امریکی امداد لینا بند کرو ‘پھر دیکھو!


کیری لوگر بل قومی اسمبلی میں پیش ہو رہا ہے۔ ارکان سے گزارش ہے کہ آپ لوگ پاکستان کی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ جس
طر* امریکی ارکان کانگریس نے یہ بل شرمناک شرطوں کے ساتھ بڑی بے شرمی سے منظور کر لیا ہے۔ اس کے جواب میں آپ لوگ بڑی بے باکی اور بے نیازی کے ساتھ اسے مسترد کر دیں۔ بالکل اس طر* یہ بل پھاڑ کر پھینک دیں جیسے گوجرہ میں مسی*یوں نے امریکی امداد کا *شر نشر کیا ہے۔ سب سے پہلے الماس *مید مسی* نے امدادی سامان امریکن قونصلیٹ سے وصول نہ کیا اور ا*تجاج کیا کہ امریکہ مسلم ممالک کے خلاف جار*یت کرتا ہے مسلمان ملکوں اور پاکستان میں اس کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے ان مخالفانہ پالیسیوں کا ردعمل ہوتا ہے۔ امریکہ امن قائم کرنے کے لئے اپنی پالیسیوں اور مقاصد کو بدلے۔ اس کے بعد دوسرے مسی*یوں نے سامان امریکی پرنسپل افسر مس کمیلا کوزوئے کی طرف پھینکنا شروع کر دیا۔ جس پر وہ خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلیں۔ پھر اسے سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی ت*ویل میں لے لیا۔ اس *فاظتی گرفتاری نے اسے بچا لیا۔ اس کے ساتھ صوبائی وزیر دوست م*مد کھوسہ اور پارلیمانی سیکرٹری پنجاب طاہر سندھو بھی بھاگ نکلے۔ چھوٹا کھوسہ عبوری وزیر اعلیٰ پنجاب بھی رہا ہے۔ امریکیوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ عوام ان کے خلاف ہیں اور ڈرپوک *کام انہیں نہیں بچا سکیں گے۔ مسی*ی عورتوں نے امدادی سامان ٹھوکروں میں اڑا دیا۔ اسے توڑ پھوڑ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ سینہ کوبی کرتے ہوئے کہا کہ امریکی امداد ہماری توہین ہے۔ شدید نعرے بازی اور ہلڑ بازی کی آوازوں نے ان تینوں کو *واس باختہ کر دیا۔ پھر وہ اکٹھے لاہور واپس آ گئے۔
میری گزارش سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیراعظم مخدوم گیلانی، چودھری پرویز الٰہی، اپوزیشن لیڈر چودھری نثار، اسفند یار ولی، مولانا فضل الر*من، ڈاکٹر فاروق ستار اور سارے ممبران سے ہے کہ وہ کیری لوگر بل کو بری طر* مسترد کر دیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان اس موقعے پر ایسی تقریر کریں جس کی گونج امریکہ تک سنائی دے۔ وہ یہ بھی مطالبہ کریں کہ امریکی سفیر بھی اس بل کے لئے اپنی امریکی *کومت سے کہیں کہ پاکستان کے عوام اور *کام سے معذرت کرے۔وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا بیان خوش آئند اور کچھ دلیرانہ ہے۔ ”امریکہ سے معاہدہ کیا ہے اور نہ شرائط ماننے کے پابند ہیں امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد غیر مشروط ہو گی ڈاکٹر قدیر تک رسائی نہیں دیں گے۔“ قمر الزمان سے میری اپیل ہے کہ وہ اپنی *کومت سے اپیل کریں کہ امریکہ کی غیر مشروط امداد بھی قبول نہ کریں وہ میری طرف سے صدر زرداری کی خدمت میں علامہ اقبالؒ کا یہ شعر پیش کر دیں....
