زکوۃ، عطیات، خیرات اور صدقات محمودہ سلطانہ فاونڈیشن ٹرسٹ کو دیجیے
اہلِ وطن سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی درد مندانہ اپیل


کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ مقررہ زکوٰۃ (فاضل سرمایہ کا چالیسواں حصہ) ادا کردینے کے بعد آدمی پر اللہ کا کوئی مالی حق اور مطالبہ باقی نہیں رہتا اور وہ اس سلسلہ کی ہرقسم کی ذمہ داریوں سے بالکل سبکدوش ہوجاتا ہے، ایسا نہیں ہے بلکہ خاص حالات میں زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد کی ذمہ داری دولت مندوں پر باقی رہتی ہے، مثلاً ایک صاحبِ ثروت آدمی حساب سے پوری زکوٰہ ادا کرچکا ہو اس کے بعد اسے معلوم ہوکہ اس کے پڑوس میں فاقہ یا اس کا فلاں قریبی رشتہ دار سخت محتاجی کی حالت میں ہے یاکوئی شریف مصیبت زدہ مسافر ایسی حالت میں اس کے پاس پہنچے جس کو فوری امداد کی ضرورت ہو تو ایسی صورتوں میں ان ضرورتمندوں، محتاجوں کی امداد اس پر واجب ہوگی۔
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی (اللہ کا) حق ہے؛ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:


"لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ج وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ لا وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ ج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَاعٰھَدُوْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ط أُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَo"۔
(البقرۃ:۱۷۷)


ترجمہ:"کچھ سارا کمال اسی میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یامغرب کو لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو"الخ۔
(ترمذی، باب ماجاء ان فی المال حقا سوی الزکاۃ، حدیث نمبر:۵۹۵۔ ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۷۷۹۔ دارِقطنی، حدیث نمبر:۱۹۷۶)


آئیے کہ حسرت و یاس کی ان تصاویر پر انسانیت کے احساس کا مرہم رکھیں۔۔۔ آئیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنتِ سخاوت کو اختیار کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں اتنا خرچ کریں کہ بس وہ ہم سے راضی ہوجائے کیونکہ اس دنیا میں جینے کی اصل وجہ ہی رب کی رضا کا حصول ہے۔۔!۔
یہ معصوم بچے جو سڑکوں پر بھیک مانتے ہیں ۔۔۔ انہیں گھر چاہیے۔۔!۔
جن کا کوئی اپنا نہیں انہیں عزت سے دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے چھت چاہیے۔۔!۔
اس وقت ان کا گھر مزارات، فٹ پاتھ یا گلیوں کے وہ کونے کھدرے ہیں جہاں یہ سسک سسک کر جی رہے ہیں۔۔۔
اور حیرت ہے کہ درد کے ایسے مناظر دیکھنے کے باوجود ہماری آنکھیں بھیگتی نہیں۔۔
درد ہے۔۔۔ تو میرا ساتھ دیجیے۔۔۔ انسانیت کے لیے کچھ کرنا ہے تو آگے بڑھیے ۔۔ ورنہ یہ مہکتے پھول پہلے ہمیشہ کے لیے مرجھا جائیں گے۔
ایمان کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہم تڑپتے انسانوں کے لیے گھر بنائیں گے اور وہاں خالق ہمارے لیے "بیت الحمد" تیار کردے گا۔ انشا ء اللہ۔
کیا آپ میرے ساتھ مل کر ان بچوں کا ساتھ دیں گے؟
اپنے عطیات محمودہ سلطانہ فائونڈیشن ٹرسٹ کو دیجیے
اکائونٹ نمبر 4-3033-010, یو بی ایل، الرحمان برانچ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
ایڈریس: محمودہ سلطانہ فائونڈیشن، سیکنڈ فلور لہر منزل، محمودہ سلطانہ اسٹریٹ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
Email: info@aamirliaquat.com, Facebook: www.facebook.com/mahmoodasultanafoundation
https://www.facebook.com/MahmoodaSultanaFoundation