کون یہودی ہے اور کون نہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی واض* جواب نہیں ہے۔

پیدائشی *ق، نسلی تعلق، تبدیلی مذہب اور یہودی مذہب کو ماننا یہودی ہونے کے ثبوت رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود کسی بھی شخص کے یہودی ہونے کے بارے میں صدیوں سے تذبذب رہا ہے۔

اسرائیل میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کے یہودی ہونے پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ یہ افراد خود کو یہودی کہتے ہیں لیکن ریاست انہیں یہودی نہیں مانتی ہے اور اسی لیے انہیں پوری طر* سے یہودی مذہب میں شمولیت *اصل نہیں ہوئی ہے۔

یہ وہ یہودی ہیں جو گزشتہ صدی میں سابق سویت یونین سے اسرائیل آئے تھے۔

وہ یہاں اس لیے آئے تھے کیونکہ وہ یہودی تھے لیکن شادی بیاہ اور آخری رسومات کے وقت یہودی مذہبی رہنماؤں نے ان سے کہہ دیا کہ وہ یہودی نہیں ہے۔

ریوکا کا خاندان سابق سویت یونین سے اسرائیل آئے تھے۔ اس وقت ریوکا ایک چھوٹی بچی تھی۔ اس وقت ریوکا ایک اسرائیلی لڑکے سے پیارکرتی ہیں اور ان سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

جب وہ سیناگوگ گئیں تو انہیں اس وقت دھچکا لگا جب وہاں انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ یہودی نہیں ہیں۔


ریوکا کہتی ہیں’ میرے ماں یہودی ہیں، میری دادی یہودی تھیں۔ یہ لوگ کون ہوتے ہیں اس بات کا فیصلہ کرنے والے کہ کون یہودی ہے کون نہیں۔ کیا دنیا میں یہودی صرف اسرائیل میں رہتے ہیں؟‘

ریوکا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے یہودی ہونے کا ثبوت دیں جس میں ان کی دادی کا فوٹو بھی شامل ہے یا پھر نئے سرے سے یہودی مذہب قبول کریں ۔

مذہب تبدیل کرنا کا مطلب ہے اٹھارہ مہینے تک ایک کٹر( قدامت پسند) یہودی کی زندگی گزارنا جس کے ت*ت وہ صرف یہودی شریعت کے ت*ت تیار کردہ کھانا کھائیں گی، اور سادہ کپڑیں پہنیں گی اور نہ سفر کریں گی، نہ کوئی کام کریں گیں۔ یہاں تک کہ وہ اس دوران قلم اور پینسل کو بھی نہیں چھو سکیں گی۔

گزشتہ برس انتخابی مہم کے دوران انتخابی پارٹی اسرائیل بیتینو نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تبدیلی مذہب کے مسئلے کو *ل کریں گے۔


اسرائیل بیتینو پارٹی کے ممبر پارلیمان ڈیوڈ روتیم ایک بل کی *مایت کر رہے ہیں جس میں نچلے درجے کے ربائیس یا یہودی مذہبی رہنما کو تبدیل مذہب کی اجازت دینے کا اقتدار ہوگا۔

ان کا کہنا ہے ’ اسرائیل میں اس وقت چار لاکھ ایسے افراد ہیں جو اسرائیل آئے تھے لیکن یہودی قانون کے ت*ت وہ یہودی نہیں ہیں۔‘

’وہ اسرائیل کا *صہ ہیں، وہ فوج میں داخل ہوتے ہیں، اور وہ ملک کی معیشت کے فروغ میں اپنا ایک کردار ادا کر رہے ہیں اس لیے وہ ان کے لیے مذہب کی تبدیلی کے عمل کو آسان کرنا چاہتے ہیں۔‘

اگر یہ بل پاس ہوجاتا ہے تو یہودیوں کا سب سے بڑا قدامت پسند ادارہ ربائنیت اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کون یہودی ہے اور کون نہیں۔

ربائنیت اس بات سے واض* طور پر خوش ہیں لیکن ہائفہ کے اہم مذہبی رہنما کا کہنا ہے کہ قدامت پسند ربائیس کو ہمیشہ سے یہ اختیار *اصل تھا۔

اس بات سے یہودیوں کے مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایک بل کے پاس ہونے سے سارا اختیار قدامت پسندوں کو *اصل ہوگا۔

جیری سلورمین امریکہ میں یہودیوں کی فیڈریشن کے سربراہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک تفرقہ پیدا کرنے والا قانون ہے۔


BBC News