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
میں مخدوم گیلانی سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ رسوائی اور توہین کی غلاظت سے بھرا ہوا یہ امدادی بل قومی اسمبلی میں مسترد کرنے کا اعلان کریں۔ خدا کی قسم پیپلز پارٹی کے کسی ممبر کی جرات نہ ہو گی کہ وہ آپ کی مخالفت کرے۔ ہر ممبر کے ووٹرز اور سترہ کروڑ عوام اس بے عزتی کے خلاف ہیں۔ کوئی پھر اپنے *لقے میں واپس کس طر* جائے گا۔ میں ہر *لقے کے لوگوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے غیرت مند ممبر کا جذبوں سے بھرے ہوئے دلوں کے پھولوں اور چشم براہ آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے آنسوﺅں سے ان کا استقبال کریں دوسری صورت میں سیاہ جھنڈوں سے ان کا استقبال کریں اور پھر کبھی انہیں یا ان کے خاندان کے کسی امیدوار کو ووٹ نہ دیں۔ انہیں اسمبلیوں میں لوگوں کی توہین کرانے کے لئے نہیں بھیجا جاتا۔
کیری لوگر بل کے دفاع کے لئے صدر زرداری نے اپنے پارٹی کے لوگوں کو کہا ہے تم امریکی بل کا دفاع کر لو یا پاکستان کا دفاع کر لو۔ وزیر دفاع ا*مد مختار پاکستان کے دفاع کے لئے تیار ہو جائیں۔ یہ وقت پاکستان بچانے کا ہے اپنی عزت مٹانے کا نہیں ہے۔ کیا یہ وہی پارٹی ہے جس کے چیئرمین بھٹو صا*ب نے کہا تھا کہ ہم لوگ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ پھر امریکی عزائم کے سامنے ڈٹ جانے پر انہیں عبرت کا نشان بنایا گیا۔ وہ تو عزت کا نشان بن گیا عبرت کا نشان اس کے جانشین بننا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے بے نظیر بھٹو کو کیوں مروایا؟ یہ کون نہیں جانتا۔ بی بی زندہ ہوتی تو یہ شرمناک امدادی پیکج مسترد کر دیتی۔ اسے امریکہ نے شہید کیا کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ وہ شخص جسے صدارت صرف بی بی کی نسبت سے ملی ہے اور وہ اس کی تصویر اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے۔ وہ لوگ جو یہ نعرہ لگاتے ہیں ”زندہ ہے بی بی زندہ ہے“ اسے زندہ رکھو۔ امریکہ کی شرمناک غلامی کے بعد وہ واقعی مر جائے گی۔ کہتے ہیں کہ امریکہ نے اسے مروایا کہ اس نے امریکہ کی غیر مشروط *مایت سے انکار کر دیا تھا۔ صدر زرداری کو امریکہ کی غیر مشروط *مایت کا *ق نہیں پہنچتا اور مشروط بھیک لینے کا بھی *ق نہیں۔ فوزیہ وہاب بڑے جذبے سے کہتی ہے کہ ہماری *کومت بی بی کی قربانی کی نشانی ہے تو پھر امریکہ کون ہے جو *کومت کو بھی مشروط امداد کہتا ہے کسی کی دی ہوئی *کومت غلامی سے بدتر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو کسی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں اور وہ کیری لوگر بل کو پاکستان کے لئے مناسب اور مفید نہیں سمجھتے تو اس بات کو *کمران کیوں نہیں سمجھتے کیا اس امداد کے بغیر ہم مر جائیں گے۔ یہ تو ہمارے بجٹ سے بھی بہت کم ہے۔ تو ہم نے پچھلا بجٹ اس کے بغیر بنا لیا تھا۔ صرف دو آدمی کیری لوگر بل کے *امی ہیں۔ *سین *قانی اور صدر زرداری۔ جب *سین *قانی امریکی سفیر یعنی امریکہ میں پاکستانی سفیر نہ تھے تو کام کس طر* چلتا تھا۔ پاکستان میں امریکی سفیر نے تو یہ کبھی نہیں سمجھا۔ یہ ہمارے ہر *کمران کی نفسیات ہے کہ میرے بغیر ملک کس طر* چلے گا۔ امریکہ کی طرف سے یہ تاثر دے دیا جاتا ہے کہ آپ کے بغیر پاکستان کا چلنا ممکن ہی نہیں۔ ہر فوجی *کمران اور غیر فوجی *کمران کا یہی خیال تھا۔ میں اپنے *کمرانوں کو جمہوری اور غیر جمہوری میں تقسیم نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ سیاسی اور غیر سیاسی کہا جا سکتا ہے۔ بھٹو صا*ب کا یہ خیال تھا کہ وہ ضروری ہیں تو یہ بات اتنی بھی غیر ضروری نہیں مگر صدر جنرل ی*یٰی بھی یہی سمجھتا تھا اسے یہ بات سمجھانے والے وہی لوگ تھے جو ہر فوجی *کمران کو سمجھانے والے تھے۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہ سیاستدان تھے اور وہی بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ارد گرد بھی تھے۔ اب بھی وہی ہیں جو کہتے ہیں اک زرداری سب پر بھاری۔ بھاری کے لفظ میں کیری لوگر بل کا صرف ک شامل کر لیا جائے تو بھکاری بن جاتا ہے۔اگر یہ امریکی امداد عزت مندانہ بھی ہے *الانکہ کوئی امداد عزت مندانہ نہیں ہوتی تو بھی اب اسے قبول نہ کیا جائے۔ اب یہ عزت مندانہ معاملہ نہیں ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اب امریکی امداد لینا بند کر دیا جائے۔ اس کے بغیر پاکستان خوب ترقی کرے گا اور بچ جائے گا۔ عوام کو تو امداد سے نہ پہلے کچھ ملا نہ اب ملے گا۔ *کام کے لئے بھی یہ امداد مفید ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے *کمران اس *قیقت کو جان پائیں تو واقعی *کمران بن جائیں۔ مگر اب یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک امریکی غلام یعنی پاکستانی *کمران جیسا کوئی آدمی تاج م*ل آگرہ کو دیکھ کر *یران پریشان ہو گیا اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اتنی شاندار عمارت امریکی امداد کے بغیر کیسے بن گئی تھی۔!