Militants involved in Nanga pardat incident are identified.




گلگت : چیف سیکریٹری گلگت بلتستان منیر بادینی نے کہا ہے کہ نانگاپر بت بیس کیمپ پر حملے کے دہشتگردوں کی نشاندہی ہوگئی،15 سے 16دہشت گردوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے جو پہاڑی راستوں میں مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔آئی جی عثمان زکریا کیساتھ نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ سرچ آپریشن میں4ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے جبکہ دیامر جرگہ ان کی دہشتگردوں کی گرفتاری میں مدد فراہم کر رہا ہے۔اس موقع پر آئی جی عثمان زکریا نے بتایا کہ 10دہشتگردوں کا تعلق دیامر ،3کا کوہستان اور2کا مانسہرہ سے ہے جن میں عزیزاللہ ،محفوظ الحق ، شفیع ، عمر ،مجید، ہدایات اللہ ، ملک نجات کے ساتھ ساتھ شفیق اللہ ، قاری رفاقت اور ثنا اللہ شامل ہیں جبکہ واقعے کے ماسٹر مائنڈ مجید کا تعلق چلاس ہے ، انہوں نے فاٹا سے خصوصی ٹریننگ حاصل کی تھی اس سے قبل ہونے والے سانحہ کوہستان اور لولو سر میں بھی ان ہی کا ہاتھ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ دیامر کے جنگلات میں دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے آپریشن جاری ہے گرفتاری کیلئے11رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