کوئی اِسے توڑ نہیں سکتا کیونکہ کوئی اِسے توڑ ہی نہ سکا،یہ ہمیشہ اکیلا ہی سب پر بھاری رہا ہے ، اسلام دشمن اِس کا نام سن کر کانپتے تھے اور اپنے جھوٹے معبودوں سے بلند آواز میں یہ التجا کرتے تھے کہ اے ہمارے پالن ہارو! ہمیں خالد سے محفوظ رکھنا، اِس کا وار کاری اور مسلسل جاری ہے ، یہ تو اپنی تلوار سے صفیں چیر دیتاہے ، اِس کے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِسے سیف اللہ فرما کر اِس عمل پر مہر ثبت کردی ہے کہ وحدہ لاشریک کے منکرین کی ابلیسی ضد کا خاتمہ صرف اور صرف اِسی کی تلوار سے ممکن ہے۔
خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ پیارے صحابی اور اللہ کے پیارے کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیارآج بھی نبی کریم کے گستاخوں کا ہدف ہیں،یہ بدبخت اِنہیں اِن کی حیات میں تو قتل نہ کر سکے مگر اب مزارِ عاشق پر حملہ کر کے اپنے اجداد کی پلید ارواح کو مزید آگ پہنچانے کے درپے ہیںسوال یہ نہیں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربتِ اقدس کو نفرت کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ سوال تو یہ ہے کہ قابلِ گردن زنی حرکت کرنے والے یہ کم ظرف ہیں کون؟غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عشاقِ صحابہ رضی اللہ عنہم اِنہیں کہا نہیں جاسکتا،مشرک یہ اپنے آپ کو ماننے کے لیے تیار نہیں،اِن قبیح اور رذیل حرکات کے بعد اِن کے لئے فسادی کی اصطلاح کا استعمال بھی ہلکا لفظ محسوس ہوتا ہے، خوارج کہہ دو توبری طرح اُچھل پڑتے ہیںپھر آخر یہ آئے کہاں سے؟نفرت کے کس جنگل میں اِن کی بودوباش ہوئی؟تعصب کی ایسی کون سی غذا تھی جسے کھا نے کے بعد یہ بدبودار جُثّے اِتنے طاقتور ہوئے کہ اِن کے غلیظ ہاتھ مزاراتِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم تک جا پہنچےمیرے خالد تو ایک سچے مجاہد تھے،جب تک زندہ رہے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گن گاتے رہے اور اپنے سیدی کی ظاہری حیات میں وہی کیا جسے کرنے کے لیے مُرشدی نے کہاپھر جب محبوب نے پردہ فرمالیا تو شیخین کریمین کے اِشاروں کو ہمیشہ اپنے مرشدی ہی کی راہیں جانا، یہاں تک کہ جب فاروقِ اعظم  نے سپہ سالاری سے معزول کیا تو اِسے اپنی ذات یا انا کا معاملہ بنا کر بغاوت نہیں کی بلکہ امیر المومنین کی اطاعت کی،معزولی کی علامت کے طور پرعین میدانِ جنگ میں جب اُن کے سرمبارک سے ٹوپی اُتار کر عمامہ گردن میں ڈالاگیا تو اسلام کے اِس عظیم مجاہد اور عاشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستگی سے صرف اِتنا کہا کہ میں نے فرمان سنا اور اِسے تسلیم کیا اور میں اب بھی امیر المومنین کے احکامات ماننے اور خدمات بجالانے کو تیار ہوںمیں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ 128غزوات،سرایہ اور جہادوں میں سپہ سالار کی حیثیت سے دینِ حق کی حفاظت کرنے والے خالد کا ظرف اور حلم اُس وقت سے لے کر آج تلک کسی ایسے ہی وجود کی تلاش میں ہے کہ اُس میں سما جائےلیکن خالد جیسا کوئی تھا اور نہ ہوگاصرف یہی نہیں بلکہ22ہجری میں علالت کے باعث اپنی آنکھیں بند کرنے سے پہلے نبی کے اِس عاشقِ صادق نے اپنے بچوں کو صحابہ اور اہل بیت سے محبت کا وہ مضبوط درس دیا کہ جس کی مثال کبھی صفین کے میدان میں نظر آئی تو کبھی قسطنطنیہ کے مشہور معرکے میںمہاجر بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جاں نثار رہے اور جنگِ صفین میں اللہ کے محبوب کے محبوب کا بھرپور ساتھ دیااِسی طرح حضرت معاویہ کے عہد میں قسطنطنیہ کے فوجی محاذ میں ایک دستے کے کمانڈر عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو اُسی خالد  کے جگر گوشہ تھے جن کے گنتی کے کچھ ایام میدانِ جہاد سے باہر گزرےلہٰذا میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے خالد کا دشمن کون ہے ؟اگر آج پھر مسلمانوں کے دو گروہ آمنے سامنے ہیں تواُنہیں یہ خبر کیونکر نہیں کہ خالد نے اپنے بچوں کو کبھی حضرت علی کے سپرد کیا تو کبھی حضرت معاویہ کے ، اِن بچوں کی تربیت اُس عظیم المرتبت باپ نے کی تھی جس نے احد کے بعد سے سرداروں پر نہیں صرف اسلام پر مرمٹنے کو اپنا شعار بنالیاتھااور اِسی بنا پر سیدنا خالد کے زیرسایہ پرورش پانے والے اِن دونوں مجاہدوں نے جہاں اسلام پایاوہیں اپنے آپ کو جھکایاچنانچہ نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ مزاراتِ صحابہ و اہل بیت پر شکاریوں کی طرح حملہ کرنے والے سیدنا معاویہ  کے دوست ہیں نہ مولا علی کے دشمن، یہ تو شریعت کے گھر سے اسلام کا لباس چرانے والے وہ برہنہ فسادی ہیں جو لبادہ پہن کر بھی ننگے ہی رہےاِن کی عداوت کی جڑیں صفین میں ہیں نہ جمل میں، نہروان میں ہیں نہ کربلا میںبلکہ یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ کھلے دشمن ہیں جنہوں نے اِن جنگوں کی آڑ میں ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق پرحملہ کیااور عشق پر حملے کا مطلب ہی یہی ہے کہ عاشقوں کو مٹادو!!
