میڈیاکاکام مایوسی پھیلانانہیں امیدیں بیدارکرناہے،عامرلیاقت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالَم اور عالِم میں ناظرین سے براہ راست گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ مبصروں اور دانشوروں کاکام لوگوں میں مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ معاشرے میں امیدیں بیدارکرنا ہے مگر بدقسمتی سے میڈیا کے بعض غیر دانشمند عناصرکو مایوسیوں اور ناکامیوں کے سوا کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔ پروگرام کے آغاز میں اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شعبہٴ صحافت سے تعلق رکھنے والوں کا فرض معاشرے کی خرابیوں، کوتاہیوں، لغزشوں اور غلطیوں کو عیاں کرنا ہے لیکن یہ کام دلیل، شواہد اور دیانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض غیرمحتاط عناصرکی وجہ سے کنفیوژن، دہشت، خوف، فتنہ پروری و فتنہ انگیزی کی فصل نشوونما پا رہی ہے جس کی وجہ سے مایوسی اور ناامیدی کے اندھیرے اتنے گہرے ہوچکے ہیں کہ امیدکے روشن جگنوکسی کودکھائی ہی نہیں دیتے۔ میزبان کی متاثرکن گفتگوکے بعد دنیابھر میں اسلام کی اشاعت کا فریضہ سرانجام دینے والے مفتی سید محمد عارف شاہ اویسی نے فقہی امور سے متعلق ناظرین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ جادو حقیقت ہے اور اسلام نے اس کے توڑ کے لیے ہماری واضح رہنمائی فرمائی ہے تاہم ضعیف العقیدہ خواتین اس سلسلے میں جعلی عاملوں سے رجوع کرتی ہیں اور ان کے مالی تقاضے پورے کرکے بھی دلی مراد کے حصول سے محروم رہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کم علم خواتین ہی کی وجہ سے جعلی عاملوں کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ ماہ رجب کے معمولات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حرمتوں والا مہینہ ہے جس میں عبادات وصدقات کے خصوصی اہتمام کے ساتھ ساتھ باہمی جھگڑوں کے خاتمے اور صلح وآشتی کے فروغ کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔ حق مہر کے تعین سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حق مہر شادی کا ایک اہم جزو ہے اور اسے مقررکرتے وقت بخل سے کام نہیں لینا چاہیے، اسلام نے حق مہر خوشی اور باہمی رضامندی کے ساتھ مقرر اور اداکرنے کا حکم دیا ہے۔ روحانی وظائف پر مبنی پروگرام کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ممتاز روحانی شخصیت مولانا بشیر احمد فاروق قادری نے کہا کہ اصحاب کہف کے اسمائے گرامی خاص روحانی اہمیت کے حامل ہیں اور شیاطین کے شر سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے ناظرین کو اُن کے مختلف مسائل کے حل کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں وظائف بھی بتائے۔ ایک سوال کے جواب میں سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہم پر بہت سے مصائب باوضو نہ ہونے کی وجہ سے بھی نازل ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے ہوشی کے خاتمے کے لیے ایک ہزار مرتبہ یا اللہ پڑھے ہوئے پانی کا چھڑکاوٴ مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ یااللہ یا رحمن یارحیم اور درودپاک کا مستقل ورد تنگدستی کے خاتمے اور بہت سی مشکلات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مولانا بشیر فاروق قادری کے دعائیہ کلمات پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat