حاصل ہے یہا ں صدر کو اِس تک نہ...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین
عجیب صدر ہیں ہمارے اور نرالے پیر صاحب ہیں اُن کے، بھلا بتائیے یہ بھی کوئی تُک ہے کہ پیر صاحب کی ہدایات پر حضرت زرداری ایسے اچنبھے کرجائیں کہ عقل ہی دنگ رہ جائے اب معلوم نہیں کہ اِس میں کتنی حقیقت ہے مگر اخباری اطلاعات کے مطابق بعض افراد کے محبوب صدر (میں نے بہت چاہا کہ عوام لکھ دوں مگر حالات نے قلم کو بھی سرکش بنادیا ہے اوراُس نے آگے بڑھنے سے انکار کردیاہے)نے اپنے پیر صاحب کے حکم پر دوسری مرتبہ آٹھ غیر ملکی سفیروں سے اُن کی اسنادِ سفارت وصول کرنے کی تقریب کو مؤخر کردیا۔ چین، برونائی، لبنان، یوراگوئے اور دیگر چار ملکوں کے سفراء حضرات جنابِ صدر کواپنے کاغذات پیش کرنے کے لئے دو ہفتوں سے نگاہ کرم کے منتظر ہیں۔
آپ جب یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو امکانات ہیں کہ وہ اپنی اسناد پیش کرچکے ہوں کیونکہ جمعرات کے روز تقریب شیڈول کی گئی تھی جس کے مطابق اُمید کی جانی چاہئے کہ اِس معطل فریضے کی ادائیگی شایدکردی گئی ہو۔ یہ وہی پیر صاحب ہیں جن کے مشوروں کو معاذ اللہ غیبی اشارے سمجھتے ہوئے صدر صاحب پہاڑوں والے دارالحکومت کو چھوڑچھاڑ سمندر والے بلاول ہاؤس پہنچ جاتے ہیں اور اُس وقت تک باہر قدم نہیں نکالتے ہیں جب تک کہ پیر صاحب اگلا حکم ارشاد نہ فرمادیں۔ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اُن کے مرید کے سر پہ بعض بدروحیں منڈلاتی رہتی ہیں جن سے چھٹکارے کے لئے جان پیر کا سمندر کے پاس رہنا کبھی کبھی اشد ضروری ہوجاتا ہے اور اِسی بنا پر وہ مارگلہ کا پہاڑی سلسلہ چھوڑ کر بحیرہٴ عرب کی کئی کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے ارگرد براجمان ہوجاتے ہیں۔ اللہ صدر صاحب کو سلامت رکھے وہ کہیں بھی رہیں یہ اُن کا اپنا ملک ہے اور ویسے بھی یہ اُس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے کے مصداق اُن سے اُن کا استحقاق چھیننے کی کسی میں جرأت ہے اور نہ ہی ایسا عمل کسی کو کرنا چاہئے۔ البتہ میں بدروحوں کے انتہائے ذوق یا اظہار عداوت پر حیران ہوں اور اُنگلیاں دانتوں میں دابے یہی سوچ رہا ہوں کہ بدروحوں کے منڈلانے کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو صدر صاحب اُن کے برزخ بدر معیار پر پورا اُترتے ہیں یا پھر بدروحوں کی اُن سے کوئی سنگین دشمنی ہے۔ پیر صاحب کہتے ہیں کہ میں اِن بدروحوں کو جھاڑتا ہوں،میں اُن کے اِس دعوے پر بدروحوں کا مؤقف تو واقعی نہیں جان سکا مگر گمان بضد ہے کہ بدروحوں کے منڈلانے کی کوئی مضبوط اور ٹھوس وجہ تویقینا ہوگی۔ممکن ہے کہ بدروحیں اُن کے اردگرد موجود رہ کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہوں اور یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ بدروحوں کو صدر صاحب کے مقدر پر غصہ آتا ہو ۔یہاں مجھے کھلی عداوت،جلن او ر حسد کے عمیق ،گہرے اور سیاہ ہیولے نظر آتے ہیں اور غالباً اِسی وجہ سے پیر صاحب اپنے مرید خاص کے بارے میں انتہائی متفکر رہتے ہیں۔
بے شک اُنہیں یہ فکر کرنی بھی چاہئے،اِن بدروحوں کا کیا بھروسہ نہ جانے کب کون سا وار کرجائیں؟ ظاہر ہے کوئی ایسا عمل تو یقینی طور پر پیرصاحب کرتے ہوں گے جس کے سبب صدر مملکت کچھ عرصے بعد ہشاش بشاش دارالحکومت لوٹ کر اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ایوانِ صدر میں جلوہ گر ہوجاتے ہیںخیر یہ رازتو اب بھی منکشف طلب ہے کہ زرداری صاحب کے پیر صاحب روحیں جھاڑتے ہیں یا روحوں کو جھاڑتے ہیںمجھ جیسا ناقص العلم اور فاطرالکلام تو یہی سمجھتا ہے کہ یہ دونوں مختلف قسم کے علوم ہیں اور اِن کی اپنی ایک الگ جہت ہےپہلا بدروحوں سے عاملانہ جنگ کا مظہر ہے تو دوسرا اُن سے گہری قربت کا اشارہ ہے یعنی بدروحیں جھاڑنا ایسا ہے جیسے متاثرہ وجود کو اُن کے اثرات سے پاک کیا جارہا ہو جبکہ بدروحوں کو جھاڑنا ایسا ہے کہ گویا اُن سے جواب طلبی کی جارہی ہو کہ تمہاری یہاں آنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ اے بدروحو! تم جانتی نہیں ہو کہ تم جس پر منڈلا رہی ہو وہ میرا جگر ہے،میرا سب کچھ ہے۔