خالد بن ولید بھی ایک عاشق ہی تو ہیںتاریخ شاہد ہے کہ اُن کے جسم میں ایک بالشت حصہ بھی ایسا نہ تھاجو تیروں اور تلواروں کے زخموں سے بھرا نہ ہورسول اللہ جن کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! تم خالد  کو کسی قسم کی تکلیف نہ دوکیونکہ وہ اللہ کی تَلوار ہے جس کو اللہ نے کفار پر کھینچا ہے تو پھر فیصلہ کرلیجئے کہ اللہ کے رسول کے اِس قولِ مبارک کے برخلاف مزارِ خالد پر حملہ کرنے والے مسلم ہیں ناعاشقالبتہ جہنمِ بغض میں درد سے چیخنے والے وہ حاسد ہیں جنہیں علی کی عظمت،حسنین کریمین کی حرمت،سیدہ زینب  کی ہمت، جعفرطیار کی قسمت اور خالد بن ولید کی عزت ایک آنکھ نہیں بھاتی وہ آج بھی خالد کو نہیں اُن کی اُس ٹوپی کو قتل کرنا چاہتے ہیں جس میں خالد کی جان ہے جنگِ یرموک کے دوران سیدنا خالد کا نسطور نامی پہلوان سے مقابلہ ہوتا رہاایک موقع پر حضرت خالد کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرگیا،آپ کی ٹوپی زمین پر جاپڑی اور نسطور موقع پاکر آپ کے پیچھے آگیااُس وقت خالد پکار پکار کر اپنے رفقاء اور مجاہدین سے صرف یہی فرما رہے تھے کہ مجھے میری ٹوپی دے دو،اے لوگو! مجھے میری ٹوپی دے دو ، اللہ تم پر رحم فرمائےاِسی دوران ایک ساتھی نے دوڑ کر آپ کی ٹوپی آپ کو تھمادی، آپ نے فوراً اُسے پہنا، کچھ دیر تک مشہور نسطور مزاحم رہامگرفتح کا تاج خالدبن ولید کے سر پہ سجااوراپنے وقت کا جری پہلوان سیف اللہ کے سامنے ڈھیر ہوگیااِس حیرت انگیز پکارنے کہ مجھے میری ٹوپی دے دوکئی صحابہ کرام  کومتعجب کر کے رکھ دیا تھا،سب اِسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ جسے میدانِ جہاد میں اللہ کے سوا کچھ یاد نہ رہتا ہو اُسے ایک معمولی ٹوپی کی محبت نے دیوانہ کیوں بنادیا؟اِس استفسار پر حضرت خالد بن ولید نے تبسم فرمایااور کچھ دیر سب پر گہری نگاہ ڈالنے کے بعد یوں گویا ہوئےتم سب جاننا چاہتے ہو نا کہ میں نے عین حالتِ جہاد ، نسطور کی فکر چھوڑ کر اپنی ٹوپی کو مقدم کیوں رکھا؟تم سے دوسری تلوار مانگنے کے بجائے زمین پر گری ہوئی اپنی ٹوپی کیوں مانگی؟کیوں اُس کے لئے باآوازِ بلند اللہ سے دعائیں کیں جس نے مجھے میری ٹوپی لا کر دی؟تو سُن لو! کہ وہ معمولی ٹوپی نہیں بلکہ اُس ٹوپی میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک پیشانی کے بال ہیں جو خالد کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، خالد  گر جائے یہ گوارا ہے مگر رسول اللہ کے موئے مبارک زمین پر گر جائیں تو خالد  پر جینا حَرام ہےاور یہ بھی جان لو کہ خالد ہر جنگ میں صرف اِن بالوں کی برکت ہی سے کامیاب ہوتا ہے ،میری بے قراری کی وجہ بس یہی تھی کہ ایسی حیات کا کیا فائدہ کہ میں اپنے مولا کے موئے مبارک کی برکت سے محروم ہوجاؤںدشمنی اِسی عشق سے ہے ،کینہ اِسی ادا سے ،اِنہیں کل بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیوانوں سے بیر تھا اور آج بھی یہ عاشقوں کو دیکھ کر انگاروں پر لوٹتے ہیںیاد رکھئے کہ کبھی توحید اور کبھی بدعت سے نفرت کی آڑ میں عشاق پر اِن کے حملوں کا یہ سلسلہ مدتوں سے جاری ہے اور شایدقیامت تک جاری رہے گا!!!
(میں محترم پروفیسر اسرار بخاری،محترمہ صغریٰ صدف اور بالخصوص محترم مظہر برلاس کاانتہائی مشکور ہوں جنہوں نے اپنے مقبول کالمز میں مجھ جیسے ناکارہ کا تذکرہ اُن الفاظ میں کیا جس کا میں یقینا مستحق نہیںاللہ آپ سب کو اِس کا بہترین اجر عطا فرمائے آمین)
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=114254
دنیا کی سب سے بڑی براہ راست نشریات امان رمضان سے ہر لمحہ باخبر رہنے کے لیے فالو کیجیے
facebook.com/AmaanRamazanOfficial
www.AmaanRamazan.geo.tv