#JangNews @Aamirliaquat
مذاکرات فوری ہونے چاہئیں، اگر سچے ہوں گے تو ہمارے ساتھ ہوں گے، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ڈرون حملے بند،مذاکراتی عمل نتیجہ خیز بنایا جائے،علماء مشائخ کانفرنس
اسلام آباد (اے پی پی/ ثناء نیوز) علماء کرام، مشائخ عظام اور دانشوروں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکراتی عمل کی حمایت و اسے نتیجہ خیز بنانے اور ڈرون حملوں کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہاہے کہ مذاکرات ہونے چاہئیں ، فوری ہونے چاہئیں ، اگر سچے ہوں گے تو ہمارے ساتھ ہوں گے ، نہیں ہوں گے تو سورۃ منافقون موجود ہے۔عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں علماء اور مشائخ کا اہم کردار تھا اورپاکستان بزرگان دین کے فیض سے قائم ہے،دین صبر سکھا تا ہے جبر نہیں۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، یہ قرآن کا اٹل فیصلہ ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں سلیم صافی اور سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ قوم موجودہ صورتحال میں کنفیوژن کا شکار ہے کہ پاکستان کا اصل دشمن آخر ہے کون۔ وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے محبت ، ایمان کا حصہ ہے ، اتفاق و اتحاد سے ہی بڑے چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ پیر کو ہم سب کا پاکستان کے نام سے منعقدہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج پاکستان کو امن کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، اس وقت وطن عزیز کی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ہمارے آبائو اجداد نے اس شجر سایہ دار کی آبیاری اپنے لہو سے کی تھی، آج ہم اﷲ اور اس کے رسولؐ سے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اس ملک کی بقاء کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہم اپنی حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ امن کیلئے مذاکراتی عمل ہونا چاہئے، ہم قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں اس مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں اور یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عمل کو جلد از جلد نتیجہ خیز بنایا جائے، ملکی خود مختاری کو یقینی بنانے کیلئے ڈرون حملوں کو بند کرایا جائے۔ اس سلسلے میں سفارتی ذرائع کے ساتھ ساتھ دیگر آپشنز پر بھی غور کیا جائے۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان میں موجود غیر ملکی مداخلت کاروں کے خلاف کارروائی کیلئے کسی مصلحت سے کام نہ لیا جائے۔ ثناء نیوز کے مطابق پاکستان کے ڈیڑھ سو سے زائد مشائخ عظام نے پہلی مرتبہ قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کر دی ہے ان مشائخ عظام کا تعلق ملک بھر کی مشہور خانقاہوں، درباروں،مزارات اور بڑے دینی مدارس سے ہے ملک بھر سے مشائخ عظام وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات کی دعوت پر اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے پاکستان کو بچانے کیلئے خانقاہوںاور حجروں سے باہر آکر ذمہ داریاں ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ مطالبہ کیا کانفرنس دن بھر جاری رہی۔ اعلامیہ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو آج امن کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی اس وقت وطن عزیز کی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہے، حکومت افواج پاکستان اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ امن کیلئے مذاکراتی عمل ہونا چاہیے ہم وسیع تر مفاد میں مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں ملکی خود مختاری کو یقینی بنانے کیلئے ڈرون حملوں کو بند کرایا جائے۔ ملکی سلامتی کے اہم امور میں مشائخ عظام کو بھی شریک رکھا جائے فی الفور اوقاف اور مساجد میں بطور خطیب امام اور خدام ایسے افراد تعینات کیے جائیں۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=143542


for more updates please visit official web site www.aamirliaquat.com
Follow on Twitter: @AamirLiaquat
To get Dr Aamir Liaquat messages on your cell just type "F @aamirliaquat and SEND to 40404


#JangNews @Aamirliaquat
مذاکرات فوری ہونے چاہئیں، اگر سچے ہوں گے تو ہمارے ساتھ ہوں گے، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ڈرون حملے بند،مذاکراتی عمل نتیجہ خیز بنایا جائے،علماء مشائخ کانفرنس
اسلام آباد (اے پی پی/ ثناء نیوز) علماء کرام، مشائخ عظام اور دانشوروں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکراتی عمل کی حمایت و اسے نتیجہ خیز بنانے اور ڈرون حملوں کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہاہے کہ مذاکرات ہونے چاہئیں ، فوری ہونے چاہئیں ، اگر سچے ہوں گے تو ہمارے ساتھ ہوں گے ، نہیں ہوں گے تو سورۃ منافقون موجود ہے۔عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں علماء اور مشائخ کا اہم کردار تھا اورپاکستان بزرگان دین کے فیض سے قائم ہے،دین صبر سکھا تا ہے جبر نہیں۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ، یہ قرآن کا اٹل فیصلہ ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں سلیم صافی اور سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ قوم موجودہ صورتحال میں کنفیوژن کا شکار ہے کہ پاکستان کا اصل دشمن آخر ہے کون۔ وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے محبت ، ایمان کا حصہ ہے ، اتفاق و اتحاد سے ہی بڑے چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ پیر کو ہم سب کا پاکستان کے نام سے منعقدہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج پاکستان کو امن کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، اس وقت وطن عزیز کی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ہمارے آبائو اجداد نے اس شجر سایہ دار کی آبیاری اپنے لہو سے کی تھی، آج ہم اﷲ اور اس کے رسولؐ سے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اس ملک کی بقاء کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہم اپنی حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ امن کیلئے مذاکراتی عمل ہونا چاہئے، ہم قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں اس مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں اور یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عمل کو جلد از جلد نتیجہ خیز بنایا جائے، ملکی خود مختاری کو یقینی بنانے کیلئے ڈرون حملوں کو بند کرایا جائے۔ اس سلسلے میں سفارتی ذرائع کے ساتھ ساتھ دیگر آپشنز پر بھی غور کیا جائے۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان میں موجود غیر ملکی مداخلت کاروں کے خلاف کارروائی کیلئے کسی مصلحت سے کام نہ لیا جائے۔ ثناء نیوز کے مطابق پاکستان کے ڈیڑھ سو سے زائد مشائخ عظام نے پہلی مرتبہ قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کر دی ہے ان مشائخ عظام کا تعلق ملک بھر کی مشہور خانقاہوں، درباروں،مزارات اور بڑے دینی مدارس سے ہے ملک بھر سے مشائخ عظام وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات کی دعوت پر اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے پاکستان کو بچانے کیلئے خانقاہوںاور حجروں سے باہر آکر ذمہ داریاں ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ مطالبہ کیا کانفرنس دن بھر جاری رہی۔ اعلامیہ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو آج امن کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی اس وقت وطن عزیز کی سالمیت شدید خطرات سے دوچار ہے، حکومت افواج پاکستان اور ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ امن کیلئے مذاکراتی عمل ہونا چاہیے ہم وسیع تر مفاد میں مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں ملکی خود مختاری کو یقینی بنانے کیلئے ڈرون حملوں کو بند کرایا جائے۔ ملکی سلامتی کے اہم امور میں مشائخ عظام کو بھی شریک رکھا جائے فی الفور اوقاف اور مساجد میں بطور خطیب امام اور خدام ایسے افراد تعینات کیے جائیں۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=143542


for more updates please visit official web site www.aamirliaquat.com
Follow on Twitter: @AamirLiaquat
To get Dr Aamir Liaquat messages on your cell just type "F @aamirliaquat and SEND to 40404