مجھے بڑی حیرت ہوتی تھی کہ رمضان میں تو شیطان زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے تو پھر ہماری شیطانیاں کیوں نہیں ختم ہوتیں؟کافی غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چونکہ ہمیں شیطان کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے اس لیے ہم میں سے اکثر رمضان سے پہلے شیطان کی فوٹو کاپیاں کروا لیتے ہیں یہ فوٹو کاپیاں چونکہ پاؤڈر پرنٹ پرکروائی جاتی ہیں اس لیے نقل اصل سے بہتر آتی ہے۔رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے یہ برکتوں والا مہینہ تو ہے ہی لیکن کمائی کا مہینہ بھی ہے۔اس مہینے نعت خواں حضرات کا پیکج لگ بھگ ڈبل ہوجاتاہے فقیروں کو خیرات زیادہ ملتی ہےبیس سال سے زیر تعمیر مساجد کو زیادہ چندہ ملنا شروع ہوجاتاہےزکواۃ کے لیے بے شمار این جی اوز میدان میں اُتر آتی ہیں اور بے بس و لاچار لوگوں کی تصاویر والے کروڑوں روپے کے اشتہارات اور ہورڈنگز لگا کر مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔پکوڑے سموسے والے اِس ایک مہینے کی برکت سے روز مالا مال ہوکر اٹھتے ہیں کھجوروں والے اپنی ریڑھیوں پرکھجور کھانا سنت رسولﷺ ہے کی سلیٹ لگا کر مزے سے مہنگی ترین کھجور بیچتے ہوئے لوگوں کی بے بسی کا نظارہ کرتے ہیں اورریڈی میڈ گارمنٹس والے بچوں کے کپڑوں کی قیمتوں کو تین سے ضرب دے دیتے ہیں۔


رمضان آگیا ہے لہذا سب کا شیڈول بدل گیا ہے اب ہر کام رمضان کے بعد ہی ہوگارمضان میں صرف افطار پارٹیاں ہوں گی بے شمار لوگ فاقہ کریں گے اور فخر سے کہیں گے کہ ہم نے روزہ رکھا ہوا ہےموٹے خواتین و حضرات کی اکثریت عید پر سمارٹ نظر آنے کے لیے روزے رکھے گی سگریٹ نوش سگریٹ چھوڑنے کے لیے روزہ رکھیں گے۔برکتوں کے اِس مہینے میں پورا پاکستان عقیدت کی فضا میں ڈوبا نظر آئے گا لیکن شیطان کی فوٹو کاپیوں کی بدولت ہماری اکثریت عملی طور پر اُسی طرح رہے گی جیسے صوفی تلقین شاہ صاحب رہتے ہیں صوفی صاحب میرے پرانے جاننے والے ہیں آج تک ایک روزہ نہیں رکھا لیکن صحت ایسی ہے کہ لگتا ہے بچپن سے ہی روزے سے ہیں۔ہر سال رمضان میں پورے اہتمام سے سحری کھاتے ہیں پھر دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں اور شام میں افطاری کے مزے لوٹتے ہیں۔ اس کے باوجود فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔ میں نے ایک دفعہ پوچھ ہی لیا کہ حضور! آپ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی روزہ نہیں چھوڑا حالانکہ زمینی حقائق تو بتاتے ہیں کہ آپ نے کبھی کھانا نہیں چھوڑا۔اطمینان سے بولےروزے میں بھول کر کچھ کھا لیا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ میں نے بوکھلا کر پوچھاتو گویایہ جو آپ دوپہر میں چار روٹیاں بمعہ چھ انڈے اور تین گلاس دودھ سوڈے کے پیتے ہیں یہ سب بھول کا نتیجہ ہے؟؟؟۔۔۔آہ بھر کر بولےہاں! ۔۔۔بڑی کوشش کرتا ہوں کہ روزہ یاد رہے لیکن تمہیں تو پتا ہے میری یاداشت بڑی کمزور ہے چھوٹی چھوٹی بات بھی بھول جاتی ہے۔ میں نے احتراماً عرض کیاعالی جاہ! کیا وجہ ہے کہ آپ کبھی سانس لینا نہیں بھولتے؟ سحری اور افطاری کرنا نہیں بھولتے؟ منہ صاف کرتے ہوئے بولےاللہ دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے مجھے نہیں پتا کہ مجھے باقی چیزیں کیوں یاد رہ جاتی ہیں؟ صوفی صاحب کی بات سن کر مجھے ایک انوکھا طریقہ سوجھا میں نے کہاصوفی صاحب! کل میں آپ کو دن میں بار بار فون کر کے یاد دلاتا رہوں گا کہ آپ کا روزہ ہے کیا خیال ہے؟ صوفی صاحب نے گھور کر میری طرف دیکھاجب مذہب نے مجھے ایک سہولت دی ہوئی ہے تو تم کون ہوتے ہو اسے چھیننے والے؟؟؟ ۔ایک اور صاحب ہیں جو اچھے خاصے کھاتے پیتے اور ہٹے کٹے ہیں لیکن خودروزہ رکھنے کی بجائے روزانہ تیس مسکینوں کو کھانا کھلا دیتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے تو اپنی دولت کے بل بوتے پر روزے نہ رکھنے کے باوجود تیس روزوں کا ثواب کما لیا غریب آدمی کیا کرے؟ اطمینان سے بولےمیرے ہاں آکر کھانا کھائے۔۔۔!!!


