Aalam Aur Aalim 69th Episode of 2013 with Aamir Liaquat Husain 10-6-2013


کراچی(اسٹاف رپورٹر)شاہ زیب قتل کیس میں ملوث مجرموں کی جانب سے سزاسننے کے بعدفاتحانہ اندازِ تفاخرکوملکی نظام عدل اور معاشرے کی تذلیل قراردیتے ہوئے جید علمائے کرام نے کہا ہے کہ شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کے اس طرز عمل نے پورے ملک کو ہلاکررکھ دیاہے اور اِن حالات میں ہرشخص یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اُنہیں سزاسنائی تو گئی ہے مگرشاید اس پر عمل درآمد ممکن ہوناممکن نہیں۔ جیوکے شہر ہٴ آفاق عالم اور عالم کے خصوصی پروگرام میں ڈاکٹرعامر لیاقت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیم مدارس اہل سنت کے سربراہ مفتی منیب الرحمن اور جامعہ دارالخیرکے مفتی عثمان یار خان نے کہا ہے کہ تباہی اور بربادی گناہوں پر فخر کرنے والوں کا مقدر بن جاتی ہے اوریہ واقعات ایسے معاشروں میں پیش آتے ہیں جہاں قانون اورانصاف کی حکمرانی نہیں ہوتی ۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین نے کہاکہ قرآن مجید میں سرکش اور نافرمان قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کے تکبر اور سرکشی نے سنگ باری اورعذاب الٰہی کو دعوت دی تھی۔ملک کے موجودہ ضابطہ قانون پرتحفظات کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں موجود سقم کو دور کرکے فوری اور یقینی انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے ۔ ان کاکہناتھا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے اور بروز حشر مقتول ،قاتل کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ذمے دار ٹھہرائے گا۔شاہ زیب قتل کیس میں ملوث مجرموں کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جامعہ دارالخیرکے مہتم مفتی عثمان یار خان نے کہا کہ نظام عدل میں موجود خامیوں کی وجہ سے لوگوں میں یہ خوف فروغ پارہا ہے کہ شایداس بار بھی مجرموں کو سزا نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ قانونی مو شگافیوں کی وجہ سے ہمارے یہاں 100بچوں کا قاتل بھی سزا سے بچ نکلتا ہے لہٰذا اس کی بہتری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست سے دین کو خارج کردیا جائے تو فرعونیت باقی رہ جاتی ہے۔ناظرین کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں تاہم فروعی معاملات اور اجتہادی تشریحات میں نیک نیتی کے ساتھ اختلاف رائے کا حق موجود ہے۔پروگرام کے آغازمیں اپنے مخصوص پُرجوش انداز میں واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے کہا کہ سزا سننے کے بعد کمرہٴ عدالت سے اکڑے ہوئے سینے اور تَنی ہوئی گردن کے ساتھ نکلنے والوں نے کھلے عام ہمارے نظام عدل کا تمسخر اڑایااورجن معاشروں میں جرم وجہِ افتخار بن جائے تباہی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ مجرموں کے فاتحانہ انداز نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور شاہ زیب کے والدین یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ آیا اس فیصلے پر عملدرآمد ہو گا بھی یانہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ عدالتی فیصلے کی دھجیاں اڑانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ دنیاوی عدالت سے توبچ سکتے ہیں لیکن اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکتے ۔ پروگرام کے دوران انہوں نے لیاری میں جاری خونریزی کے نتیجے میں معصوم جانوں کے زیاں پر تاسف کا اظہار بھی کیااورناظرین کو شعبان المعظم کے آغاز کی مبارکباد بھی دی۔