نظام عدل کے قیام تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، علمائے کرام
اہل پاکستان اپنے بچوں کو جلد از جلد مزار قائد اعظم دکھا دیں، عامر لیاقت کی عالم اور عالم میں گفتگو
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے جید علمائے کرام نے کہا ہے کہ جب تک قرآن وسنت کے مطابق نظام عدل کا قیام عمل میں نہیں لایا جائے گااورقصاص پر مبنی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوگا اُس وقت تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اور عالم میں ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے تنظیم المساجد اہل سنت پاکستان کے سربراہ مفتی محمد عابدمبارک اور محفل شاہ خراساں کے خطیب ڈاکٹر محمد حسن رضوی نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر حکمرانوں کی معنی خیز خاموشی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ اُن کے تانے بانے دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں ،ان کا کہناتھا کہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑرہاہے تاہم مذاکرات سے مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو ضرور ہونے چاہئیں۔پروگرام کے دوران ناظرین نے کالزکے ذریعے معصوم جانوں کے زیاں پر افسوس کااظہارکیااور علمائے کرام سے رہنمائی طلب کی۔ایک سوال کے جواب میں جامعة المصطفیٰ رضویہ کے مہتمم نے کہا کہ ماوٴں کی گودیں اور بہنوں کے سہاگ اجاڑنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے جبکہ ڈاکٹرحسن رضوی کاکہناتھا کہ قصاص میں حیات ہے جب تک معاشرے میں قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا دہشت گردی نہیں رکے گی۔ان کا کہناتھا کہ ہمارے یہاں قانون صرف کاغذ پر ہے حرکت میں نہیں ہے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔پروگرام کے آغازمیں کوئٹہ ومردان میں دہشت گردی کے واقعات،زیارت میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی آخری قیام گاہ کی تباہی اور ماہ شعبان کی حرمت کی پامالی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے کہا کہ ہم نے رجب کی طرح شعبان کے مقدس مہینے کا استقبال بھی لاشوں سے کیا جس پر ہرمسلمان کاسرشرم سے جھکاہواہے۔ اُن کا کہناتھا کہ یقیناً ہم سے کوئی ایسی کوتاہی ہوئی ہے جس کی یہ بھیانک سزا ہمیں مل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ مہینہ ہے جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مہینہ کہااور ہمارے اسلاف اس ماہ مبارکہ کے انعامات کو سمیٹنے کے لیے بے تاب رہتے تھے مگرافسوس کہ ہم نے اس کے تقدس کابھی لحاظ نہیں کیا۔ زیارت میں بانی پاکستان قائد اعظم کی آخری قیام گاہ کے انہدام پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ،قائداعظم کا ہم پر ایک عظیم احسان ہے جس کا بدلہ دہشت گردوں نے ان کی آخری قیام گاہ کو اڑا کر دیا۔ان کا کہناتھاکہ قابل افسوس امریہ ہے کہ ارباب اقتدار نے اپنی حفاظت کے لیے تو قلعے تعمیرکر رکھے ہیں مگر بانی پاکستان کی یادگار کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ اگرانہوں نے مزار قائد، سندھ مدرسة الاسلام اوروزیر مینشن نہیں دیکھا ہے تو جلد دیکھ لیں خدانخواستہ کہیں انہیں بھی دہشت گردی کی نذرنہ کر دیا جائے۔ بعدازاں پروگرام کے آخری حصے میں مسائل آپ کے ،حل وظائف سے میں ڈاکٹر عامرلیاقت حسین سے گفتگو کے دوران ممتاز روحانی شخصیت مولانا محمدبشیر فاروق قادری نے ناظرین کو اُن کے مختلف مسائل کے حل کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں مسنون وظائف بتائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قلوب صرف ذکر الٰہی سے ہی اطمینان پاتے ہیں جبکہ میاں بیوی کے مابین باہمی چپقلش کے خاتمے کے لیے نماز فجر کے بعد ۹۱۳ مرتبہ یاقدوس کا وردکارآمدہے نیز مرحومین کو ایصال ثواب کے لیے 700 مرتبہ کلمہ طیبہ کی تسبیح مفید ہے ۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=103122
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat