں کو بھی رونے پر مجبور کیا۔(جاری ہے)