اسقاطِ مذاکرات...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
یہ تمام خدشات اپنی جگہ کہ حکیم اللہ محسود کے بعدکیا اب بھی طالبان مذاکرات کے عمل میں شامل ہوں گے ؟یا پھر کچھ عرصے کے لیے موقوف کردہ کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کردیں گے؟ مگر اِس سچائی سے بھی طالبان کوہر گز منہ نہیں موڑنا چاہیے کہ اسلام میں شخصیت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، لوگوںکا آنا جانا تو لگا رہتاہے ، لگا ہی رہے گا ،مجھے یقین ہے کہ حکیم اللہ محسود کی تو خواہش ہی یہی رہی ہوگی کہ وہ شہید ہوجائیں، سو اُنہیں اُن کی منزل مل گئی لہٰذا اب اِس حملے کو جواز بنا کر پیدائش سے پہلے ہی اسقاطِ مکالمہکی غیر فطری تیاریاں شروع کردینا کم از کم اُنہیں تو زیب ہی نہیںدیتا جو بات چیت کے لیے آمادہ ہوگئے تھےیہ درست ہے کہ غیروں نے کاری وار کیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وار، Warکے دورا ن ہی کیے جاتے ہیں یہ جنگ کس نے شروع کی ؟ یہ سوال شاید اہم نہیںالبتہ جنگ اب تلک جاری ہے یہ منظر بلاشبہ تشویش ناک ہےحکیم اللہ محسود تو قصۂ پارینہ ہوگئے ،ایک کمانڈر تھے جو نہ رہے ، جس عقیدے کے وہ پیروکار تھے اُ س کے مطابق اب اُن کا دن منانا بھی بدعت میں شمار ہوگا،اُن کا مسلک مزار یا مرقد کا قائل نہیں ہے یہاں تک کہ تدفین کے بعد قبر کو یاد رکھنا بھی ضروری نہیںاِسی لیے خاموشی سے نامعلوم مقام پر اُنہیں سپردِ خاک کردیاگیا ہے اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اُن سے وابستہ ہر فرد گہرے رنج میں مبتلا ہے اور غالباً اِسی سبب بعض کمانڈرز نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ حکیم اللہ محسود کے لہو کے ہر قطرے سے ایک خود کش بمبار پیدا ہوگادیگروفاداروں کا ماننا ہے کہ امریکا نے حکومت پاکستان کی مدد سے یا اُس کے ساتھ مل کر حکیم اللہ محسود پر حملہ کیالہٰذا ہم حکومت سے بدلہ لیں گےیعنی سیدھی سی بات ہے کہ امریکااپنے مقصد میں بظاہر کامیاب ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ،اُس نے حکیم اللہ محسود کو ہدف بنا کر کم از کم دو اہم کامیابیاں تو حاصل کر ہی لی ہیںپہلی تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کا خاتمہ اور دوسری جسدِ مذاکرات کوشمشیرِ ڈرون سے قطع کردینا، اِس ایک حملے سے اُس نے غلط فہمیوں کی نئی نسل کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ بھروسے کی کئی مضبوط دیواریں بھی توڑ ڈالی ہیں،اُس نے تو جو چاہا اُسے حاصل کرلیا لیکن حکیم اللہ کے ساتھیوں کی سختی اُن تمام کوششوں کا گلا گھونٹنے کے درپے ہے جنہو ں نے بڑی مشکل سے لفظ مذاکرات ادا کرنا سیکھا تھا
تواب کیا پوری قوم دوبارہ ذہنی طورپر تیار ہوجائے کہ مسجدوں،بازاروں،درگاہوں اور عام راستوں کو پھرلہو سے نہلایا جائے گا؟ایک قتل کے بدلے سیکڑوں بے گناہوں کی نعشیں گرانے کی گھڑیاں کیا پھر سے قریب آن پہنچی ہیں؟بات چیت اور گفت و شنید کی سرگوشیاںکیا تصوراتی تھیں؟اور کیا اِس قتل و غارت کے درمیان صرف ایک وقفہ حائل ہوا تھا کہ جیسے اِس کے ختم ہونے کا انتظار کیا جارہا ہو؟اِدھر بریک ختم اُدھر ہرجذبہ،خواہش،تمنا اور اُمید بریکآخر ہم اغیار کے منصوبے کو کامیاب ہی کیوں ہونے دے رہے ہیں،اُس کی تو پہلے دن سے یہی آرزو تھی کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرت نہ ہوں،وہ اپنے مفاد کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات کرے تو جائز اور ہم اگر اپنے وطن کے لیے تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کریں تو ناجائز!!اور اِسی بنیاد پر اُس نے عین اُس وقت اِس پورے عمل کو تہہ تیغ کردیا جب چراغ روشن کیے صرف چند لمحے ہی بیتے تھے، ابھی تو ایک دوسرے کو جاننے کے مرحلے کا بھی آغاز نہ ہوا تھا،ابھی تو گلے شکووں کے طویل دور ہونا باقی تھے،ابھی تو باقاعدہ یا القاعدہ باہم تعارف کے ننھے پھول نے آنکھ بھی نہ کھولی تھی، ابھی تو زخم خوردہ جسم کے معائنے کی ابتدا بھی نہ ہوئی تھی، ابھی تو تسلیم و رضا کی ہوا کے جھونکے بھی چلنا شروع نہ ہوئے تھے کہ حاسد نے دور سے محسود پر ڈرون چلادیاحاسد کو تسکین پہنچی یا نہیںیہ تو حاسد ہی جانے البتہ محسوداِسی واقعے میں محبوس ہوکر رہ گئے ہیںبدلے کی گھٹن نے اُن سے ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی ہے اور اب اِس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں کہ پہلے انتقام بعد میں کچھ اور!!
