#JangNews "Ulema Soorat-e-Haal Wazeh Karen", Dr @AamirLiaquat Husain



کراچی ( جنگ نیوز) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے بیان کے حوالے سے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کی پریس کانفرنس کے بعد جیو نیوز پر تجزیہ نگاروں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں ہزاروں معصوم جانیں گئیں ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ علماء صورتحال واضح کریں ۔ معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں جو بحث ہورہی ہے اس لحاظ سے دیکھیں تو علماء کی خاموشی بڑی معنی خیز لگ رہی ہے۔ سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے فوجیوں کے شہید ہونے پر قوم میںکوئی ابہام نہیں ۔ افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ریاست کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کو شہید نہ ماننا افسوسناک ہے جبکہ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے غیر ضروری سوال اُٹھایا جبکہ جماعت اسلامی پر پابندی کا مطالبہ بھی غیر ضروری ہے۔ انصار عباسی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ منور حسن کا بیان اور اس پر آرمی کا ردعمل دونوں نہیں آنے چاہئے تھے ، فوج اور سیاسی جماعت کے درمیان محاذ آرائی کو اب آگے بڑھنا نہیں چاہئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کا کہنا تھا کہ گناہ کا جواز پیش کرنے والا بھی گنہگار ہوتا ہے ، لیاقت بلوچ نے بڑے گناہ کو سپورٹ کیا۔ اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کا جیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منور حسن نے کہا کہ فوج شہید نہیں اور انہوں نے فوج کا نام لیا تو فوج نے وضاحت کی۔ لیاقت بلوچ کی کانفرنس پر کامران خان نے مزید کہا کہ جس قسم کی تردید یا وضاحت چاہئے تھی وہ تو خیر جماعت اسلامی نے نہیں دی اور انہوں نے لاتعلقی کا اعلان بھی نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے تو کوئی دو رائے نہیں تھیں کہ فوجی قوم کے شہید نہیں، ابھی بھی میں نہیں سمجھتا کہ قوم کی اکثریت کو اس بارے میں کسی قسم کا کوئی ابہام ہے۔ جماعت اسلامی کا یہ بیان اس سلسلے میں پہلا بیان ہے، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی سیاسی قوتوں میں سے کبھی کسی نے اس حوالے سے کوئی دو رائے کا اظہار کیا۔ لیاقت بلوچ کی جانب سے ضمنی بحثوں میں الجھانے کے سوال پر کامران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں پہلے بیان تو منور حسن کا آیا، فوج کا ردعمل تو اس کے بعد آیا۔ حامد میر نے کی جیو نیوز سے گفتگومیں کہا کہ پاکستان کا فوجی ، پولیس اہلکار ، رینجرز، ایف سی کا کوئی بھی جوان اگر پاکستانی عوام کی حفاظت کرتے ہوئے کسی اندرونی یا بیرونی حملہ آور کی گولی یا بم کا نشانہ بنتا ہے تو ہماری ناقص عقل کی روشنی میں وہ ہمارا ہیرو بھی ہے اور ہمارا شہید بھی ہے۔ جہاں تک منور حسن کے بیان کا تعلق ہے، میں نے اس کو دو تین دفعہ بڑے غور سے سنا ہے۔ منور حسن نے غیرضروری طور پر ایک سوال اٹھایاہے، انہوں نے کوئی سوئپنگ اسٹیٹمنٹ تو نہیں دی لیکن انہوں نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مفتیان کرام ہمیں بتائیں کہ جو امریکا کی جنگ کو لڑتے ہوئے جان سے جاتے ہیں وہ شہید ہیں یا نہیں۔ انصار عباسی نے کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پہلے تو منور حسن کو اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہئے تھی پھر جس طرح سے آرمی کا رسپانس آیا ہے وہ بھی شاید نہیں آنا چاہئے تھا، فوج اور سیاستدان یا کسی بھی ایک سیاسی جماعت کے درمیان اس طرح سے محاذ آرائی کو آگے نہیں بڑھنا چاہئے، میرا خیال ہے کہ بہتر یہ ہوتا کہ پس پردہ آپ بحث کرتے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بہت تکلیف ہورہی ہے اور دکھ ہورہا ہے کہ ہم جن حالات کا شکار ہیں اور اس ملک میں کیا بحث ہورہی ہے، اس سے پہلے بھی جب بغداد میں ہلاکو خان پہنچا تھا تو مسلمان اس پر الجھے ہوئے تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ ہم آج اسی طرح کی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ فوج تو حکومت کے کہنے پر کارروائی کرتی ہے، فوج تو خود کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اگر موردِ الزام ٹھہرانا ہے تو حکومت کو ٹھہرایئے۔ لیکن بات صرف اتنی ہے کہ یہ جو بحث ہورہی ہے اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو ہمیں علماء کی خاموشی بڑی معنی خیز لگ رہی ہے۔ نہ تو میں مفتی ہوں، نہ عالم ہوں، نہ زاہد ہوں، نہ میرا یہ منصب ہے، میرا افتاء سے تعلق نہیں ہے کہ میں کوئی فتویٰ دوں یا اس پر کم از کم اپنی رائے کا بھی اظہار کروں۔ لیکن میری اطلاعات کے مطابق علماء کی باقاعدہ ریسرچ ہے اور وہ اس پر تحقیق کئے بیٹھے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ اس مسئلے پر انہیں کیا جواب دینا ہے۔ میاں افتخار نے کہا کہ یہ تو بہت اہم مسئلہ ہے اور اب ایک اہم قومی ایشو بن چکا ہے، اس پر تو پارٹی اجلاس بلا کر موقف اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن جہاں تک یہ بات ہے تو یہ سیاست کے حوالے سے بات نہیں ہورہی بلکہ یہ تو ملک کو درپیش دہشتگردی کے ، چونکہ ہمیں اس کے خلاف ایک جنگ لڑنی ہے اور اس ڈرون کا بہانہ بنا کر دہشتگردوں کو شہید قرار دیا گیا اور جو دہشتگردوں کے خلاف پاک فوج اور بشمول قوم یعنی اس میں عوامی نیشنل پارٹی کے 80 ساتھی جو ہمارے شہید ہوئے، اس طرح اسکول کے بچے شہید ہوئے، نمازی شہید ہوئے، معصوم لوگ شہید ہوئے، کون کون ہے جو اس سارے پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے شہید نہیں ہوئے، ان شہداء کے خون کو رائیگاں سمجھنا اور پھر جنہوں نے خون بہایا ہے ان کو شہید سمجھنا، یہ ایک ایسی فضا قائم کرنا ہے کہ عملاً پاکستان دہشتگردوں کے ہاتھوں میں دینا ہے، لہٰذا اس پر ان کو وضاحت کرنی چاہئے تھی بجائے اس کے ۔ فوج تو لازمی بات ہے، فوج تو سیاسی ادارہ نہیں ہے اور فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے لیکن منور حسن نے جو بات کی وہ تو جیو پر موجود ہے کہ یہ جو جنگ ہے یہ امریکا کی ہے اور اس میں فوج ہے یا وہ قوم ہے ، یہ جو بھی مر رہی ہے یہ شہید نہیں ہے اور جو دہشتگرد ان کو مر رہے ہیں اگر وہ مر گئے تو وہ شہید ہیں۔ قوم اس سے جواب طلب کررہی ہے۔ افتخار احمد نے کہا کہ فوج کو بالکل سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے یہی میرا موقف ہے۔ لیکن سوال ہے کہ جماعت اسلامی نے جو بیان دیا کیا وہ سیاسی بیان تھا، اگر وہ اس کو سیاسی بیان کہتے ہیں تو پھر وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے کچھ سیاسی مقاصد بھی ہیں، اور یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ان لوگوں کو شہید ماننے کے لئے تیار نہیں جو آپ کی ریاست کی حدود کی حفاظت میں اپنی جان قربان کررہے ہیں، جو اس ریاست کو ان لوگوں سے بچانے کیلئے جان قربان کررہے ہیں جو اس ریاست کو مذموم عزائم کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وسیم اخترکا کہنا تھا کہ کسی گناہ کا جواز پیش کرنا اسی طرح ہے کہ انہوں نے اس سے بڑا گناہ سرزد کیا ہے، اس سے بڑے گناہ کو انہوں نے سپورٹ کی ہے، یہ جو فیصلہ جماعت اسلامی کی طرف سے آیا ہے اس کو اگر اس پیرائے میں دیکھیں کہ فوجی جو شہید ہورہے ہیں جو جنگ اس ملک میں دہشتگردی کے خلاف لڑی جارہی ہے ، ریاست کے اندر ریاست بن گئی ہے، جماعت اسلامی کا جو اسٹیٹمنٹ آیا ہے میں اس کو رد کرتا ہوں۔ حکومت کو چاہئے کہ اس کا نوٹس لے، اس پر ایکشن لے، قانونی و آئینی چارہ جوئی کرے اور ان کی جماعت پر پابندی کے لئے کورٹ میں جائے۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=145615








#JangColumn "Molana Kay Nakhry Wah Bhae Wah...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat Husain
مولانا کے نخرے واہ بھئی واہ!...لاؤڈ اسپیکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=145233
--
ہر دلعزیز میزبان اور مذہبی ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اچھے اچھے پیغامات مفت میں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے ابھی ایس ایم ایس کیجئے
F @AamirLiaquat and SEND to 40404
Official website of Dr Aamir Liaquat Husain: www.aamirliaquat.com