کراچی (جنگ نیوز) ممتاز اسلامک اسکالر اور کالم نویس ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے علماء نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی ،یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں فرقہ واریت نہیں ، سماجی ویب سائٹ سمیت پورے ملک سے قابل اعتراض مواد تلف کرنا ہوگا، علماء کے ایک ساتھ بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا ، ایسا گروہ موجود ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھررہا ہے۔ پاکستان دُنیا کا واحد ملک ہے جہاں قتل و غارت کے بعد ہم قاتلوں سے مذاکرات کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں اُنہیں سزا دینے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ اُلجھنوں اور مسائل کو حل کرنے کیلئے علماء کو ایک دوسرے کے مقدس ایام میں شریک ہوکر بتانا ہوگا کہ ہمارے لئے سب محترم ہیں۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو میں کیا۔ حکومت تو بدل گئی، پاکستان کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ کے موضوع پر ہونے والے اس مباحثے میں سربراہ اسلامی تحریک پاکستان علامہ سید ساجد نقوی اور ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سینٹرپروفیسرڈاکٹردوست محمدخان شریک ہوئے۔علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں، مجرم آزاد گھوم رہے ہیں، ملک میں انارکی نظر آرہی ہے، صورتحال انتہائی بد ترین ہے، عوام اپنے تحفظ کا خود انتظام کریں۔ پروگرام کے دوران مختلف مکاتب فکر کے علماء کے خودکش حملوں کے خلاف دیئے گئے ریکارڈ شدہ بیانات بھی نشر کئے گئے ۔ مختلف سوالات کے جواب میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ اسلام کسی کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، اسلام غیر مسلموں کی بھی حفاظت کا حکم دیتا ہے ، علماء نے وہ ذمہ داری ادا نہیں کی جو کرنی چاہئے تھی، جو کچھ ہورہا ہے اس میں علماء کی ناکامی ہے۔ اسلام کی تشریح کرنا بڑی بات نہیں ہے بلکہ اسلام کے نام پر اسلامی اُصولوں کو پامال کرنے والوں کی بیخ کنی کرنا اصل کام ہے، اُن کی نشاندہی اصل کام ہے۔ آج تک قابل اعترقاض مواد کو ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی جو مختلف جگہوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اگر علمائے کرام ایک جگہ پر لوگوں کو سچائی، برداشت اور رواداری کی تلقین کررہے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا گروہ ضرور ہے جو نچلی سطح پر اُن کے ذہنوں میں زہر اور نفرت بھر رہا ہے اور ایک دوسرے کے فرقوں کے خلاف اُکسا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو بیان دینے کی بجائے متاثرہ عوام کے درمیان ہونا چاہئے۔ عمران خان کی تجویز بہت اچھی ہے کہ آرمی چیف ، اُس صوبے کا وزیراعلیٰ اور پارٹی سربراہ ملکر بیٹھیں اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ یہی بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ہونا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گرد سہ جہتی حکمتِ عملی پر کاربند ہیں، ایک طرف وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کررہے ہیں ، دوسری جانب وہ حکومت کو اپنی شرائط پر بات کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور تیسری طرف وہ فرقہ وارانہ تصادم میں بھی ملوث ہیں۔ سید ساجد نقوی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے کے باوجود تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں، ریاست پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے، مذہبی سیاسی جماعتوں اور علماء کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ ماضی میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی لیکن متحدہ مجلس عمل کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے کا راستہ روکا گیا، عوام میں مذہبی منافرت موجود نہیں، دہشت گردی کا مذہب سے تعلق نہیں یہ کوئی اور فنومنا ہے، متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ملی یکجہتی کونسل بھی موجود ہے، ہم مشترکات پر اکٹھے ہیں، ہم مشترک دشمن کے خلاف متحد ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور میٹنگز بھی کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو حقائق نہیں بتائے جارہے ، ملک کو داؤ پر لگادیا گیا ہے، مذہب کے نام پر لوگوں کو استعمال کیا جارہا ہے، نفرت پھیلانے والے مواد کی مذمت کرتا ہوں۔ لیکن آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ خود کش حملہ آور پنپتے کہاں ہیں اور کہاں پلتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلکی اختلافات ختم کرنے کی جو فضا بنائی جارہی ہے اُسے قائم رہنا چاہئے، اس سے قربتیں بڑھیں گی تاہم اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ دہشت گردی کے واقعات مسلکی اختلافات کی وجہ سے ہورہے ہیں۔ اصل سبب یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں، مجرم آزاد گھوم رہے ہیں، ملک میں انارکی نظر آرہی ہے، صورتحال انتہائی بد ترین ہے، عوام اپنے تحفظ کا خود انتظام کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف امریکا اپنے مخالفین کو ڈرون سے مار رہا ہے اور ہم مجرمان کیلئے سزائے موت ختم کررہے ہیں، اس ملک میں کئی تضادات ہیں، حکومتیں بے اختیار ہیں۔ ڈاکٹر دوست محمدخان نے کہا کہ اسلام اور مملکت کا پیغام ہم بھول جاتے ہیں، ہر آدمی اپنے مسلک پر اڑا ہے جبکہ خدا نے ہمیں مسلمان کا نام دیا ہے۔ قاضی حسین احمد کی سربراہی میں ملی یکجہتی کونسل فعال ہوئی تو دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ علماء کرام سچے جذبے کے ساتھ آگے آئیں اور ملی یکجہتی کونسل کے معاملات کو پارلیمنٹ سے منظور کرائیں اور باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے اُنہیں سامنے لائیں۔ رمضان المبارک نزدیک ہے، ملک سے فرقہ واریت ختم کرنے کیلئے ہمیں ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھنی چاہئے۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=106923
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat