امان رمضان میں متاثرین لیاری کی دربدری کی داستان، ہردل اداس

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جیونیٹ ورک کی براہ راست خصوصی نشریات امان رمضانمیں ڈاکٹرعامرلیاقت حسین دکھی خاندانوں کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ اہل وطن کے اُس کرب سے بھی ناظرین کو آگاہ کررہیں جن سے اِن دنوں وہ دوچار ہیں۔اس سلسلے میں ریکارڈ ساز نشریات کے تیرہویں روزڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے لیاری گینگ وار کا نشانہ بننے اوردہشت گردی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے خاندانوں کو مدعو کیا ۔اس موقع پر بھتے اورغیرقانونی سرگرمیوں سے روکنے پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اسحاق اورمحمد ابراہیم کے دکھی خاندان موجود تھے جواَب دربدری کی اذیت سے گزررہے ہیں۔ لیاری کے متاثرین میں عثمان غنی کاخاندان بھی شریک تھا جو لیاری کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے اپنے دوست کے گھررہنے پر مجبور ہیں۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین سے گفتگوکے دوران متاثرہ خاندانوں نے آبدیدہ ہوکردربدری کی دردناک داستان سنائی جسے سن کروہاں موجودحاضرین کی آنکھیں اشکبارہوگئیں۔ متاثرین کا کہناتھاکہ جن گلی محلوں میں ہمارے آباء و اجداد کی زندگیاں گزریں آج وہیں سے ہمیں نقل مکانی پر مجبور کردیاگیا ہے،بھتہ خوری اور علاقوں پرقبضے کی جنگ نے ہماری زندگی اجیرن بنادی ہے اورلوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جارہاہے۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے لیاری کے متاثرین سے اظہارہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اس نشریات کامقصد ہراُس مسئلے کونمایاں کرناہے جس سے اہل وطن دوچارہیں کیونکہ جہاں درد ہے وہیں امان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ دہشت گردی یالیاری میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری لاناممکن نہیں ،اگرحکومت مخلص ہو اورسیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر فیصلے کرے تویہ مسئلہ چند دنوں میں حل ہوسکتا ہے مگر حکومت کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔دریں اثناء نشریات کے آغاز میں شام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جید صحابی حضرت خالدبن ولید کے مزاراوراس سے ملحق مسجدپر حملے کی واشگاف انداز میں مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامرلیاقت نے کہاکہ سیدہ زینب کے بعد اسلام کی ایک اوربڑی ہستی کے مزار کی بے حرمتی مسلم امہ کی بے حسی کاشاخسانہ ہے ۔خدمت خلق کے جذبے کے عکاس پروگرام راہ نیکی میں اُس وقت رقت آمیز مناظرد یکھنے میں آئے جب جِلد کے پیچیدہ مرض میں مبتلا ۹سالہ مناہل کازخمی پاوٴں دیکھ کرحاضرین آبدیدہ ہوگئے۔بچی کی حالت دیکھ کر ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے کہاکہ بچی کی یہ حالت فوری آپریشن کی متقاضی ہے جس کے لیے عطیات کاانتظارنہیں کیاجاسکتا،اس موقع پر انہوں نے اس کے آپریشن کے تمام اخراجات محمودہ سلطانہ فاوٴنڈیشن کی جانب سے خودبرداشت کرنے کااعلان کرکے بچی کے والدین سے دعائیں سمیٹیں اور حاضرین کے دل بھی جیت لیے۔ جبکہ ایم ایس ایف کی جانب سے ذہنی امراض میں مبتلابچوں کے والدمحمدزمان کو پچاس ہزار روپے کی امدادکے علاوہ راشن کاسامان دیا گیا۔نامعلوم افراد کی جانب سے اغواکیے جانے والے رضوان ایان کے دکھی خاندان نے بھی نشریات میں شرکت کی اور اپنے لخت جگر کی تصویرناظرین کودکھاتے ہوئے مبینہ دہشت گردوں سے اپیل کی کہ وہ اسے رہا کردیں۔ ہرایک کے پسندیدہ قرآنی لوحاور قرعہ اندازی میں نشریات کے تیرہویں روزبھی حاضرین وناظرین کی ایک بڑی تعدادنے لاکھوں روپے کے قیمتی انعامات جیتے جس میں موٹرسائیکلز سمیت کئی قیمتی انعامات شامل تھے۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=113631
www.AmaanRamazan.geo.tv