رمضان شروع ہوتے ہی روزہ خوروں کی بے چینی بھی عروج پر پہنچ گئی ہے یہ بیچارے پردے والے ہوٹل ڈھونڈ ڈھونڈ کے ہلکان ہورہے ہیں جہاں سے بھی دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے فوراً اُدھر کو لپکتے ہیں کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتاہے۔۔۔میں روزہ داروں سے زیادہ روزہ خوروں کو جانتا ہوں روزہ دار کا تو کچھ پتا نہیں چلتا لیکن روزہ خورکا ڈکار اُسے مروا دیتا ہے۔روزہ خوروں کی کئی نشانیاں ہیں آپ چاہیں تو اِن نشانیوں کی بدولت کسی بھی روزہ خور کو پکڑ کر حوالہء پولیس کر سکتے ہیں۔ نشانیاں یہ ہیں کہ روزہ خور بلاوجہ ہنستا مسکرا تا نظر آئے گا۔۔۔بار بار واش روم جائے گا۔۔۔ دفتر میں اونگھنے کی بجائے اٹھکیلیاں کرے گا۔۔۔بار بار گھڑی کی طرف نہیں دیکھے گا۔۔۔ہر آدھے گھنٹے بعد کسی بہانے سٹور یا چھت پر جائے گا اور دندیاں نکالتا ہوا واپس آئے گا۔۔۔گرم ترین موسم میں بھی یہی کہتا نظر آئے گا کہ آج تو روزہ بالکل نہیں لگ رہا۔۔۔دوپہر کے وقت اپنے کسی عزیز کو ریلوے سٹیشن یا بس سٹینڈ سے Pick کرنے جائے گا۔۔۔لیپ ٹاپ کا بیگ ہر وقت ساتھ رکھے گا۔۔۔افطاری سے ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے سموسے پکوڑے لینے آیا ہوگا۔۔۔افطاری سے دس پندرہ منٹ پہلے فیس بک پر آن لائن ہوگا۔۔۔افطاری کے وقت کھجور کی بجائے سموسے کی طرف ہاتھ بڑھائے گا۔۔۔افطاری کے فوراً بعد ڈٹ کے کھانا کھائے گا۔۔۔روزہ خوروں کو رمضان میں کھانے کا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا جتنا پینے کا ہوتا ہے کھانے کی چیزیں تو یہ کسی نہ کسی طرح چھپا کے اپنی جیب میں رکھ لیتے ہیں لیکن ٹھنڈا پانی نہیں ملتا لہذا ایک اور نشانی نوٹ کرلیں۔۔۔جو بندہ بھی رمضان میں دوکان پر جاکرپونے دو لٹر کی جمبو سائز ٹھنڈی بوتل کا تقاضا کرے سمجھ جائیں کہ کہیں قریب ہی روزہ خوروں کی مجلس عاملہ کا اجلاس جاری ہے۔


روزہ رکھنا اور نبھانا ایسے ہی ہے جیسے نماز پڑھنا اور قائم کرنا۔۔۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں اکثریت روزہ رکھنے کو روزہ نبھانے سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ہم اپنے پیٹ اور حلق پر تو تالے لگا لیتے ہیں لیکن پتا نہیں کیوں ساتھ ہی ہمارے دل و دماغ پر بھی تالے لگ جاتے ہیں۔ظاہری طور پر ہم روز ہ دار ہوتے ہیں لیکن اندر کے ہر عمل میں روزہ خوری جاری رکھتے ہیں۔۔۔ رمضان ہمارے لیے 30 دنوں کی چھٹی کا نام بن گیا ہے ہم نے سمجھ لیا ہے کہ روزے کی حالت میں محنت کرنا گناہ ہے۔ میرے دفتر میں ہر روز ایک ادھیڑ عمر بھنے ہوئے چنے بیچنے آتاہے اس نے چنے ایک بڑی سی بالٹی میں ڈالے ہوتے ہیں اوربالٹی کندھے پر رکھی ہوتی ہے۔لفٹ ہونے کے باوجودیہ شخص پانچویں منزل تک سیڑھیوں سے ہی آتا ہے کیونکہ اس نے ہر فلور کے ہر دفتر میں چنے لے لو۔۔۔چنے کی آواز لگانی ہوتی ہے۔میں چار سال سے اسے دیکھ رہا ہوں ۔پچھلے رمضان میں نے اس سے پوچھا کہ رمضان میں تمہارے چنے کون خریدتاہے؟ دانت نکال کر بولاکئی لوگوں کا روزہ نہیں بھی تو ہوتا۔۔۔ میں پھر ہنس پڑا اور پوچھا کہ چائے پیو گے؟ میری بات سنتے ہی اس نے انکار میں گردن ہلا دی۔۔۔نہیں ۔۔۔میرا روزہ ہے۔۔۔!!!