تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں!...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین
سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر اپنے اقوال زریں کی زنبیل میں ہاتھ ڈال کر وہی پرانا قول کبوتر کی طرح باہر اُڑایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے سے نمٹیں گےماشاء اللہ بھئی کیا کہنے ہیں۔آپ دونوں مل کر کتنا اچھا بولتے ہیں۔الگ ہی انداز ہے۔ قوم اب مطمئن ہوگئی ہے ، اب سب مسائل حل ہوجائینگے۔ارے! مجھے تو آوازیں بھی آرہی ہیں،یہ کیا ہورہا ہے، باہر اِس قدر شور کیوں ہے؟ کیا؟ڈرون گرایا گیا ہے ؟نہیں نہیں!یہ کیسے ہوسکتا ہے ،کیا واقعی؟ایک نہیں تین ڈرون گرے ہیں!کیا کہہ رہے ہو بھائی۔اللہ نظر بد سے بچائے اور یہ ٹی وی پر آج کیسی انہونی بریکنگ نیوز آرہی ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق کے بعد عدلیہ نے بھی دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکانے کا حکم دے دیا۔کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟
ہاں میں خواب دیکھ رہا ہوں۔یہ سب کچھ خواب ہی میں ممکن ہے ،حقیقت سے اِس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔جان کی امان پاؤں تو جان سکتا ہوں کہ آپ آخر متفق کس بات پر ہوئے ہیں۔اِس بات پر کہ لاشیں گرانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے؟ اِس بات پر کہ ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے ؟اِس بات پر کہ قائد اعظم کی رہائش گاہ کو بم سے اڑانے والوں سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہئے؟اِس بات پر کہ پاکستان میں آگ لگانے والوں کا مقدر تختہٴ دار ہے یا پھر اِس بات پر کہ حالات سنگین ہیں چلو مل کر ایک اجلاس ہی کرلیا جائے۔اے میرے ملک کے عجیب طاقت ورو!کان پک گئے ہیں ایسے اجلاسوں کی روداد سنتے سنتے،اب تو کہیں سے اِس طرح کے اتفاقِ رائے کی خبر بھی سننے کو ملتی ہے تو اُن ہی کانوں سے خود بخود بیزاری کی پیپ بہنے لگتی ہے ، تھک چکے ہیں ہم اِس تسلی چھینٹا لایعنی مشق سےاُلجھن ہوتی ہے ایسی دل جلانے والی گفتگو سے کیسا قومی اتفاقِ رائے؟ کس بات پر اتفاقِ رائے؟ارے یہ آپ کی ڈیوٹی ہے۔فرض ہےذمے داری ہے۔آپ ہم پر کوئی احسان کرنے نہیں جارہے اور نہ ہی ہمیں اِس پر آپ کا شکر گزار ہونا چاہئےاورپھر اِس قومی اتفاقِ رائے کےکل جماعتی سیشن میں ہوگا کیا؟اخبار میں خبریں لگیں گی کہ وزیراعظم کا ایک مستحسن اقدام،چند ایک کے سوا ساری سیاسی قیادت کو ایک میز پر جمع کرلیا،فلاں ہستی فلاں ہستی کے برابر میں تشریف فرما تھی جو ایک بریک تھرو ہے،فلاں صاحب کی چیف آف آرمی اسٹاف کے کان میں دیر تلک سرگوشی،دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی پر سب کا اتفاق،ملکی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار،جنرل کیانی کی قابلِ تعریف بریفنگ،وزیراعظم کا اختتامی خطاب،بعد میں پرتکلف عشائیہ یا ظہرانہاللہ اللہ خیر صلااِسی دورانخوارج کی طرف سے کسی نمازِ جنازہ پر پھر حملہ ہوگا،26,27افراد شہید ہوجائیں گے یا پھر علیحدگی پسند قائدِ اعظم کے مزار اور دیگر تاریخی مقامات کو بموں سے اُڑانے کی کوشش کریں گے،سپریم کورٹ اپنی پانچ سالہ کامیاب پریکٹس یعنی ازخود نوٹس جاری رکھے گی،جس کے بعد حکومت مستقل ٹس سے کچھ مس ہوگی، کچھ دنوں تک عدالتی سرگرمیاں میڈیا اور قوم کو مصروف رکھیں گی،بعد میں نوٹس کی شدت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی،مسائل کے طوفان کے سامنے دلائل کی گرد پناہ مانگے گی اور کہیں دوبارہ ایک اور خود کش حملہ ہوجائے گا یا پھرکراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں مزید تیزی آجائے گییہی ہورہا ہے اور یہی ہوگاآپ اتفاقِ رائے فرمائیں یا نہ فرمائیں مگر پاکستان کے دشمنوں کا اِس پر مکمل اتفاق ہے کہ خاکم بدہن پاکستان قائم نہیں رہنا چاہئےجتنے اجلاس بلانے ہیں بلا لیجیےجس قدر قوم کو دھوکا دے سکتے ہیں دے لیجیےمگر خدارا! اپنے آپ کو دھوکا مت دیجیے،آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسے اجلاسوں کی کوئی وقعت نہیں،یہ وقت ضائع کرنے کے وہ مستند ٹوٹکے ہیں جنہوں نے ذہین و زیرک حکمرانوں کو بھی برباد کرڈالایہ گھڑی فیصلے اور کچھ کردکھانے کی ہے ،کسی سے دو ٹوک انداز میں بات کرنے کی ہے اور کہیں طاقت کے ذریعے مزہ چکھانے کی ہےبہت لہو بہہ چکا،دنیا بھر میں رُسوائی مستحکم ہوگئی ہے ، میٹنگوں کا وقت گز رگیا جناب!