Results 1 to 2 of 2

Thread: مکہ کا مقدس تاجر امین ایفائے عہد اور اصول ت&

  1. #1

    مکہ کا مقدس تاجر امین ایفائے عہد اور اصول ت&




    مکہ کا مقدس تاجر امین ایفائے عہد اور اصول تجارت کی بہترین مثال ہے، عامر لیاقت ، جیو کے عالم اور عالم میں ممتاز ریسرچ اسکالر کا لیکچر
    کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمگیر شہرت یافتہ ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ اسلامی معاشرے میں پیشہ تجارت کو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے تعبیر کیاگیا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اللہ تعالی نے رزق کے دس حصوں میں سے 9حصے تجارت میں رکھے ہیں۔ اسلام میں اصولِ تجارت کے موضوع پرجیو کے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اورعالم میں نشرہونے والے اپنے معرکة لآرالیکچر میں ممتاز تجزیہ نگارنے کہا کہ تجارت انسان میں قائدانہ صلاحیت پیدا کرتی ہے ،تاجر کے محاسنِ اخلاق میں سب سے زیادہ نادر مثال ایفائے عہد اور اِتمام وعدہ کی ہوسکتی ہے اِسی لیے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی مکے کا مقدس تاجرامین اِس اخلاقی نظیر کا بہترین نمونہ تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تجارتی اصولوں کومثالی قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجارت آپ سے پہلے بھی ہوتی تھی مگر آپ نے تجارت کوبطورپیشہ اپنا کر عبادت بنادیا۔بحریہ یونیورسٹی کراچی میں قرآن و احادیث کے مستند حوالوں کے ساتھ لیکچردیتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی صادق و امین نہیں ہوسکتا تاہم آپ کے مقرر کردہ صداقت و دیانت کے پیمانوں پر عمل پیرا ہونا بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ کسب حلال کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسبِ حلال،محنت مزدوری،صنعت و حرفت اور تجارت کی تلقین فرمائی یہاں تک کہ نفلی عبادت پر بھی اِسے ترجیح دی چنانچہ ارشاد ہے کہ عبادت کے 70جزو ہیں اور اِن میں سے افضل ترین کسبِ حلال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض چیزیں جن کا استعمال منع ہے یا جو نجس ہیں، اللہ کے رسول نے ان کی تجارت ممنوع قرار دے دی ہے مثلا شراب،سود او ربتوں وغیرہ کی تجارت ۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ داری کی بنیاد جن بڑے ستونوں پر ہے وہ بے لگام،آزاد اور باطل نجی ملکیت کے علاوہ سود، قما ر یعنی سٹے بازی اور احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی اور دیگر ناجائز آمدنیاں ہیں۔ عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ختمی مرتبت کے احکامات کے مطابق تجارت میں دھوکا،خیانت،ضرر اور نقصان کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ باطل طریقوں میں سرِ فہرست سود کا ہر قسم کا کاروبار ہے جسے اسلام نے مکمل طورپر حرام قرار دے دیا ہے اور سود خور کو اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کا چیلنج دے دیا۔بعد ازاں طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے موضوع سے متعلق سوالات کیے اور رہنمائی حاصل کی ۔ ایک طالبہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیوی اور بچوں کی کفالت اگرچہ شوہر کی ذمے داری ہے تاہم بچوں کی کفالت، بہتر تعلیم اور بہتر طرز زندگی کے حصول کے لیے خواتین ملازمت کرسکتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کاکہناتھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عمررسیدہ اورنادارافراد کی کفالت ریاست کی ذمے داری ہے۔ نوجوان نسل کو کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صدی مواصلات کی صدی ہے لہٰذا طلباء کو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنا چاہیے۔طلباء کے سوالات پر ڈاکٹرعامرلیاقت حسین کے جامع اور برجستہ جوابات پربحریہ یونیورسٹی آڈیٹوریم مسلسل تالیوں سے گونجتا رہا۔ اپنے تاریخ ساز لیکچرکے اختتام پر طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پرانہوں نے بیت اللہ کے روح پرور مناظر کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کعبے کی رونق کعبے کا منظر پڑھ کر ایک سماں باندھ دیا۔
    www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat
















  2. informative sharingg

Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 10th June 2013, 04:15 PM
  2. Replies: 0
    Last Post: 8th June 2013, 08:21 PM
  3. Replies: 0
    Last Post: 15th May 2013, 11:56 AM
  4. Replies: 0
    Last Post: 31st March 2013, 01:29 PM
  5. Replies: 0
    Last Post: 14th March 2013, 10:07 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •