یارسول اللہ!رفعت آپ نے پائی کہ بس!...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین


جیسے ہی جہاز کے کپتان نے یہ اعلان کیا کہ طیارہ مدینہ منورہ کے ہوائی اڈے پر بس اُترنے ہی والا ہے تو یوں لگا کہ جیسے جسم میں موجود لہو کے دریا میں تقدس کی ایک لہر سی اُٹھی ہے جو قلبِ مُضطر کو گویا یہ پیغام دے رہی ہے کہ تیری بے چینی اور بے اطمینانی کو ایک قرار ملنے والا ہے ، اب غموں کو چھپا کر نہ رکھنا، قطعاًمسوس کر نہیں رہنااور آنسوؤں کا ایک بھی گھونٹ نہ پیناکیونکہ جن کی بارگاہ میں عرض کرنا ہے وہاں شرفِ باریابی کا موقع اب ملنے ہی والا ہے اے دل! وہاں حالِ دل کھول کر رکھ دینا،اورگَر ادب آڑے آجائے اور تُو کچھ نہ کہہ پائے اُس وقت اِتنا جان لینا کہ اللہ کی عطا سے وہ توسب جانتے ہیںاور میں اِسی خیال کی راہداریوں میں چلتے چلتے ہمت جوڑ کر سیڑھیاں اُترنے لگامیں یقینا جہاز کی سیڑھیاں اُتر رہا تھا لیکن حقیقتاً اپنی معراج کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھاجب وہ بلاتے ہیں تو استقبال مہمانوں سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے ، امیگریشن سے لے کر ہوائی اڈے سے باہر نکلنے تک ہر چہرہ یوں مسکرا کر راستہ دے رہا تھا کہ جیسے کہہ رہا ہو کہ اے گناہ گارو!پاک پروردگار کے پاک حبیب کے پاک شہر میں پاکی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم تمہیں مبارک ہوں، یہاں کا ہر مسافر بخشش کے غسل کے بعد یوں نکھر جاتا ہے جیسے بہار کی پہلی بارش پتوں کو نیا حسن دیتی ہے ، تم بھی یہاں سے محروم نہیں جاؤ گے کہ کسی کو محروم لوٹانا اِس بلدِ امان کی فطرت نہیں!
باہر نکلا تو تہجد کی گھڑیاں تھیں اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہجی چاہتا تھا کہ راستہ نہ کٹے اور میں یوں ہی مدینے میں گھومتا رہوں لیکن عشق کہتا تھا کہ مایوس کیوں ہوتا ہے!ایک دن جان نکلنے دے پھر دیکھ لینا کہ اِس شہرِ نبی میں تُو مَرکے جیتا ہوا گھومے گا، ابھی محبوب کو جو محبوب ہے وہ نمازِ عشق تو ادا کر لے! ایئرپورٹ سے معاذ اور معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے خریدی ہوئی زمین پر قائم مخلوقاتِ کائنات کا مرجع یعنی میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد تک کا سفر18منٹ میں طے ہواراہ میں اُحد بھی ملا، اُسی طرح مستعد، ویسا ہی چوکس اور ہمیشہ کی طرح اپنے محبوب کا طالباِس پہاڑ کی محبت کے ڈھنگ بھی بڑے نرالے ہیں، نہ ظاہری حیات میں سرکار کو تکنا چھوڑا اور نہ پردہ فرمانے کے بعد روضے سے نگاہ ہٹائیاب بھی مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عین سامنے اپنے سر کی آنکھوں سے ہر لمحہ مسجد کے میناروں کے درمیان اُسی گنبدِ خضریٰ کو عقیدت سے تَکتا رہتا ہے جہاں کے مکین نے اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ اُحد، ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اُحد سے محبت کرتے ہیںپھر یہ عظیم المرتبت جبل کیسے بھول سکتا ہے کہ ایک دن اِس محب کو اِس کے محبوب نے بڑے پیار سے مراتب اور مدارج سکھائےاِسے یاد ہے کہ جب یہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلینِ پاک کو چومنے کے لئے بے تاب ہوکرگزارشاً لرزنے لگا تو معلمِ کائنات نے اِسے قرآن اِس طرح سکھایا کہ اُس سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے اُحد! ٹھہر جاتجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیںدرحقیقت یہ وہ مراتب ہیں جو قرآن نے متعین کئے ہیںپہلے انبیاء، پھر صدیقین، پھر شہداء اور پھر صالحینانبیاء گر شہید ہو جائیں تب بھی انبیاء کہہ کر پکارے جائیں گے کہ یہ شہادت سے کہیں اعلیٰ درجہ ہے اور صدیقین اگر شہادت کا درجہ حاصل کرلیں تب بھی صداقت کا تاج شہادت کی خلعت سے افضل قرار پائے گا اور جنہیں جامِ شہادت کے چند قطرے مل جائیں وہ انبیاء اور صدیقین کے پڑوس کے علاوہ کہیں اور کیسے رہ سکتے ہیںاور اُس وقت اُحد پر بھی کچھ ایسا ہی منظر تھاوہاں نبی ایسا کہ انبیاء جس کی امامت کے مشتاق ہوں، صدیق وہ کہ صداقت جس کی زیارت کی تمنا کرے اور دو شہید ایسے کہ شہادت کو بھی اپنی تخلیق پر ناز ہوبس ! آقا کا اِتنا ہی کہنا تھا کہ غلام اُحد سمجھ گیا اور تب سے لے کر اب تک اُس کی نگاہوں نے روضہٴ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر جنت البقیع تک کا یوں احاطہ کر رکھا ہے کہ نہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نگاہ ہٹتی ہے اور نہ ہی صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پلک جھپکتی ہے، نہ چشمِ کوہ، فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑ کر کہیں اور لپکتی ہے اور نہ شہیدِ مظلوم عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دُور ہٹتی ہے !
چنانچہ رشکِ قسمتِ اُحد کے احساس میں گم مجھ عاصی کو خبر ہی نہ ہوئی کہ مطلوبِ عاشقاں اب زیادہ دور نہیں،میناروں سے اللہ اکبر کی صدائیں بَلند ہونے والی تھیں اور فجر کی ادائیگی کے ساتھ ہی اجر کے لاتعداد دروازے بنا آواز یوں کھلنے کو بے چین تھے کہ جیسے اپنے طالبوں کو مدت سے پہچانتے ہوںلہٰذا میں سامان ِ دنیا، دنیا ہی کے ایک گوشے میں رکھنے کے بعد اپنی اہلیہ بشریٰ کو ساتھ لے کر سامانِ آخرت کی خریداری کے لئے ادب سے اُس در کی جانب بڑھنے لگا جہاں دُرود کے سِکّوں سے مغفرت کی اُمید حاصل کی جاتی ہے، جہاں اطاعت سے جھکی ہوئی نگاہیں وہ بانہیں تلاش کرلیتی ہیں جو اُنہیں راہِ نجات پر لے جانے کے لئے ایک عرصے سے منتظر ہیں،جہاں تسلیم و رضا سے سرشار نفوس،جلوس کی شکل میں منزلوں کی جانب لے جائے جائیں گے اور جہاں بِن مانگے وہ سب کچھ مِلتا ہے جس کے لئے امکان کو تصور نہیں کرنا پڑتامسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر ایک حصہ نمازیوں سے پُر تھا،کوئی چپکے چپکے آنسو بہا رہا تھا تو کوئی تلاوت کی لذتوں میں محو، مقامِِ عشق سے بھی آگے جارہا تھا،کسی کے لبوں پہ دُرود تھا تو کسی کی نگاہوں میں سلام، کوئی سر جھکائے نادم تھا تو کوئی ہاتھ اُٹھائے عازم عشاق کا ایک عجیب جھمگٹا تھا ، جیسے چاند کے گرد کروڑہا ستارے چمکتے ہوں، پست آوازوں سے صلوٰة و سلام کی آپس میں سرگوشیاں اللہ کو کتنی پسند آرہی تھیںاُس کے بندے کس قدر احترام سے اُس کے اِس حکم کی پاسداری کررہے ہیں کہ اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرنااللہ خوش تو سرکار بھی شاداں، سرکار جو خوش تو اللہ بھی نازاںیہ محبت کے وہ پُراسرار راستے ہیں جہاںسطحی مسلمانوں کو داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں، معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت پہلے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ ماننے والے اور ہیں اور جاننے والے اور جاننے والے اُن ہی دروازوں سے داخل ہوں گے جنہیں وہ جانتے ہیں اور ماننے والےبے شک ہر دروازے سے داخل کئے جائیں گے!!
میں بھی ایک مجرم کی طرح وہیں یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ درِ نبی پر پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہوگاکچھ دیر بعد نماز کے لئے اُٹھا تو یہ خیال آیا کہ اے کاش! میں اُن کے سامنے نماز پڑھتا اور وہ مجھ سے کہتے پھر پڑھ کہ تو نے صحیح ادا نہیں کی، میں اُن کا حکم بجالاتا اور وہ کہتے پھر پڑھ کہ تو نے اِسے جلد بازی میں ادا کیا ہے اور میں سرتسلیم خم کرتایہاں تک کہ وہ فرماتے رہتے کہ ایک بار اور پڑھ کہ اب بھی تُو نے حق ادا نہیں کیا اور میں شوقِ تعمیلِ حکمِ رسول میں بار بار اللہ کے حضور جھکتا رہتا، وہ میری نماز درست کراتے رہتے، میں اُن کا حکم مانتا رہتا اور پھر یوں ہوتا کہ وہ پیار سے ایک دھپ عطا فرماتے جو جنت کی سند کے لئے کافی ہوتی اور یوں گویا ہوتے کہ اب تُو نے درست نماز ادا کی ہے عشق کے تراشیدہ اِس منظر نے مجھے یک بارگی پھوٹ پھوٹ کر رُلا دیا اور میں دِل ہی دِل میں کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھے نماز پڑھنا نہیں آتی،یا آقا! مجھے دُرود بھیجنا نہیں آتا،یا سیدی!مجھے اللہ سے مانگنے کا سلیقہ نہیں آتامیرے مُرشدی! مجھے دین سکھائیے، میرے حبیبی!مجھے ایک دھپ عطا فرمائیے، کیا میں مدینے سے یوں ہی لوٹ جاؤں گا، بادشاہ کے دربار سے بھی بھلا کوئی خالی ہاتھ واپس جاتا ہے ، مجھے اللہ سے محبت کے طریقے سمجھائیے،مجھے بارگاہِ ذوالجلالِ والاکرام میں پکارنے کے قرینوں سے آشنا فرمائیے میں جاہل ہوں،میں کاہل ہو، اپنے ہی ایمان کی راہ میں حائل ہوں،مگر مدینے کا ایک سائل ہوںمولا! سائل کو عطا کیجئے، بھٹکا ہوا ہوں،اب راستہ دکھادیجئےمیں کہتا رہا،آنسو بہتے رہے اور مسجد نبوی کے قالین میں جذب ہو کر یہ نفیس پیغام دے گئے کہ درِ محمد پر ہر شے محفوظ ہے اور فیصلے کے دن ہر محفوظ شے اِسی لئے پیش ہوگی تاکہ اُس سے جڑی نسبت کو محفوظ کر اسکے (آمین )
For more Article, News and Videos, please visit Dr Aamir Liaquat Husain Official website:www.AamirLiaquat.com, Follow on Twitter: @AamirLiaquat