اُس کی عمر تقریباً دس سال ہوگی بھورے بھورے بال اور پھولے پھولے گال میں نے نام پوچھا تو بڑے اعتماد سے بولامجھے شرجیل کہتے ہیں۔میں نے اس کے گالوں کو تھپتھپایابیٹے آپ کون سی کلاس میں پڑھتے ہیں؟ اس نے پوری سنجیدگی سے جواب دیاکلاس فائیو میں۔ میں خوش ہوکر بولاویری گڈ۔۔۔آپ کو امی زیادہ اچھی لگتی ہیں یا ابو؟ ۔۔۔اس نے مجھے گھورا میں سمجھا نہیں کیا مطلب؟۔۔۔میں نے جلدی سے کہابھئی میرا مطلب ہے کہ امی آپ کو زیادہ پیار کرتی ہیں یا ابو؟ میرا جملہ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں الجھن اتر آئی پیار سے آپ کی مراد؟؟؟ اُس نے سوال کیا اور میں چونک اٹھا اتنا چھوٹا سا بچہ اور ایسا سوال۔۔۔بیٹے ! پیار سے مراد ہے کہ ۔۔۔کہ ابو آپ کو زیادہ پپی کرتے ہیں یا امی؟۔۔۔وہ پوری سنجیدگی سے بولا پپی۔۔۔آپ کا مطلب ہے Kiss؟؟؟میں گڑبڑا گیا اس نے غور سے میری طرف دیکھا پھر ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولاآپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ Kiss کرنا میڈیکل پوائنٹ آف ویو سے بہت خطرناک ہے اس سے بہت سی بیماریاں لگ سکتی ہیں۔ میں گنگ بیٹھا تھا دس سال کا بچہ مجھ سے تیس سال کے جہاندیدہ مرد کی طرح باتیں کر رہا تھا میں نے خود کو سنبھالا اور ہنستے ہوئے ایک اور سوال کیااچھا یہ بتائیں کہ آپ کو کون سی ٹافی پسند ہے؟

واٹ نان سنس۔۔۔ٹافی بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔۔۔اتنا بہت سارا میٹھا۔۔۔میڈیکل پوائنٹ آف ویو سے دانتوں میں انفکشن کو دعوت دینے والی بات ہے۔ اُس نے منہ بنایا۔میں شرم سے پانی پانی ہوگیا لیکن پھر جلدی سے بات بدل لی۔۔۔اچھا اِدھر آؤ میرے پاس میں تمہارے لیے ایک چیز لایا ہوں دیکھو گے تو اچھل پڑو گے۔۔۔سوری انکل اس نے ٹھوس لہجے میں کہامیں آپ کے پاس نہیں آسکتا آپ کے ایکسپریشن بتا رہے ہیں کہ آپ یقیناًمیرے منہ پر Kiss کریں گے اور پھر ویسے بھی کپڑوں کی استری خراب ہونے کا خطرہ ہے۔میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا دس سال کا بچہ اور ایسی باتیں نہیں نہیں بچے تو ٹافیاں کھاتے ہیں گال چومتے ہیں بانہوں میں جھولتے ہیں چیختے ہیں چلاتے ہیں لیکن یہ تو۔۔۔اچانک مجھے کوئی خیال آیا اور میں سب کچھ بھول بھال کر اپنے اٹیچی کیس کی طرف لپکا اُس میں سے ایک بڑا سا لفافہ نکالا اور بڑے ڈرامائی انداز میں اُس کے سامنے کر دیا۔یہ کیا ہے؟ اُس نے لفافے کو ہاتھ لگائے بغیر پوچھا۔خود ہی دیکھ لو ۔۔۔میں نے مسکرا کر کہا۔اُس نے کچھ لمحے تذبذب کیا پھر لفافہ میرے ہاتھ سے لے کر کھولنے لگا۔سارا لفافہ اُتر گیا تو اندر سے ایک بڑا سا ربڑ کا گھوڑا نکلا جس کے پیروں کی جگہ پہئے لگے ہوئے تھے۔یہ کیا بات ہوئی؟ اُس نے میری طرف دیکھا۔ارے۔۔۔یہ میں آپ کے لیے لایا ہوں جب آپ اس پر بیٹھیں گے ناں تو یہ آپ کو آسمانوں کی سیر کرائے گا پریوں کے دیس لے جائے گا چاند کی بڑھیا سے ملائے گا۔۔۔اور۔۔۔!!!۔۔۔پلیز انکل۔۔۔اُس کے لہجے میں تلخی بھر آئی۔۔۔کیسی فضول باتیں کر رہے ہیں آپ۔چاند پریاں آسمان گھوڑا یہ سب خیالی باتیں ہیں یہ ربڑ کا گھوڑا یہ کھلونا مجھے آسمان کی سیر کرائے گا۔۔۔ہونہہ۔۔۔ اس نے اطمینان سے گھوڑے کو اٹھا کر کمرے کی کھڑکی سے نیچے پھینک دیا۔میرے دل پر جیسے کسی نے گھونسہ مار دیا۔اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی کمرے میں داخل ہوئی ننھے منے فراک میں ملبوس بے بی کٹ بال چھوٹے چھوٹے سینڈل اور گورے چٹے رنگ پر پیاری پیاری نیلی آنکھیں۔۔۔میرا چہرہ یکدم کھِل اُٹھا وہ میرے پاس آگئی۔امی پوچھ رہی ہیں آپ بریک فاسٹ میں کیا لیں گے؟میں نے اسے گود میں اٹھالیا۔۔۔بھئی جو ننھی گڑیا کھائے گی ہم بھی وہی کھائیں گے۔