#JangNews #AmanKiAasha Jesi Koshishon ki Hosla Shikni Nahi Karni Chahiyee - @ImranKhanPTI
اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امن کی آشا جیسی کوششوں کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہئے، امن کے حامی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف 20 نومبر کو عوامی احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ شدید ترین احتجاج سے امریکا پر واضح کر دیں گے کہ ہمیں ڈرون حملے قبول نہیں وزیراعظم کو بھی چاہئے کہ وہ بھی عوامی مظاہروں کی قیادت کریں۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں پڑوسی ممالک سے امن قائم کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوششیں کرنے والوں پر الزامات کا حوصلہ شکن رویہ درست نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بطور خاص جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے پروگرام امن کی آشا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک میڈیا ہائوس دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات اور اس کے قیام کیلئے امن کی آشا کے نام سے کوششیں کر رہا ہے اب اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ وہ نریندر مودی کے ساتھی ہو گئے ہیں ہمیں ایسے رویوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم سب کو مذاکراتی عمل کی پشت پناہی کرنی چاہیے اپوزیشن نے ثابت کیا کہ فاٹا کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔ یقیناً وقت لگے گا امریکا نے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا سب کو امریکا کے خلاف سخت ترین رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے تھا وزیراعظم کو سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تھا مگر قوم تقسیم نظر آرہی ہے ہم شروع سے امن کے حامی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اگر امریکی صدر اوباما دوہا میں مذاکرات چاہتے تھے کیا وہ افغان طالبان کے حامی بن گئے تھے۔ کیا بھارت سے بہتر تعلقات کی کوشش کرنے والے میڈیا ہاؤسز نریندر مودی کے حامی ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قوم کے جذبات کا احترام نہ کرنے پر دوسرے ملک بھی ہماری پروا نہیں کرتے، ڈرون حملے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے عمران خان نے کہا کہ امریکہ اور حکومت پاکستان کسی نے ڈرون حملوں کے خلاف عدالت کے فیصلے کی کوئی پروا نہیں کی مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے پر تاحال امریکا نے معذرت نہیںکی 20 نومبر کو نیٹو سپلائی کو بلاک کریں گے امریکا سے جنگ نہیں کرنے جا رہے ہیں احتجاج ہمارا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کا مخالف ہوں امریکی جنگ میں شرکت کر کے تاریخی غلطی کی گئی۔ امریکا مذاکرات کرنے کی بجائے کہتا ہے کہ حکیم اللہ محسود امریکیوں کا قاتل ہے مگر ملا عمر نے تو حکیم اللہ محسود سے زیادہ امریکی مارے ہیں اس کے ساتھ امریکا کیوں بات چیت کر رہا ہے۔
http://e.jang.com.pk/11-12-2013/karachi/page1.asp#;
To get more updates on your mobile, Send F Jang_Akhbar 40404
Follow on Twitter @Geo_English @Geo_Urdu and @Jang_Akhbar
Like us on facebook.com/JangDotComDotPk