پاکستان میں جانوروں پر ہونے والا تشدد کسی *کومتی ادارے کی ترجی* میں شامل ہو یا نہ ہو مگر *یدرآباد سندھ کے ایک ٹیلر ماسٹر یعنی درزی نے اپنی بقیہ زندگی جانوروں خصوصًا گدھوں پر تشدد کے خلاف مہم جاری رکھنے کے لیے وقف کردی ہے۔

برکت اللہ *یدرآباد کے علاقے لیاقت کالونی کے رہائشی ہیں جہاں ان کے اکثر پڑوسی گدھا گاڑی والے ہیں۔ستاون سالہ برکت اللہ کے مطابق انہوں نے بے زبان جانوروں پر تشدد کی انتہا دیکھی ہے اور وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ وہ گدھوں کی پیٹھ پر ایسے زخم نہیں دیکھ سکتے جن میں گدھوں کے مالکان لاٹھی مارکر گدھے کو زیادہ تیز چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔زیادہ وزن اٹھانے سے برکت کے مطابق گدھوں کی سانس کی نالیاں پھٹ جاتی ہیں اور گرنے سے ان کے گھٹنے زخمی ہوجاتے ہیں مگر ان کا علاج نہیں کروایا جاتا ہے۔

برکت اللہ کی یہ مہم گزشتہ سات آٹھ مہینوں سے شدت اختیار کر گئی ہے اور گدھا گاڑی والے ان کی مہم سے تنگ آچکے ہیں۔برکت نے گدھے گاڑی والوں کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمات درج کیے ہیں اور وہ گدھوں کے مالکان کو مختلف سزائیں دلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔برکت کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کی وجہ سے بارہ سے چودہ گدھا گاڑی والوں کو سزائیں ہوئی ہیں۔

برکت نے اس مہم کو جاری رکھنے کے لیے دو وکیل کر رکھے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سات آٹھ مہینوں کے دوران گدھوں پر تشدد کے خلاف عدالتی مہم کے دوران خود ان کی جیب سے دو لاکھ سے زیادہ رقم خرچ ہوگئی ہے مگر اس کے باوجود وہ یہ مہم جاری رکھنے کا ارداہ رکھتے ہیں۔

برکت نے ابتدائی دنوں میں گدھا گاڑی والوں کو سمجھانے کی کوششیں کی مگر انہوں نے مایوس کن جواب دئیے۔برکت کے مطابق وہ بڑی بدتمیزی سے انہیں کہتے تھے کہ گدھے ہماری چیز ہیں ،تمہارے کیا رشتہ دار ہیں کہ تم ان پر تشدد سے منع کرتے ہو۔

مایوس کن جوابات سننے کے بعد برکت نے ایک چھوٹا جیبی سائز کا کیمرہ خریدنے کے بعد مارکیٹ کے علاقے اور دیگر جگہوں پر جا کر زخمی گدھوں اور زیادہ وزن اٹھانے والے گدھوں کی تصاویر بنائیں۔ تصویریں بناتے وقت انہوں نے گدھاگاڑی کے مالکان کو جھانسا دیا کہ بلدیہ میں زخمی جانوروں کے مالکان کو امدادی رقم دی جائے گی اور وہ ان کے فائدے کیلئے تصویریں لے رہے ہیں۔

انہوں نے تصاویر بنانے کے بعد خون آلود لکڑیاں بھی جمع کیں جس سے گدھے کو مارا جاتا ہے۔تمام شواہد جمع کرنے کے بعد انہوں نے اپنے وکلاء سے مشورہ کیا مگر وکیلوں نے انہیں مطلع کیا کہ فی الوقت ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے ت*ت وہ گدھوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو سزائیں دلواسکیں۔

برکت نے بعد میں اپنے وکلاء اشفاق اور سردار خان پٹھان کے مشورے سے مارکیٹ سے ایک کتاب خریدی جو اٹھارہ سو نوے کے قانون کے بارے میں تھی جس کے ت*ت گدھوں پر تشدد کرنے والے افراد کوایک ماہ سے ایک سال تک کی قید اور پچاس روپے جرمانے کی سزائیں دی جاسکتی تھیں۔

انہوں نے اپنی درخواست مقامی عدالت کے جج ارشاد *سین کی عدالت میں دائر کی جہاں پولیس نے گدھا گاڑی مالکان کو پیش کیا۔تمام گدھا گاڑی مالکان نے اعتراف جرم کیا اور ان میں سے اکثر کو جرمانے کی سزائیں ہوئیں۔

برکت کا کہنا ہے کہ گدھوں پر تشدد کے خلاف ان کی انفرادی مہم کو دیکھ کر بعض غیر سرکاری تنظیموں نے ان سے رابطہ کیا مگر انہوں نے تعاون سے معذرت کرلی کیونکہ وہ اپنے طریقے سے یہ مہم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

برکت نے بتایا کہ انہیں بچپن سے بے زبان جانوروں سے لگاوٴ رہا ہے۔انہوں نے اپنے گھر میں ایک نابینا بلی پال رکھی ہے جس کی دیکھ بھال وہ خود کرتے ہیں۔برکت نے کہا ہے کہ ان کی دوکان ان کے بیٹے سنبھال رہے ہیں اور انہوں نے اپنی بقیہ زندگی کو گدھوں پر تشدد کے خلاف مہم جاری رکھنے کے لیے وقف کردیا ہے۔

۔۔۔بشکریہ بی بی سی