وہ یکدم بپھر گئی۔۔۔ایک جھٹکے میں گود سے اُتر آئی۔۔۔بات کرنے کے بھی کچھ ایٹی کیٹس ہوتے ہیں یہ بھی کوئی طریقہ ہے۔۔۔اینڈ مائنڈ یور لینگوئج پلیز! میرا نام سوشی ہے گڑیا نہیں۔۔۔انڈرسٹینڈ؟؟؟ اُس نے غصے سے کہا اور چھوٹے چھوٹے پیر پٹختی ہوئی واپس چلی گئی۔میں نے بچے کی طرف دیکھا اُس نے بھی منہ بنایا اور چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد میرا دوست جمیل آگیاآؤ بھئی ناشتہ تیار ہے۔۔۔۔میں نے سکتے کے عالم میں پوچھاجمیل! ۔۔۔یار یہ بچے ہی تھے ناں؟ وہ بے اختیار ہنس پڑا۔۔۔کیوں؟ بوڑھے لگ رہے تھے؟۔۔۔نہیں یار۔۔۔یہ۔۔۔یہ بچے نہیں ہیں۔۔۔یہ تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔ہاں یار۔۔۔اُس نے کندھے اچکائے۔۔۔ہماری سوسائٹی کے بچے ایسے ہی ہوتے ہیں پُراعتماد صاف ستھرے فل آف ایٹی کیٹس۔۔۔اصل میں شروع سے ہی اِن کی تربیت ایک خاص ماحول میں کی جاتی ہے عام بچوں سے تو ملنے ہی نہیں دیا جاتا۔۔۔لیکن یار یہ تو ظلم ہے۔۔۔میں پھٹ پڑا۔۔۔بچہ شرارتیں کرتا ہی اچھا لگتاہے۔۔۔تم تو ان کا بچپن چھین رہے ہو۔۔۔مجھے بتاؤ اگر بچے اپنے بچپن سے عاری ہوں گے تو مسکراہٹیں قہقہے خوشیاں۔۔۔یہ سب کہاں سے آئیں گی؟۔۔۔اس نے مجھے بازو سے پکڑاتم تو پاگل ہو۔۔۔چلو اٹھو ناشتہ ٹھنڈا ہورہاہے۔ میں نے خود کو سنبھالا اور کرسی پر بیٹھ گیا دونوں بچے انتہائی خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔مجھے اس لمحے شدید خواہش ہوئی کہ کاش دونوں میں سے کسی کے کپڑوں پر دودھ گر جائے ۔۔۔کاش دونوں منہ بنا کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ آج ہم نے سکول نہیں جانا۔۔۔لیکن نہیں! بالکل خاموشی رہی اور رہتی بھی کیوں نہ وہاں کوئی بچہ ہوتا تو یہ سب کرتا۔۔۔وہاں تو سب بڑے تھے۔۔۔میچور اور ایٹی کیٹس سے لبریز۔۔۔!!!میں بے دلی سے اٹھ کر باہرلان میں آگیا ٹہلتے ٹہلتے دوسری طرف پہنچا تو راہداری کے کونے میں مجھے آسمانی گھوڑا پڑا ہوا نظر آیا میں نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا اُس کی گردن ٹوٹ کر علیحدہ ہوگئی۔۔۔وہ مرچکا تھا۔اتنے میں دونوں بچوں کی آوازیں میرے کانوں میں پڑیں بچہ بولامیں تو اپنے لیپ ٹاپ کی ہارڈ ڈسک چینج کروانے لگا ہوں100GB بہت جلدی ختم ہوجاتی ہے۔بچی بولی۔۔۔ لیکن پہلے ڈرائیور کو کہنا کہ گاڑی سروس کرا لائے بہت مٹی پڑی ہوئی ہے میڈیکل پوائنٹ آف ویو کے مطابق مٹی میں بے شمار جراثیم ہوتے ہیں۔۔۔میرے سینے میں آگ سی بھر گئی بات میری برداشت سے باہر ہوگئی تھی میں نے مردہ گھوڑا اٹھایا اور کمرے میں آگیا اپنا سامان واپس اٹیچی کیس میں رکھا اور جمیل کے نام ایک چھوٹا سا معذرت نامہ لکھ کر سٹیشن کی طرف روانہ ہوگیا۔اپنے شہر کا ٹکٹ لیا اور گاڑی میں سوار ہوگیا۔پتا نہیں کیوں میرا دل وسوسوں میں گھر ا جارہا تھا۔میرا پہلا قدم گھرکے دروازے پر ہی تھا کہ میرا بیٹا اور بیٹی بھاگتے ہوئے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے بیٹے نے اٹیچی کیس کھولا اور گھوڑ ا نکال لیاپھر میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا بغیر گردن کے گھوڑے کی پشت پر چڑھ گیا گھوڑے کی کٹی ہوئی گردن نے آنکھیں کھولیں اور پُرامید نظروں سے میری طرف دیکھا میں نے اُسی وقت ٹیپ لے کر اچھی طرح سے گھوڑے کی گردن جوڑ دی۔دونوں بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا گھوڑے نے اِس انداز سے میری طرف دیکھا جیسے اپنی سواریوں پر فخر کر رہا ہو۔میں نے اٹیچی کیس کی جیب سے دو ٹافیاں نکالیاں اور دونوں بچوں کے منہ میں ڈال دیں۔وہ خوشی سے مجھ سے لپٹ گئے میں دونوں کو دیوانہ وار چومنے لگا۔۔۔میڈیکل پوائنٹ آف ویو ایک طرف بیٹھا بغلیں جھانک رہا تھا۔