قوم پتھرائی ہوئی آنکھوں سے نتائج کی منتظر ہے دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم کے اظہار جیسے طفلانہ جملے مٹھی بھر نمک کی طرح ہیں جو براہِ راست زخموں کو جلاتا ہے یعنی یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی کہ آپ دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم کا اظہار فرما رہے ہیںیہ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی قوم کو یہ اطلاع دے کہ دوپہر میں سور ج نکلتا ہے اور رات کو اندھیرا ہوتاہے اور قوم اطمینان کا سانس لے کہ ہمیں کتنے دانا رہبر ملے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ سورج صرف دوپہرمیں نکلتا ہے اب تو یقینا ہماری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی،خوش حالی کے دن لگتا ہے کہ قریب آگئے کیونکہ کرتا دھرتا اِس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اندھیرا رات ہی میں ہوتا ہےاپنے فرائض کو نوافل بنا کر پیش نہ کیجئے،ذمے داریوں کو کرم فرمائی اور عنایات کے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش نہ فرمائیے عسکریت پسندوں سے مذاکرات ضرور کیجئے مگر معصوم بچوں کو یتیم اور سہاگنوں کو بیوہ کرنے والوں سے قصاص لینا بھی آپ ہی کی ذمے داری ہے جان لیجئے کہ قصاص ہی میں حیات ہے اور عدل ہی حل ہے جب تک بے رحم قاتلوں کوانصاف سے قتل نہیں کیا جائے گاتب تک نعشیں ملتی رہیں گی،گودیں اُجڑتی رہیں گی۔اپنے وزرا کو ہدایت فرمائیے کہ وہ اسمبلیوں اور چینلز میں براجمان ہوکر یہ کہنا چھوڑدیں کہ ہم ابھی آئے ہیں،مسائل حل کرنے میں وقت لگے گا۔جناب والا!یہ ایڈجسٹ ہونے کا وقت نہیں ہے،مانتا ہوں کہ جلدبازی میں فیصلے غلط بھی ہوسکتے ہیں مگر کم از کم فیصلے تو ہوں گے!آپ کا جن سے مقابلہ ہے وہ 11برسوں سے ایڈجسٹ ہو کر حملے کررہے ہیں، مساجد، اسکول، گھر، جنازے، تفریحی مراکز، فوجی ادارے، کچھ بھی تو نہیں چھوڑا ہے اِن کم ظرفوں نے لہٰذا ہمت کیجیے،اجلاسوں کی پریکٹس سے باہر نکلیے،ایک خطاب کر کے قوم کو اعتماد میں لیجیے اور بس کر گزرئیےآپ کو اپنے اُن بڑے بڑے وعدوں کا بھی تو پاس کرنا ہے جو آپ نے انتخابات جیتنے کے لئے قوم سے چیخ چیخ کر کیے تھے۔خفیہ اداروں میں کیا کچھ خفیہ ہورہا ہے ، ستم رسیدہ انسانوں کو اِس سے کوئی سروکار نہیں ہے ، ہمیں ڈر ہے تو اِس بات کا کہ قوم کے ساتھ جوکچھ خفیہ ہورہا ہے وہ اِس نہج پر نہ پہنچ جائے کہ پاکستان تو رہے مگر قوم خفیہ ہوجائے ۔آج ہماراپاکستان آپ سے ملتجی ہے، گو کہ اُس میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ زخموں سے چور چور ہے لیکن ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اتنا کہہ رہا ہے کہ مجھے بچالو!تو پھر آئیے ہم سب مل کر اپنے پاکستان کو بچائیں،اِس کی حفاظت کیلئے کسی قومی اتفاق رائے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ اِسی اتفاقِ رائے پر تو ہمارے اجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ وطن بنایا تھا،سنی سنائی باتوں اور پکے پکائے حل پر کان نہ دھریے گا، ہر کہانی کی تین جہتیں ہوتی ہیں۔ایک جہت آپ کی،دوسری سنانے والے کی اور تیسری سچ کی ۔مجھے اُمید ہے کہ آپ سچ کی راہ ہی اختیار فرمائیں گے۔بڑی امیدیں اور گہری توقعات ہیں،خدارا مایوس نہ کیجئے، ہم نے یہ سوچ کر صبر سے وقت گزارا تھا کہ ہمارے درد کو سمجھنے والا ایک دن ضرور آئے گااوربرداشت سے بھنچے ہوئے ہونٹوں کو اپنے پیار سے درد کے الفاظ عطا کرے گاکیونکہ صبر یہ نہیں ہے کہ کوئی دکھیارا کب تک انتظار کرسکتا ہے بلکہ صبر تو یہ ہے کہ وہ اِس طویل انتظار کے دوران پیمانے کو چھلکنے دیتا ہے یا نہیں۔آپ کے آنے تک ہم نے اِسے چھلکنے نہیں دیا، آپ اپنے رہنے تک ہم سے اِسے چھلکنے نہ دیں!!
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=103598
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat