یہاں مُرسیوں کے لئے کوئی فوجی نہیں!...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین
ہم سب ایک انتہائی حیرت انگیز وطن کے باسی ہیں، شاید ہم محسوس کرنا ہی نہیں چاہتے یا پھر حالات نے احساسات کی رگیں ہی کاٹ دی ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ جو کچھ اِس سرزمین میں ہوتا ہے وہ سب کچھ ایک ساتھ دنیا بھر میں کہیں نہیں ہوتاآنکھوں میں کیچڑ بھرے چپڑے حکمراں صرف یہیں پائے جاتے ہیں، انتخابات سے قبل اُنہیں ہر شے اور ہر مسئلہ صاف نظر آتا ہے تاہم انتخابات کی تکمیل کے بعد نتیجے میں اگر اقتدار کا اُڑن کھٹولا اُنہیں کھیلنے کو مل جائے توچشمِ حاکم میں موتیا اُترنا لازم ہے جس کے بعد اگلے پانچ برسوں تک مکمل بینائی اور دانائی آہستہ آہستہ جاتی رہتی ہےیہاں ایسا بھی ہوتاہے بلکہ ہورہا ہے کہ عدالتوں سے موت کی سزا سننے والے کئی برسوں سے جیل میں بے فکری سے ایک دوسرے کو اپنی سنائے جارہے ہیں،اُنہیں یقین ہے کہ ہمارے سنگین جرائم کے نتیجے میں جو سزا ہمیں سنائی گئی ہے وہ صرف ہمیں بتانے کے لئے تھی، لٹکانے کے لئے نہیں،جج صاحب کا شاید قلم خراب ہوگیا تھا جب ہی تو اُنہوں نے اُسے فیصلہ تحریر کرنے کے بعد توڑدیا ، اب اِس کا مطلب یہ تو نہیں ہے ناکہ ہمیں تختہٴ دار تک پہنچادیا جائےچنانچہ بے نیازی کے یہ دنگئی شاہکاربرسوں سے پاکستان کے مختلف زندان خانوں میں مستقل بنیادوں پر قیام و طعام کی سہولتوں سے فائدہ اُٹھارہے ہیں اور وطن کی خاطر ان تھک جدوجہد میں مصروف فرض شناس دن کو اُونی اُونی رات کو چرخہ پونی میں مصروف ہیں(جزاک اللہ)یہاں یہ حقیقت بھی متحیر کردیتی ہے،دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی اور سن کر کان کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں کہ دیگ کی کھرچن جتنے دہشت گردوں نے کس مہارت سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہےدین و دنیاسے بے خبر، بے ہوش اور دیمک جیسے انسان نما وجود ہر لرزتے دن سہمے انسانوں کا شکار کر کے کراچی کی کسی بھی سڑک یا گلی میں لاش پھینک کر انتہائی اطمینان سے اپنے اپنے غاروں ،کچھاروں اور جھنڈوں میں لوٹ جاتے ہیںپھر معلوم افراد نامعلوم کے خلاف پرچہ کاٹتے ہیں،کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہ بیٹھنے کے روایتی عزم کا اعادہ کرتے ہیں،ممکن ہو تو لاکھ یا پانچ لاکھ روپوں سے آنسو پونچھنے کی مشق دہراتے ہیں اور پھر کبھی واپس نہ آنے کیلئے وہیں چلے جاتے ہیں جہاں سے آئے تھےدوسری طرف رہبرانِ قوم مرنے والے لواحقین کے درد کو اپنا درد قرار دیتے ہیں اور یہاں تک ارشاد فرمادیتے ہیں کہ یہ نقصان آپ کانہیں ہمارا ہوا ہے اُن کے اِس اندوہناک دعوے پر میت کے سرہانے بیٹھا اپنے پیارے کا آخری دیدار کرنے والاصرف اُنہیں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے کے سوا اُس وقت کہہ بھی کیا سکتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ زہر میں بجھے یہ تیکھے میٹھے کلمات ادا کرنے والا پہلے ہی سے لوئی اوڑھے ہوئے ہے ،اِس سے کیا اُلجھنا اور کیا کہنا، وہ مثل مشہور ہے نا کہ جب اوڑھ لی لوئی تو کیا کرے گا کوئی یعنی جب بے حیائی اختیار کرہی لی تو پھر کسی کی کیا پروااور یہاں تو ایسے نادر و نایاب بے حیا ہیں جن پر آسمانی فرشتے بھی متعجب ہیںپاک وطن میں اگر جہاز بھی گر کے تباہ ہوجائے تب بھی یہاں کسی کا کچھ نہیں بگڑتاشہیدوں کے اپنے انصاف کے سپنے دیکھتے دیکھتے بالآخرآخرت کے تعبیری سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں مگر سانحات کے ذمہ داران کا تعینمشتری پر حیات ہے یانہیں؟ کی مسلسل تحقیق کے مترادف قرار پاتا ہے اور بات بھی ٹھیک ہے جب انسان ابھی تک یہی صحیح طرح نہیں جان سکا کہ مشتری پر پانی کے علاوہ اور کیا کچھ ہے تو یہ نِری زیادتی ہی ہوگی۔ اگر تحقیقاتی اداروں کو اِس بے مطلب کام پر لگادیا جائے کہ فلاں فلاں ایئرلائن کے طیارے حادثات کا کیوں شکار ہوئے؟حادثہ ہونا تھا ہوگیا،جو مارے گئے اُن کی تقدیر میں اِسی طرح مرنا لکھا تھا، اب ملک کو آگے بڑھائیں یا وہیں اٹک جائیں؟ مرنے والوں کے عزیزوں کو رُلا رُلا کر معاوضہ بھی دے دیا،ایک دو بار دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کر لی، یہودونصاریٰ کی شباہت میں شمعیں بھی روشن کر ڈالیں آخر اور کیا کریں؟ ویسے ضمناً عرض کروں کہ مسلمانوں کو شمع جلانے کے بجائے سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے،دعائیہ اجتماعات کرنے چاہیں مگر چلو اچھا ہے ، ایک Activity لگتی ہے، سب ایک دوسرے سے ماچس مانگنے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور شمعیں جلا کر خوش ہوتے ہیں، ورنہ جیسا عبدالرحمن ملک ویسی رعایا کے مصداق جب وہ سورہ اخلاص پڑھنے سے معذور ہوسکتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ رعیت الفاتحہ بھی درست نہ پڑھ سکےبہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے دلخراش واقعات تاریخ کے صفحات میں چار سطری کفن اوڑھ کر خود ہی دفن ہوجاتے ہیںبدعنوان اور جونک جیسی فطرت رکھنے والے بھی یہاں باعزت مقامات پر فائز ہیں،درندے بھی اپنا شکار پنجوں سے پکڑ کر دانتوں سے کھاتے ہیں مگر یہ ایک ایسی مخلوق ہے جو ہاتھوں اور دانتوں سے پاکستان بھنبھوڑ رہی ہے،نوچ نوچ کر دھرتی کا سینہ اُدھیڑ ڈالا ہے ،بلوچستان کی ہڈیاں تک چبالیں، کے پی کے پر اُن کے ناخنوں کے نشانات سے خون رِس رہا ہے ، پنجاب اور سندھ کے زخموں کی کھرن اُتار اُتار کے لہو چوستے ہیںیہ اتنے بڑے گریڈ والے ہیں کہ اِن پر ریڈ کرنے سے پہلے اِس قدر سوچ بچار کی جاتی ہے کہ یہ ملک سے ہی باہر چلے جاتے ہیںکمال کا ہے میرا دیسبے شک انوکھا ہے میرا وطناور تو اور ہمارا ملک دنیا کے نقشے پر جگمگاتا وہ واحد ملک ہے جہاں 40ہزار افراد کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے بجائے ہم اُن کی طاقت اور قوت کے سامنے نہ صرف گھٹنے ٹیکتے ہیں بلکہ معذرتی سجدے(معاذاللہ) تک کرنے کو تیارہیں اور وہ بھی صرف اِس لئے کہ وہ ہم سے مذاکرات کیلئے تیار ہوجائیںاب یہ طریقہٴ کار پرانا ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،اُن پر مقدمات قائم کیے جائیں یا پھر اُن کی بیخ کنی کے لئے فوجی آپریشن جیسی زحمتیں گوارا کی جائیںبھئی جب واضح ہے کہ ہم اُن سے نہیں لڑ سکتے،تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اُن سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کو حل کیا جائےیاد ہے نا بچپن میں ایک کہانی ہم سب نے پڑھی تھی جب جنگل کے جانوروں نے شیر سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ روز ایک جانور کھالیا کرے مگر سب پر یکبارگی حملہ نہ کیا کرےہمیں بھی چاہئے کہ یا یوں کہوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اب ناخنوں اور دانتوں سے عاری شیر کو چاہئے کہ وہ جنگل کے اصل بادشاہ سے مذاکرات کرے ،روزانہ کی بنیاد پر انسانوں کا ناشتہ کرنے کے بجائے فریقین مل کر ایک طریقہ کار طے کریں کہ صبح،دوپہر اور شام کے بھوجن میں خودکش حملوں کے ذریعے بھنے ہوئے انسانوں کا گوشت مہابلی کوکن کن مقامات پر مطلوب ہےبس اِتنی سی بات ہے اور پھر پورا ملک اُن کا ہوگا،وہ جیسے چاہیں شکار کریں،جس کو چاہیں اُٹھالیں،اُنہیں کون پوچھے گاویسے بھی اُنہیں اُن مجاہدین سے تعبیر کیا جارہا ہے جو افغانستان میں اپنے وطن کیلئے لڑرہے ہیںوہ تو بے شک وطن کے لئے لڑرہے ہیں مگر یہ تو وطن سے لڑ رہے ہیں اور وطن کی بے کَسی دیکھئے کہ وہ چھاتی پر برچھیاں مارنے والوں سے یہ کہنے جارہا ہے کہ اب کہیں اور وار کرو،یہاں درد ہوتا ہے۔
پاکستان میں نہ جانے کتنے مُرسی، حسنی، صدامی، قذافی اور زینی آئے اور گارڈ آف آنر لے کر چلے گئے، فوج نے بھی جمہوریت کا تختہ اُلٹا تو پاکستان کے لئے نہیں بلکہ ذاتی عناد اور رنجش کی بنیاد پر کسی کو چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کا صدمہ اقتدار میں لے آیا تو کوئی نوّے دن میں انتخابات کے وعدے کو نبھانے کے لئے کرسی پر بیٹھنے کو دوڑا چلا آیاقوم وہیں کھڑی ہے جہاں کھڑی تھی ،یہاں مُرسیوں کے لئے کوئی فوجی نہیں کیونکہ دانا کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے اچھی ہے !!!
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=107944
www.aamirliaquat.com, Twitter: @AamirLiaquat