جو لوگ سستی روٹی سکیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں انہیں اس بات کا ہرگز علم نہیں کہ صرف اس سستی روٹی نے زندہ درگور انسانوں کے دلوں کو زندگی کی امید کے ساتھ کتنا وابستہ کیا ہوا ہے، تنقید کرنا تو بلاشبہ دنیا کا آسان ترین کام ہے مگر اس تنقید میں *قائق کا کوئی شائبہ بھی موجود نہیں ہوگا تو ناقد کی تنقید ہی نہیں، اس کی علمیت کا بھانڈہ بھی پھوٹے گا۔
مجھے نہیں معلوم کہ سستی روٹی سکیم سے میاں شہباز شریف کو سیاسی طور پر کتنا فائدہ ہوا ہے بلکہ اس سکیم پر جتنی تنقید سامنے آتی ہے وہ انہیں زچ ہی کرتی ہوگی مگر بے شک وہ زچ ہوتے رہیں۔ اس سکیم کو ہر صورت اور ہمیشہ کیلئے جاری رکھنے کے ان کے اعلان سے *الات کے مارے ستم رسیدہ بھوکے انسانوں کیلئے ان کے *لق سے اترنے والا ایک ایک لقمہ نعمت بن رہا ہے اس لئے ضرورت اس سکیم کو م*ض سیاست بازی میں تنقید کا نشانہ بنا کر ختم کرانے کی نہیں، اس سکیم میں موجود خامیاں درست کرانے اور اس کو وسعت دلانے کی ہے۔ یہ سکیم غریبوں کیلئے وہ آسرا ہے جو انہیں چھت کے آسرے جتنا ہی سہارا دے رہا ہے۔
اگر کوئی انسان دو روپے کی صرف ایک روٹی کے *صول کی خاطر کڑکتی دھوپ میں جلتی تپتی دھرتی پر لائن میں لگے گھنٹے دو گھنٹے کے انتظار کی اذیت بھی برداشت کررہا ہے تو اس سے ہی اس کی کم مائیگی، کسمپرسی اور بے بسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس اذیت کو برداشت کرنے کے بعد بھی اسے م*روم واپس لوٹنا پڑے تو اسکی ذہنی کیفیت کا اندازہ تنقید کے فیشن میں مبتلا لوگوں کو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ آج اگر م*روم لوگوں کے چہروں پر مایوسی سے زیادہ غصے کا عنصر نظر آرہا ہے تو یہ اس ذہنی کیفیت کی ہی غمازی کرتا ہے جو کسی نظر آنے والی سہولت کے بھی دستیاب نہ ہونے کے باعث کسی مایوس انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے۔
جن لوگوں کے گھروں کے بھڑولے دانہ گندم سے بھرے ہوئے ہیں اور اب انہوں نے اپنے وسائل کی بنیاد پر اگلے تین چار سال کیلئے بھی خود کو غذائی ضرورت سے م*فوظ کرلیا ہے، انہیں سستی روٹی سکیم کے باعث وسائل سے م*روم طبقات کو *اصل ہونے والی اس سہولت کی اہمیت کا اندازہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کسی کو بھوک نے تصور میں بھی نہ ستایا ہو تو اسے بھوکے انسان کیلئے روٹی کے ایک لقمے کی اہمیت کا بھی کیا ا*ساس و اندازہ ہوسکتا ہے۔ *ضور والا، جس تن لاگے، سویو جانے۔
اگر عوام الناس یعنی غریب، م*روم طبقات کے ساتھ آپ کے دل میں کسی ہمدردی کی کوئی رمق پھوٹ ہی نکلی ہو تو آپ بے شک ان کی فلا* و بہبود کے طویل المیعاد منصوبے بناتے اور انہیں مزید چکمے دیتے رہیں مگر فوری طور پر ان طبقات کیلئے دو روپے کی روٹی کا *صول چاہے جیسے بھی ہو، ممکن بنا دیجئے۔ صرف یہی ایک کام ان کے دلوں میں پیدا ہونیوالے نفرت کے لاوے کو ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ اگر آپ کو م*روم طبقات کی مایوسیوں کے غصے میں تبدیل ہونے کے کسی عمل کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ سستی روٹی سکیم کے ت*ت قائم کسی تنور کے اردگرد گھنٹہ دو گھنٹہ گزار کے دیکھ لیں۔ آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائیگا کہ م*روم انسانوں کی سوچ اب ردعمل کے کس راستے کا انتخاب کررہی ہے۔
اگر میاں شہبازشریف کی جانب سے اربوں روپے کی سبسڈی دیکر بااصرار اس سکیم کو ہمیشہ کیلئے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے تو بیوروکریسی کی ملی بھگت سے منتخب نمائندوں کے ذریعے اس سکیم کو ناکام بنانے کی سازشوں پر قابو پانا ہوگا ورنہ سارے وعدے، سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور تمام کوششیں اکارت چلی جائیں گی۔ ان سازشوں میں بڑی سازش سستے تنوروں کو بتدریج بند کرانے کی ہے۔ اس وقت شہروں اور مضافات میں کم و بیش آدھے سستے تنوروں پر بندش کی تلوار لٹکائی جاچکی ہے۔ عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ تنور اس سکیم کا ناجائز استعمال کررہے ہیں، یقیناً بعض تنور مالکان اپنے کوٹے کے سستے آٹے کو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے کی علت میں مبتلا ہوں گے کہ یہ ہمارے کرپشن کلچر کا لازمی جزو ہے۔ ان میں سے کسی ایک آٹا فروش کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر اس کے تنور میں کیوں نہ ڈال دیا جائے؟ میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ بیوروکریسی کی متعلقہ مشینری کی ملی بھگت کے ساتھ جو سستے تنور مالکان اس دھندے میں ملوث ہیں ان کے تنوروں پر سیل زیادہ شو کرکے ان کا آٹے کا کوٹہ بڑھا دیا جاتا ہے اور جن سستے تنوروں پر دو روپے کی روٹی کے *صول کی خاطر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی نظر آتی ہیں، انہیں سستی روٹی سکیم سے باہر نکالنے کے نوٹس مل رہے ہیں اور انہی تنوروں کو جبراً بند بھی کرایا جا رہا ہے جبکہ غریبوں کو فائدہ دینے والے انہی تنوروں پر یہ پابندی بھی لگائی جا رہی ہے کہ ایک شخص کو پانچ سے زیادہ روٹیاں فراہم نہیں کی جائیں گی۔ اگر آٹھ دس افراد پر مشتمل کسی گھرانے کا ایک فرد اپنے خاندان کیلئے روٹی کے *صول کی خاطر لائن میں لگا ہو اور ایک گھنٹے بعد باری آنے پر اسے بتایا جائے کہ وہ پانچ سے زیادہ روٹیاں *اصل نہیں کرسکتا تو اس کی مایوسی اسکے دل میں کتنے طوفان پیدا کریگی، اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود اس عمل سے گزر رہا ہو۔
اور پھر سستی روٹی سکیم کے ت*ت فراہم کئے جانے والے آٹے کے معیار کا تو ذرا جائزہ لیجئے۔ اس آٹے میں اور مویشیوں کے بھوسے میں آپ کو کوئی فرق نظر نہیں آئیگا مگر کیا ان قبا*توں کی وجہ سے عوام الناس کو تھوڑی بہت سہولت فراہم کرنے والی اس ساری سکیم کو ہی ختم کردیا جائے؟ *ضور والا! یہ اس کا ہرگز علاج نہیں ہے۔ بیوروکریسی کے اپنے مقاصد ہیں اور ان کے ہاتھوں استعمال ہونیوالے منتخب نمائندوں کی اپنی سوچ ہے جسے سستی روٹی کی اس سکیم پر ہرگز *اوی نہ ہونے دیا جائے کیونکہ یہ زیادہ تر عوام الناس کے نہیں، طبقہ اشرافیہ کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہیں بھوکے آدمی کیلئے نانِ جویں کی اہمیت کا ا*ساس نہیں ہوسکتا
بُھکّے کولوں بُرکی کھوہ کے کہندے او کہ بولے نہ
جِس دا جُھگاّ بھجّے آخر اوہ تے رَولا پاوے گا
اس لئے خلق خدا کے اس شور سے پہلے ہی خود کو سنبھال لیجئے، سستی روٹی کو چلنے دیجئے، جیسے بھی ہو، اس کو وسعت دیتے جائیے اور اس پر ہونےوالی تنقید سے ہرگز نہ گھبرائیے۔ یہی ایک سکیم آپ کو م*روم و مجبور طبقات کی جانب سے قیامت ڈھانے سے بچا سکتی ہے ورنہ تو ان انسانوں کے غصے کی تاب لانے کے بھی آپ مت*مل نہیں ہوسکیں گے۔

[sm1:23q5oq4i][/sm1:23q5oq4i]