#JangColumn "Badash Kar Saken Tou Parhiye Ga...!" #LoudSpeaker by @AamirLiaquat Husain



برداشت کرسکیں توپڑھیے گا!...لاؤڈ اسپیکر۔۔۔۔۔ڈاکٹرعامرلیاقت حسین
میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکے نزدیک ذمہ داری کی تعریف کیا ہے؟ اگر سچ کو چھپانا ذمہ داری ہے تو پھر مبارک ہو کہ عرصے سے متلاشی افواہوں کو اُن کے والدین کا نام مل گیا، لوگ یوں ہی افواہ کو لاوارث قرار دیتے ہیں جبکہ وہ تو میڈیا کی لاڈلی بیٹی ہے....ہمارے دماغوں میں یہ بات آخر کیوں نہیں بیٹھتی کہ ہم جب بھی سچ دبائیں گے،افواہ ضرور جنم لے گیمجھے حیرت ہوتی ہے کہ خبر بتانے والے کو معلوم ہے،خبر لکھنے والا جانتا ہے ،خبر چھاپنے والا بے خبر نہیں،خبر نشر کرنیوالے کو بھی سب خبر ہے لیکن جنہیں خبر سنائی جارہی ہے اُنہیں شاید یہ سارے ذمہ دارغیرذمہ دار سمجھتے ہیں جبھی توحکمت کے نام پر حقائق کی لاش پر مصلحت کاکفن ڈال دیتے ہیں اور پھرمختلف پروگرامز کے درمیان آرکائیوز کے قبرستان میں اُسے رات کی تاریکی میں چُپ چاپ دفنادیتے ہیں۔
مجھے احساس ہے کہ ہم سب کو فساد کی چنگاری سے بچنا بھی چاہئے اور بچانا بھی!ہم پر لازم ہے کہ ہم آگ پر پانی ڈالنے کافریضہ انجام دیں نہ کہ اُسے مزید بھڑکانے کے لئے اطلاعات کے گرگٹ بن کر زور زور سے پھونک ماریں مگر جب سب کے علم میں ہو کہ دو گروہ کون ہیں تو اللہ کے واسطے دو گروہوں کی تکرار اور تان لگا کر اِس قوم کو احمق یا بیوقوف سمجھنے یا بنانے کی کوشش نہ کیجئے.....یاد رکھئے کہ اُلجھن قیاس آرائیوں کی ماں ہے، جب آپ قوم کو اُلجھاتے ہیں تو وہ چارو ناچار دیگر ذرائع سے رجوع کرتے ہیں اور پھر جتنے منہ اُتنی باتیں.... سیدھی سی بات ہے کہ اہل تشیع کا جلوس تھا اور دیوبندی حضرات کی مسجد.....دونوں اطراف سے امام عالی مقام کو اذیت پہنچائی گئی،سجدوں پر مُصر توحید کے علمبردار نمازیوں نے حسین ؓ کے سجدے کو بھلایا اور پیاسے نواسے کی شہادت پر اُن سے گہرے تعلق کے دعوے دار، عزادار اپنے امامِ مظلوم کا صبر ہی فراموش کر بیٹھے......اب ہم رسماً کتابی جملوں اور روایتی مذمت سے کام چلاکر اِس خودفریبی میں مبتلا ہیں کہ آگ بجھ جائے گی.....شاید وقتی طور پر ایسا ہو جائے، شاید سازش ڈی کوڈ کرلی جائے، شاید مسلمانوں کی صفوں میں روندے کچلے اتحاد کی مسخ شدہ لاش پچھلی، اگلی یا درمیانی صف میں پڑی مل جائے اور سب ہی اُس کے قتل پر توبہ کرتے ہوئے ایک ہو جائیں لیکن یہ کہتے ہوئے رہنماؤں کی زبانیں کیوں نہیں لڑکھڑاتیں کہ ہمارے درمیان کوئی فرقہ واریت نہیں.....یہ سب جھوٹ بولتے ہیں،انتہا درجے کے اِن لاعلموں کو یہ خیال چُھو کر بھی نہیں گزرتا کہ ایک دن اللہ کے سامنے سب کو جواب دہ ہونا ہے، فرقہ واریت نہ ہونا اِس کا نام نہیں کہ ہم سب ایک ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں اور آپس میں میل جول بھی رکھتے ہیں بلکہ فرقہ واریت کے ہونے کے لئے اِتنا ہی کافی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذہبی عقائد، قابلِ احترام اور لائق تکریم ہستیوں اور اُن سے وابستہ ایام کالحاظ کرنے کو ہی تیار نہیں۔
اے اللہ! تُو مجھے معاف کرناکہ اگر تُونے معاف نہ کیا تو میرے لئے کوئی جائے پناہ نہیں اور آپ سب پڑھنے والے بھی مجھ سے درگزر فرمائیے گا.....مگر.....میں یہ لکھے بغیر رہ نہیں سکتا کہ بچپن سے لے کر اب تلک ہر سال 12ربیع الاول کو مجھے یہی محسوس ہوتا ہے کہ میرے آقا و مولیٰ ، میرے سیدی،میرے مرشدی اور سب کے پیارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (معاذ اللہ) صرف اہل سنت وَجماعۃ یا سُنّیوں کے رسول ہیں......دیگر مسالک کے حضرات 12ربیع الاول کی تاریخ پر ایسے علمی اعتراض کرتے ہیں کہ جیسے اِن کی تحقیق کو اگر مان لیا جائے تو یہ بھی سُنّیوں کے ساتھ مل کر جشنِ میلاد مناتے......اِسی طرح شبِ معراج اور شبِ برأت کے اجتماعات مجھے شدت سے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اِس پورے پاکستان میں اُن مبارک راتوں کے فضائل بیان کرنے والے صرف سُنّی ہیں.....رمضان المبارک میں جب 21رمضان المبارک کو یومِ شہادتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم آتا ہے تو لگتا ہے کہ اللہ کا یہ شیر اور نبی کے عَلَم اور عِلم کا یہ علمبردار صرف اہل تشیع کی (معاذ اللہ) میراث ہے اور جب مُرادِ رسول،شہید ِ محراب ،امامِ عدل سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کایکم محرم الحرام کو یومِ شہادت آتا ہے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اُمت میں اِس یادِ شہادت کی ذمہ داری اہل سنت والجماعت نے اُٹھا رکھی ہے ......باقی دیگر متبرک و مقدس ہستیوں کی تو بات ہی چھوڑ دیجئے ، لہو جَلتا ہے جو اُن کے ساتھ ہورہا ہے.....البتہ میڈیایہ ضرور یاد رکھتاہے کہ کترینہ کیف، کرینہ کپور اور ایشوریا رائے کی سالگرہ کس دن آنے والی ہے، ویلنٹائن ڈے گویا ایک مذیبی فریضہ ہے جسے نہ مناناگناہِ کبیرہ کے مترادف ہے، مدرز ڈے اور فادرز ڈے ایسے ہیں کہ جیسے اِن ایام کے مناقب بیان کرنے کاحکم(معاذ اللہ) احادیث سے ثابت ہو لیکن مسلمانوں جیسے نام رکھنے والے ہمارے کہنہ مشق محققین اور بعض مستند صحافی قارئین و ناظرین کو یہ بتاتے ہوئے نہ جانے کیوں شرماتے ہیں کہ خاتونِ جنت بی بی فاطمۃ الزہرا ، محسنِ اُمت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور گہرِ نایاب ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہُنَّ جیسی عظیم ہستیوں کے ولادت یا وصال کے ماہ و سال کیا ہیں۔
تو پھر جواب دیجئے کہ کیا مجھ جیسے کم علم کو کوئی یہ بتاسکتا ہے کہ ہم تقسیم ہوئے بغیر یہ سب ایام مل کر کب منائیں گے؟ اور چلئے اگر مل کر منانے کی توفیق نہیں ہے تو منانے والوں سے روٹھنے اور ناک بھوں چڑھائے بنا اُنہیں منانے کی اجازت دینے کو بھی ہم تیار ہیں یا نہیں؟ بس! یہی فرقہ واریت ہے کہ ہم زبان سے تو مسلسل یہی کہے جائیں کہ سنی، شیعہ بھائی بھائی اور اپنی نجی محفلوں میں دونوں کو کوسیں، پھبتیاں کسیں اور اُن کے عقائد کا تمسخر اُڑائیںخطبات اور گفتگو میں 10محرم الحرام کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے اہل علم کی سانسیں پھول جاتی ہیں، جذبات کی میٹھی آبشاروں سے یہ سامعین کی سماعتوں کو نجات کے غسل دیتے ہیں،لفظوں کے تراشیدہ پُل صراط پر خطابت کے ہاتھوں کے سہارے یہ بیٹھے ہوؤں کو بھی پار لگادیتے ہیں، صبر کا درس دیتے دیتے اِن کی زبانوں کا رَس ختم ہوجاتا ہے لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے یعنی یومِ عاشور آتا ہے تو سب ایک دوسرے پر پِل پڑتے ہیں،کوئی شریعت کے نام پر اُکساتا ہے تو کوئی عقیدے کی بقا کے لئے خون بہاتا ہے اور ڈری سہمی انتظامیہ اور خوفزدہ میڈیا دوگروہوں کی راگنی گا کر سمجھتے ہیں سب ٹھنڈاہوجائے گا۔
ٹھنڈا تو ہوگیا ہے صاحب!ہم سب کا خون ٹھنڈا ہوگیا ہے، راولپنڈی میں مسجد تعلیم القران پر حملہ اُبلے ہوئے لہو کا شاخسانہ نہیں تھا بلکہ منجمد خون کے ٹکڑے پتھر،خنجر اور گولی بن کرایک دوجے کے عقائد پر برس رہے تھے، جب ہم سے غلطیاں ہوجاتی ہیں تو ہم تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں، پہلا اور دوسرا ہاتھ ہمیں اِس لئے نظر نہیں آتا کیونکہ وہ ظلم، تشدد اور فساد میں بے انتہا مصروف ہوتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ہمتیسرا ہاتھ فوراً دیکھ لیتے ہیں اور اپنا اپنا دامن بچانے کے لئے پہلے اور دوسرے ہاتھوں کی انگلیاں اُسی کی جانب اُٹھادیتے ہیںاللہ کو گواہ مان کر کہتاہوں کہ یہ ہم ہی ہیں کوئی اور نہیں، خطا تسلیم کرنے ہی میں عافیت ہے اور یہیں سے جزا و سزا کی راہیں نکلتی ہیں، سوچنا ہوگا کہ جو جلوس سالہا سال سے امام بارگاہ کرنل مقبول حسین سے برآمد ہوکر 3 بجے سہ پہر مسجد تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرتا تھا وہ اِس برس نمازِ ظہر سے پہلے کس طرح پہنچ گیا؟اور جواب تلاش کرنا ہوگا کہ مسجد کا لاؤڈ اسپیکر دل جوئی کے بجائے جلوس کے پہنچتے ہی دل آزاری کا سبب کیوں بنا؟
کرفیو لگا کر اور موبائل فون بند کر کے عارضی امن تو قائم کیا جاسکتا ہے لیکن دائمی امن کے لئے تمام مسالک کے سرکردہ قائدین، رہنماؤں اور علمائے کرام کو ہر اُس گھٹیا لٹریچر اور زہر اُگلتے خطابات سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہو گا جو عقیدوں کو ڈستے اور نظریات پر ہنستے ہیںلوگوں کو سچ بتائیے جناب!اور سچ یہ ہے کہ ہم میں اب قوتِ برداشتختم ہوچکی ہے ورنہ ہم15نومبرعالمی یوم برداشت کے دن وہ سب کچھ نہ کرتے جو ہم سے سرزد ہواکوئی کسی کو اِس ملک سے نکال سکتا ہے اور نہ ہی لاتعلقی کا اعلان کرسکتا ہے مگر ایک دوسرے کو برداشت کر کے ہی ہم سیکڑوں برس امن سے جی سکتے ہیں،عمرؓ کے چاہنے والے علیؓ کے ماننے والوں کے گلے لگ جائیں اور علی ؓ علیؓ کرنے والے صدیق ؓ و فاروقؓ کے عقیدت مندوں کو سرآنکھوں پر بٹھائیں اور سب مل کر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں بچھ جائیںاِس کے سوا اور کوئی حَل نہیںاللہ کی قسم اور کوئی حل نہیں!!!
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=147024
http://www.aamirliaquat.com/entries/Show/1697



ہر دلعزیز میزبان اور مذہبی ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اچھے اچھے پیغامات مفت میں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے ابھی ایس ایم ایس کیجئے
F @AamirLiaquat and SEND to 40404
Official website of Dr Aamir Liaquat Husain: www.aamirliaquat.com