میں تحریک طالبان پاکستان کی عبوری قیادت سے یہ ضروری گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مذاکرات کی خواہش مند قوتوں کی کوششوں،کاوشوں اور محنتوں کو ضائع نہ ہونے دیں،آنے والے دنوں میں آپ کا امیر کوئی بھی ہو مگر ہوش و خرد سے غریب کسی بھی قسم کے فیصلے سے گریز کیجیے گاآپ کو تو وزیر داخلہ پر اعتماد ہے نا! اور وہی یہ فرمارہے ہیں کہ ہم امریکا سے اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کریں گے کیونکہ اِس ایک ڈرون حملے نے امن کے عمل کو قتل کردیا ہے دوسری جانب عمران خان صاحب بھی آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں،مذہبی اکابرین بھی اِس نتیجے پر متفق ہیں کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ دراصل ممکنہ بات چیت کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ ہے، بیشتر سیاسی رہنما بھی اِس کارروائی کو گہری سازش قرار دے چکے ہیں چنانچہ جو بھی فیصلہ کیجیے سوچ سمجھ کر کیجیےاپنے دل سے فتویٰ لیجیے کہ کیا حکیم اللہ محسود بھی اب یہی چاہتے تھے جو آپ کرنے جارہے ہیں؟ کیا وہ امن کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق نہیں ہوگئے تھے؟کیا اب اُن کی یہ دلی
خواہش نہیں تھی کہ تمام مسائل ایک دوسرے سے بات کر کے حل کیے جائیں
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ شریر اپنا کام نہ کریں،یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ فضا سازگار رہے ،یہ اُصولِ فطرت کے قطعاً برخلاف ہے کہ مزاحمت کے راستے مسددو ہوجائیںانگلیاں بھی اُٹھیں گی،تنقید بھی ہوگی،نتائج بھی پہلے سے اخذ کیے جائیں گے اور ایسی تمام تگ و دو کو لاحاصل قرار دے کر رد بھی کیا جائے گا مگر آپ نے پیچھے نہیں ہٹنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ اے گلے پھاڑ پھاڑ کر امن چلّانے والو! اب جب ہم امن کی میز پر آنے کے لیے تیار تھے تو تم جنگ کے لہجوں سے ماحول خراب کرنا چاہتے ہو!تم چاہتے ہو کہ بس تمہاری نگری میں سکون ہو اور باقی سب کے چمن لٹتے رہیںہاں! ہم بھی کبھی لٹیرے تھے،ہم ہی تو اصل قاتل تھے لیکن اب ہم پلٹنا چاہتے ہیں،لوٹ کر وہیں آنا چاہتے ہیں جہاں سے سب نے مل کر سفر کا آغاز کیا تھا، ہماری اِس راہ گزر کو شک کے ڈرونوں سے تباہ نہ کرو اور ہمیں مذاکرات کرنے دو!کسی حکیم اللہ،بیت اللہ،نیک محمد یا ولی الرحمن کے چلے جانے سے آنے والی نسلوں کی اُمیدہم ختم نہیں ہونے دیں گے،جو ہوا سو ہواہم سے مذاکرات کرنے والوں نے بھی تو سیکڑوں نعشیں بھلائی ہیں،درجنوں مساجد اور اسکولوں کے ملبے تلے دبی درد بھری کہانیاں کیا انہیں یاد نہیں ہوں گی؟میلاد کے جلسے میں علما کے تڑپتے لاشے کیا اُنہیں ہم سے بات کرنے سے نہیں روکتے ہوں گے؟ہم نے تو عظیم داتا صاحب کے دربارکو بھی نہ چھوڑاارے! سچ تو یہ ہے کہ ہم نے تو اِس ملک کا کوئی کوچہ و بازار تک نہ چھوڑا لیکن اِس کے باوجودجب وہ سب کچھ فراموش کر کے آج ہم سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں تو کیا ہم امن کے لیے صرف ایک حکیم اللہ محسود کو بھلا نہیں سکتے میرا خیال ہے بھلا سکتے ہیںاور اب ہمیں اِس سانحے کو بھلا ہی دینا چاہیے تاکہ مکالمے کا عمل آگے بڑھ سکے !!!
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=143157


--
To get more updates on your mobile, Type F @Jang_Akhbar and SEND to 40404
Follow us on Twitter @Geo_English @Geo_Urdu and @Jang_Akhbar
Like us on facebook.com/JangDotComDotPk