صاف نظر آرہا ہے کہ انڈیا کے برے دن آرہے ہیں۔ ویسے اس کی ابتدا تو اسی وقت ہو گئی تھی جب دنیا کے سامنے انڈیا کے وزیر داخلہ کا بیان آیا کہ خود انڈیا دہشت گردی کرتا ہے اور الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے، اس نے پہلے انڈیا بندی اور ساڑھی کے زور پر دنیا کو بیوقوف بنانے میں کامیاب جا رہا تھا۔ امریکہ بھی انڈیا کو اپنے قریب لانے کے لئے پاکستان کے خلاف اس کے معاندانہ پروپیگنڈے میں ساتھ دیتا تھا۔ لیکن جب پچھلے دنوں لداخ کے 38کلو میڑ رقبے پر چین کی سریع الحرکت پیپلزآرمی نے قبضہ کر لیا اور امریکہ نے اس کی مذمت میں ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تو انڈیا کو پہلی بار احساس ہو ا کہ وہ اپنے منفی ہتھکنڈوں کی وجہ سے دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔ رہی سہی کسر انڈیا میڈیا نے پوری کر دی اور صحیح معنوں میں کانگریس حکومت کو منہ چھپانے کےلئے بھی جگہ نہ ملی۔ اب تازہ ترین جو کارنامہ پوری یونین نے انجام دیا ہے اس کے بعد تو انڈیا کو اپنامنہ صاف کرنے کیلئے ٹشو پیپر کی آفر بھی کسی دوسرے ملک نے نہیں کی ہے، اس پر بس نہیں ہے ناروے نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انڈین نوجوان کے وحشیانہ مظالم کی مذمت کر دی ہے۔ یورپی یونین نے افضل گورو کی پھانسی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ یاد رہے کہ اقوام عالم میں اس وقت دنیا بھر میں سب سے مضبوط اور طاقتور اتحاد پوری یونین کا ہے جس میں یورپ کے تمام ممالک شامل ہیں۔ افضل گورو کے حوالے سے پوری یونین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی بات بھی کی ہے اوریکایک پھانسی دینے اور افضل گورو کے گھر والوں کو بھی اطلاع نہ دینے پر انڈین فورسز کی مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے کشمیر خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم پر کبھی پوری یونین نے نوٹس نہیں لیا تھا مذمت کرنا تو بہت بڑی بات ہے اور یورپی یونین کے اس مذمتی بیان نے انڈین حکومت کو پریشان کر دیا ہے۔ ویسے پریشان تو منموہن سنگھ کی حکومت کو سعودی عرب کے اس اعلان نے بھی کیا ہو اہے کہ سعودیہ میں مقیم تمام غیر ملکی جن کے ویزے ختم ہو چکے ہیں یا پاسپورٹوں کی تجدید نہیں ہوئی ہے یا کسی دوسری وجہ سے غیر قانونی طور پر سعودیہ میں مقیم ہیں وہ 6جولائی تک سعودیہ سے نکل جائیں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اطلاع آتے ہی منموہن سنگھ حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے کیونکہ اعلان کے بعد انڈین مشن (سعودیہ) میں 56700انڈینزنے اپنی رجسڑیشن کرائی اور اعلان کیا کہ وہ اس وقت سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ منموہن سنگھ نے اپنے دو تین وزراء کو فوراً سعودیہ روا نہ کیا کہ شاید بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے لیکن سعودی عرب جو قدم اٹھاتا ہے وہ سوچ سمجھ کر اٹھاتا ہے۔ چنانچہ جب دال گلتی نظر نہیں آئی تو پھر انڈین وزیر خارجہ مسلمان خورشید نے اعلان کیا کہ وہ دو روزہ دورے پر سعودیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ اس مسئلہ پر اتھارٹیز سے بات چیت کریں گے۔ انتہا پسند ہندو انڈیا پانے ایک مسلمان وزیر خارجہ صرف اسی مقصد کےلئے اپنے پاس رکھا ہے تاکہ اسلامی ممالک کی اتھارٹیز کو بے وقوف بنانے میں آسانی رہے اور کسی بھی مسئلہ پر مسلمان حکمرانوں کے دل میں نرم گو شہ پیدا کیا جاسکے۔ لیکن یہاں سعودی عرب نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ 6جولائی تک انڈیننز کو جیل نہیں بھیجا جائے گا لیکن اگر اس تاریخ کے گزر نے کے بعد کوئی انڈین غیر قانونی طور پر سعودیہ میں مقیم پایا گیا تو پھر اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے گا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ سے پہلے پہلے انڈیننز کے قانونی کاغذات اور نواوبجیکشن سرٹیفیکٹ بنانے کے لئے انڈیا میں سرکاری افسر مجبور ہو گئے ہیں۔ چار ہزار انڈین رضا کار غیر قانونی مقیم انڈینز کے کاغذات تیار کر لئے ہیں۔