میں اُس کیلئے کیا نہیں کرتا۔ خبردار! اب جو دوبارہ تمہیں میں نے یہاں دیکھاچلو نکلو یہاں سے ، دفع ہو اور جہنم میں جاؤ۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ اِس جھاڑپھٹکار پر بدروحوں کا ردعمل کیا ہونا چاہئے مگر ہوا کچھ ایسا ہی ہوگا۔مجھے تو یہ بھی لگتا ہے اور بہتزور سے لگتا ہے کہ یہ مشورہ بھی پیر صاحب ہی نے دیا ہوگا کہ بچے! جب سپریم کورٹ بار بار کہہ رہی ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھ دو تو بس لکھ دو۔ چشم تصور میں رچا منظر کہتا ہے کہ زرداری صاحب نے پہلے تو حیرت سے پیر صاحب کو دیر تلک تکا ہوگا اور پھر یہ دریافت بھی کیا ہوگا کہ پیر صاحب! یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے ،کیا آپ نہیں جانتے کہ خط لکھنے کے بعد میرا کیا ہوگا؟
جواباً پیر صاحب نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہوگا کہ تم بس خط لکھنے کا ارادہ کرو،اُس میں لکھنا کیا ہے یہ میں تمہیں بتاؤں گا اور تم وہی لکھ دیناپھر جب سپریم کورٹ دریافت کرے کہ خط لکھاگیا یا نہیں تو کم از کم یہ کہنے کا منہ تو رکھو گے نا کہ ہاں ہم نے خط لکھ دیا ہے۔پیر صاحب کے اِس نایاب مشورے سے آنِ واحد میں جان میں جان تو آگئی ہوگی اور آپ سب نے کل دیکھ ہی لیا کہ کتنا پیارا خط لکھاگیا تھا،کیا دلکش پیراہے میں لکھاگیامن موہنا مضمون تھا، بھئی واہ واہ، قربان جاؤں اِس تاریخی سطر کے کہ حکومت مقدمات کھولنا نہیں چاہتی، کیس کے ملزم پاکستان کے موجودہ صدر ہیں اور اِنہیں استثنیٰ حاصل ہے کیا خوب لکھا ہے سوئس حکام کو حکومت پاکستان نے کتنے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دیکھئے جناب! ہمارے ہاں جب ملزم صدر بن جاتا ہے تو پھر وہ مستثنیٰ کہلاتا ہے ، اب وہ جو چاہے کرے ہم صرف ایک ہی لفظ کہیں گے واہ مستثنیٰ واہاِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ الزام کی نوعیت پرانی ہے یا نہیں،دیکھا صرف یہ جاتا ہے کہ صدر نیا ہونا چاہئے اور نئے صدر پر پرانے الزامات نہ صرف نامناسب ہیں بلکہ انصاف کے مروجہ اصولوں کی صریح توہین کے بھی مترادف ہیں۔الزام لگانے ہیں تو نئے لگائیے اور نئے آپ عائد نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے صدرکو استثنیٰ حاصل ہے جسے عامیانہ زبان میں ہم یوں کہہ سکتے ہیںچل جا نایعنی راستہ ناپو اور پتلی گلی سے نکل لویہاں اپنے بھائی کو استثنیٰ حاصل ہے باپ! چل نکل یہاں سے اور ہوا آنے دے!!اِس کے علاوہ استثنیٰ کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اِس تک نہمطلب یہ کہ اِس تک پہنچنے کی کوشش بھی نہ کرنا، کوئی ضرورت نہیں کہ مقدمات کھولے جائیں،ایک شے اچھی خاصی بند پڑی ہے ، انتہائی پرانی، Outdated،جس میں کسی کو دلچسپی نہیں ہے اور پھر ویسے بھی پرانی چیزیں عرصے بعد کھولی جائیں تو اُن میں بسے ہوئے آسیب بھی باہر نکل آتے ہیں، اِس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ اِن پرانے گھسے پٹے مقدمات کا بنڈل دوبارہ کھول کر مملکت کا وقت اور صدر کا تخت ضائع کیا جائے۔
پیر صاحب! تُسی گریٹ ہو بھئیسچ کہا تھا آپ نے کہایسی گوٹیاں فٹ کروں گا کہ زرداری صاحب آرام سے وقت پورا کرلیں گےکیا گوٹیاں فٹ کی ہیں کہ بڑے بڑے فٹ اَن فٹ سے نظر آرہے ہیں ایک خفیہ خط، عدالت بے خبر،چیف جسٹس برہم،میڈیا حیران،قوم ہکا بکااور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اعزازات میں ایک اور اعزاز کا اضافہ کہ اے دنیا والو! کیا مقابلہ کرو گے تم ہم سے ،ہر وقت طعنے مارتے ہو کہ پیچھے رہ گئے،دنیا کے ساتھ نہیں چلے،دقیانوسی اور رجعت پسندی کے کچوکے لگاتے ہوہمت ہے تو ہماری طرح بن کر دکھاؤ، ہم نے اپنے ملک کی عدالت سے جھوٹ بولنے کی ایک بالکل برانڈ نیو ، ڈبہ پیک، سیل پروف مثال ایجاد کی ہے ایسی انوکھی پروڈکٹ کہ چین بھی جس کی کاپی نہیں کرسکتاجی ہاں!!!
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=105725
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat